بہمنی دور کا ادب
اردو ادب کی مختصر تاریخ نوٹس||بہمنی دور کا ادب

ظفر خاں افغاں نے بہمنی سلطنت دکن کے علاقوں پر قائم کی جو دو سو سال تک قائم رہی ۔اس دور میں اردو زبان و ادب کی خوب ترویج ہوئی اور نادر تصنیفات تخلیق ہوئیں اہم شعرا اور ان کی تصنیفات:۔
فخرالدین نظامیؔ
ان کی مثنوی ’’ کدم راؤ پدم راؤ ‘‘ جو ’’ مثنوی نظامی‘‘ کے نام سے بھی مشہور ہے اردو کی پہلی مثنوی ہے۔
مشتاقؔ
مشتاقؔ کی پانچ غزلیں ڈاکٹر جمیل جالبی نے مرتب کر کے شائع کر دی ہیں
لطفیؔ
لطفیؔ کی ایک غزل اب تک کی تحقیق میں سامنے آ چکی ہے ۔
خواجہ بندہ نواز گیسو دراز(وفات:۱۴۲۲)
ان کے خانوادے نے تصوف کے حوالے سے اردو زبان کی بہت خدمت کی ۔ان کی تصانیف ’’ چکی نامہ‘‘ ،’’ معراج العاشقین‘‘ کے علاوہ ۱۲ رسائل بھی ان کے نام سے منسوب ہیں جن میں سے کچھ تصانیف رد بھی ہو چکی ہیں۔
شاہ میراں جی شمس العشاق(۱۴۰۷ تا ۱۴۹۸)
شاہ میراں جی شمس العشاق کی اہم تصانیف میں ’’ شہادت الحقیقت‘‘ ، ’’ خوش نامہ ‘‘ ، ’’ خوش نغز‘‘ اور ’’ مغز مرغوب‘‘ ہیں۔
فیروز بیدری:
ان کی تحریروں میں ’’ پرت نامہ‘‘ اور کچھ غزلیں شامل ہیں ان کی غزل میں محبوب سانولی رنگت میں سامنے آتا ہے۔
اشرف بیابانی(پ ۱۴۵۹):
ان کی مثنوی ’’ نو سر ہار ‘‘ اہل بیعت سے محبت کا اولین نقش ہے۔
بہمنی دور سلطان محمد شاہ کے ہاتھوں محمود گاواں کا قتل ہونے کے بعد سلطان خود بیمار ہو گیا اور وفات پا گیا جس سے بہمنی سلطنت کا شیرازہ بکھرنا شروع ہو گیا۔بہمنی سلطنت ۵ نئی شاہیوں میں تقسیم ہو گئی برار کے علاقوں پہ ’’ عماد شاہی‘‘ احمد نگر میں ’’نظام شاہی‘‘ ،بیدر کے علاقوں پہ’’ برید شاہی ‘‘ ، بے جا پور ’’عادل شاہی‘‘ جب کہ ’’قطب شاہی‘‘ گولکنڈہ کے علاقوں پر قائم تھی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں