نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جولائی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہم بونے ہیں||قیصر شہزاد ساقی||Qaisar Shahzad Saqi||Nazm ham bony hain

    ہم بونے ہیں   اور ہم خوش ہیں خداوں کے ہر نئے  تازیانے پہ ہمیں یہ سہولت ہے کہ  ہماری تقدیر کو کئی  بار لکھا جاتا ہے ہمارے خدا ہم سے خراج مانگتے ہیں ہماری زبانوں کا سوالوں کا عزت کے شملوں کا اور  ہماری  دستاروں کا وہ خدا ہیں ہماری خودسری سے نالاں چہرے سپاٹ اور ہر احساس سے عاری اپنی  رعونت میں گم  اپنی اپنی طبیعتوں کے موافق  ہمیں دھیمی اور تیز آنچوں پہ      ہیں  پکاتے ہم ان کی بھٹیوں میں کندن بن کے خاموشی کا ہار گلے میں  پہن کے ہر سو پھیل جاتے ہیں زندگی کا انکار کرتے ہیں ہم میں سے کوئی انگارہ چٹخ کے بھٹی سے باہر گر جائے تو خداوں کی قہر بار آنکھوں میں جو مدتوں سے خشک  ہمیں گھور رہی ہیں خون کی نمی اتر آتی ہے اور وہ  ایڑی سے مسل دیا جاتا ہے چٹاخ،چٹاخ ہم بونے ہیں||قیصر شہزاد ساقی||Qaisar Shahzad Saqi||Nazm ham bony hain

Public Hospital by Qaisar Shahzad Saqi|Urdu poetry|شہر مریضاں از قیصر شہزاد ساقی

  Public Hospital by Qaisar Shahzad Saqi|Urdu poetry|شہر مریضاں از قیصر شہزاد ساقی   شہرِ مریضاں (پبلک ہسپتال میں ایک      مریض کی عیادت کے دوران) یہ آہوں کا مسکن یہ درد کی دنیا بچھائے ہیں یہاں کتنی عفریتوں نے جال دکھوں سے ستائے ،زخموں سے نڈھال یہ غلام ابنِ غلام ابنِ غلام لوگوں کا ڈیرا یہ شہرِ مریضاں ، یہ شہرِ مردگاں یہاں کون مرہم ؟؟؟ اک نازنین گلے میں سٹیتھو سکوپ لٹکائے کھلی زلفوں کو کندھوں پہ لہرائے کئی    پیٹ بھرے عاشقوں کی دھڑکنوں     کی امیں جس کے ہر ایک قدم پہ نثار ہزار دل جس کے اندازِناز سے زندگی بال سنوارے اس شہر کے بے درماں    مکینوں کے لیے کوئی مرہم نہیں، کوئی مرہم نہیں یہ کیسے دیکھوں؟ سسکتے    ، کرلاتے    جسم جو سنگ و خشت سے کھیلتے زمین کےزخم    سیتے یہاں آخری ہچکی لینے آئے ہیں ایک ہال ۲۰بسترِ مرگ یہاں جب کوئی    مکیں کم ہوتا ہے تو سب بے بسی کے عالم میں آنکھیں چار کرتے ہیں اور اک دوجے کو دلاسہ دیتے ہیں ہر دکھ کا مداوا ہے    قیصر شہزاد ساقیؔ Public Hospital by...

allama iqbal books name|| muhammad iqbal books|تصانیف اقبال مرتبہ|علامہ اقبال مضمون

     فکر اقبال پر مرتبہ کتب پہلا حصہ اقبال کی تصانیف یہاں ملاحظہ فرمائیں اقبال کے افکار  جو  کہ ان کی زندگی میں تو نہ چھپ سکے یا انھیں  کسی وجہ سے اقبال نے متروک کر دیا تھا وہ ان کی وفات کے بعد  مرتب کیے گئے۔ان میں اقبال کے ملفوظات ،مقالات و مضامین ،تقاریر و بیانات ،خطوط اور شعری کلام شامل ہے :- ۱-''اقبال کے نثری افکار'' مرتبہ  عبدالغفار شکیل   ۲۔''اوراق گم گشتہ'' مرتبہ ڈاکٹر رحیم بخش شاہین   ۳۔''حیات اقبال کے چند مخفی گوشے'' مرتبہ محمد حمزہ فاروقی   ۴۔''مضامین اقبال'' مرتبہ  تصدق حسین تاج   ۵۔''گفتار اقبال'' مرتبہ  محمد رفیق افضل   ۶-''حرف اقبال'' مرتبہ لطیف احمد شروانی   ۷۔''مقالات اقبال'' مرتبہ سید عبدالواحد معینی   ''    مرتبہ  شاملو   Speeches and Statements of Iqbal ''   ۸۔   ''    مرتبہ  شاملو   Speeches,Writings and Statements of Iqbal’’ ۹۔   ''    مرتبہ  سید عبدالواحد معینی Thoughts and Reflection of ...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

