فیلڈ
مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا جو فرد واحد کے
اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے
جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے اور محترمہ فاطمہ جناح
کے ساتھ کھڑے تھے نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی یہ نظم اس دور
میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’
تمھارا آئین نافذ نہیں ہو سکا ایک کمرے میں
رہنے والا ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے ‘‘ یہ
نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے
یہ جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔
نظم پڑھیں
دستور
حبیب جالب
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
Deep jis ka mehlaat hi mein jale
میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
Main nahin maanta main nahin jaanta
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم
کہو
جام رندوں کو ملنے لگے تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو
اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
Phool shaakhon pe khilne lage tum kaho
Jaam rindon ko
milne lage tum kaho
Chaak seenon ke
silne lage tum kaho
Is khule jhoot ko
zehan ki loot ko
Main nahin maanta
main nahin jaanta
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں
تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
Main nahin maanta main nahin jaanta
حبیب جالب
- صنعت حسن تعلیل اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت مبالغہ کی تعریف اور مثالیں یہاں پڑھیں
- مٖغربی نقادوں کے تنقیدی نظریات پڑھیں
- افسانہ ’’باسودے کی مریم‘‘ از اسد محمد خان یہاں پڑھیں
- افسانہ ’’ ترلوچن‘‘ از اسد محمد خان پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں
- ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی کی نظمیں یہاں پڑھیں
- اردو کی اصناف نظم و نثر پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں