ہم بونے ہیں اور ہم خوش ہیں خداوں کے ہر نئے تازیانے پہ ہمیں یہ سہولت ہے کہ ہماری تقدیر کو کئی بار لکھا جاتا ہے ہمارے خدا ہم سے خراج مانگتے ہیں ہماری زبانوں کا سوالوں کا عزت کے شملوں کا اور ہماری دستاروں کا وہ خدا ہیں ہماری خودسری سے نالاں چہرے سپاٹ اور ہر احساس سے عاری اپنی رعونت میں گم اپنی اپنی طبیعتوں کے موافق ہمیں دھیمی اور تیز آنچوں پہ ہیں پکاتے ہم ان کی بھٹیوں میں کندن بن کے خاموشی کا ہار گلے میں پہن کے ہر سو پھیل جاتے ہیں زندگی کا انکار کرتے ہیں ہم میں سے کوئی انگارہ چٹخ کے بھٹی سے باہر گر جائے تو خداوں کی قہر بار آنکھوں میں جو مدتوں سے خشک ہمیں گھور رہی ہیں خون کی نمی اتر آتی ہے اور وہ ایڑی سے مسل دیا جاتا ہے چٹاخ،چٹاخ ہم بونے ہیں||قیصر شہزاد ساقی||Qaisar Shahzad Saqi||Nazm ham bony hain
ادبی بیٹھک — اردو ادب کی دنیا ادبی بیٹھک اردو شاعری اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک معلوماتی پلیٹ فارم ہے، جہاں اردو شاعری، شعرا کا تعارف، ادبی اصطلاحات، اصنافِ سخن، شعری صنعتیں، ادبی مضامین اور اردو ادب سے متعلق مفید مواد پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں آپ کو اردو شاعری، غزل، نظم، شعرا و ادبا، ادبی اصطلاحات، شعری صنعتیں اور اردو ادب کے مختلف موضوعات آسان اور عام فہم انداز میں ملیں گے۔ ہمارا مقصد اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے قارئین، طلبہ اور ادب کے شائقین کے لیے مستند اور مفید معلومات