نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

حمد باری تعالٰی از جگر مراد آبادی||حمدیہ اشعار||Hamd e Bari Taala az Jiger Murad Abadi

  حمد   تجھی    سے    ابتدا    ہے    ، تو ہی    اک    دن انتہا ہو گا صدائے    ساز    ہو    گی    اور    نہ    ساز    بے    صدا ہو گا ہمیں معلوم ہے ،ہم سے سنو ،محشر میں    کیا    ہو گا سب اس کو دیکھتے ہوں گے ،وہ ہم کو    دیکھتا    ہو گا سر محشر    ہم    ایسے    عاصیوں    کا       اور کیا    ہو    گا در جنت    نہ    وا    ہو گا،    در    رحمت تو    وا    ہو    گا جہنم ہو کہ    جنت    ، جو    بھی    ہوگا فیصلا        ہو گا یہ کیا کم    ہے    ؟ ہمارا    اور    ان    کا    سامنا    ہو گا نگاہ قہر پر بھی جان...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

ناصر کاظمی کی شاعری کا خصوصی مطالعہ||ناصر کاظمی کی غزل ||Nasir Kazmi ki Ghazal||جدید غزل

     ناصر کی شاعری کا خصوصی مطالعہ غزل ہماری شاعری میں مقبول صنف سخن رہی ہے اور ہماری ثقافت سے ،ہماری تہذیب سے ہم آہنگ صنف ہے۔بقول فراق گورکھ پوری: "غزل میں پوری تہذیب بول رہی ہے " نیز غزل اسلامی تہذیب سے کلی طور پر ہم آہنگ صنف ہے۔۱۸۵۷ء کے بعد ہندوستان میں تہذیبی ،سیاسی ،معاشرتی  اور علمی و  ادبی موڑ آیا۔ اس سانحے کے بعد ادبی طرز احساس یک سر تبدیل ہو گیا نو آبادیاتی دور میں مجموعی احساس اور سوچنے کے انداز بھی مکمل طور پر بدل گئے ۔ شاعری کو بھی نئی بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی گئی تو غزل کے بارے میں بھی شدید رد عمل پیدا ہوا  سب سے پہلے حالی نے "مقدمہ شعرو شاعری '' میں غزل کی اصلاح  کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں ۔   حالی غزل کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں مگر غزل پر ان کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اس میں   استعمال ہونے والی علامتیں  مسلسل استعمال کی وجہ سے فرسودہ ہو چکی ہیں چناں  چہ غزل میں جدت نہیں رہی  یعنی غزل جمود کا شکار ہو گئی ہے یوں حالی نے غزل کو طرز جدید  کی جانب لانے کی کوشش کی یہ اردو ادب میں جدیدیت کی پہلی رو تھی ۔...