اردو ادب کی مختصر تاریخ نوٹس||بہمنی دور کا ادب||Behmani Dor ka urdu adab

  بہمنی دور کا ادب اردو ادب کی مختصر تاریخ نوٹس||بہمنی دور کا ادب پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں ظفر خاں افغاں نے بہمنی سلطنت    دکن کے علاقوں پر قائم    کی جو دو سو سال    تک قائم رہی ۔اس دور میں اردو زبان و ادب کی    خوب ترویج ہوئی اور نادر تصنیفات تخلیق ہوئیں اہم شعرا اور ان کی تصنیفات:۔ فخرالدین نظامیؔ ان کی مثنوی ’’ کدم راؤ پدم راؤ ‘‘ جو    ’’ مثنوی نظامی‘‘ کے نام سے بھی مشہور ہے اردو کی پہلی مثنوی ہے۔ مشتاقؔ مشتاقؔ کی پانچ غزلیں ڈاکٹر جمیل جالبی نے مرتب کر کے شائع کر دی ہیں لطفیؔ لطفیؔ کی ایک غزل اب تک کی تحقیق میں سامنے آ چکی ہے ۔ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز(وفات:۱۴۲۲) ان کے خانوادے نے تصوف کے حوالے سے اردو زبان کی بہت خدمت کی ۔ان کی تصانیف ’’ چکی نامہ‘‘ ،’’ معراج العاشقین‘‘ کے علاوہ ۱۲ رسائل بھی ان کے نام سے منسوب ہیں جن میں سے کچھ تصانیف رد بھی ہو چکی ہیں۔ شاہ میراں جی شمس العشاق(۱۴۰۷ تا ۱۴۹۸) شاہ میراں جی شمس العشاق    کی اہم تصانیف میں ’’ شہادت الحقیقت‘‘ ، ’’ خوش نامہ ‘‘ ، ’’ خوش نغز‘‘ اور ’’ مغز مرغوب‘‘ ہیں۔ ...

اردو زبان و ادب کا ارتقا||urdu adab ki history||history of urdu literature nots

   اردو تاریخ    نوٹس مرتب :قیصر شہزاد ساقیؔ یہ اردو زبان و ادب کے ارتقا کے نوٹس ہیں جن کا    بنیادی ماخذ’’اردو ادب کی تاریخ‘‘ از تبسم کاشمیری اور دوسری تواریخ ہیں۔ زمانہ طالب علمی میں  لیکچرر اور دوسرے اردو امتحانات    کے لیے تاریخ کا مطالعہ کیا اور نوٹس لیے تھے جنھوں نے پی پی ایس سی  میں سلیکشن کے دوران بہت مدد کی تھی     اب ان کو اکٹھا کرنے کا خیال ہواامید ہے یہ اردو کے طلبا کو ضرور پسند آئیں گے اور    آئندہ امتحانات میں    ان کی مدد    کریں گے: ·          شمالی ہند میں    ابتدائی زبان و ادب کا جائزہ مسعود سعد سلیمان(۱۰۴۸ ؁تا    ۱۱۲۱) ان کے عربی ، فارسی اور ہندوی دیوان کا ذکر ملتا ہے۔ امیر خسرو ؔ نے ان سے ۱۵۰ سال بعد ان کے دیوان کا ذکر کیا ہے    مگر ہندوی    کلام کا نمونہ دستیاب نہیں ہے ۔ ·          بابا فرید گنج شکر (؁۱۱۷۳ تا ۱۲۶۶) بابا فرید گنج شکر    کے منظو...