صنعت مبالغہ کی تفہیم اور مثالیں
صنعت مبالغہ کلام میں ایسے الفاظ کا استعمال کرنا جن سے کسی شخص ، شے ، وصف یا کیفیت کا بیان خواہ بطور تعریف ہو مذمت اس طرح کرنا کہ حقیقت میں وہ خوبی اس حد تک اس میں نہ پائی جاتی ہو۔ مبالغہ کی چند مثالیں:
گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر
بھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر
انیسؔ کے اس شعر میں میدان کربلا کی گرمی کا مبالغہ آمیز بیان کیا گیا ہےایک اور مثال ملاحظہ ہو
گرمی کا روز جنگ کی کیوں کر کروں بیاں
ڈر ہے کہ مثل شمع نہ جلنے لگے زباں
کیا نزاکت ہے جو توڑا شاخ گل سے کوئی پھول
آتش گل سے پڑے چھالے تمھارے ہاتھ میں
محبوب کی نزاکت کا مبالغہ آمیز بیان
ہر آن ہم کو تجھ بن ایک اک برس ہوئی ہے
کیا آ گیا زمانہ اے یار رفتہ رفتہ
میر ؔ
اک دن فراق یار میں رویا میں اس قدر
پہنچا تھا چوتھے آسماں پہ پانی کمر کمر
گریہ و زاری کی عشق میں شدت اور مبالغہ آمیز بیان
کیا نزاکت ہے کہ عارض ان کے نیلے پڑ گئے
ہم نے تو بوسہ لیا تھا خواب میں تصویر کا
نزاکت محبوب کا بیان
دست نازک سےاٹھایا نہ گیا بار ِحنا
توڑا جو ایک پھول تو کلائی اتر گئ
کلائی کی نازکی کا خوبصورت بیان
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
محبوب کی زلف کی درازی کا بیان
آپ مزید پڑھ سکتے ہیں:۔
- صنعت تکرار اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت تجنیس اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- سہل ممتنع اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت مراعا ۃ النظیر اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت تضاد ، رعایت لفظی اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت لف و نشر اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت حسن تعلیل اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں