صنعت مبالغہ
''کسی چیز کی تعریف یا مذمت کوبڑھا چڑھا کر بیان کرنا یا کلام میں وہ بات کرنا جو عام حالات میں مشاہدے میں نہیں آتی لیکن کسی قرینے سے ممکن نظر آتی ہے '':
پانی تھا آگ ،گرمی روز حساب تھی
ماہی جو سیخ موج تک آئی کباب تھی
میدان کربلا میں دھوپ اور گرمی کا مبالغہ آمیز بیان ۔۔۔۔ماہی [مچھلی ] بھی اس شدید روز حساب جیسی گرمی میں پانی کے اندر ہی کباب بن چکی تھی ۔۔۔یہ بات عام مشاہدے میں کسی صورت ممکن نہیں لیکن کرب و بلا کے لق و دق صحرا میں خاندان نبوت کی تکلیفوں کے ساتھ شاعر بڑے قرینے سے اسے حقیقت بنا کے پیش کر دیتا ہے ۔
صنعت مراعات النظیر
''اس صنعت کو ایتلاف بھی کہتے ہیں ۔اس صنعت کے ذریعے کلام میں ایسے الفاظ لائے جاتے ہیں جن کے معنی میں ایک خاص مناسبت اور تعلق ہو لیکن یہ تعلق تضاد یا تقابل کا نہ ہو'':
ربط یک شیرازہ وحشت ہیں اجزائے بہار
سبزہ بیگانہ،صبا آوارہ،گل نا آشنا
لفظ ''بہار'' کی مناسبت سے ''سبزہ بیگانہ ''،''صبا آوارہ'' اور ''گل نا آشنا '' کو لایا گیا ہے کیوں کہ ان سب کا بہار سے براہ راست تعلق ہے ۔۔۔۔
آپ مزید پڑھ سکتے ہیں
- صنعت تکرار اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت تجنیس اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت مراعا ۃ النظیر اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت تضاد ، رعایت لفظی اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت لف و نشر اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت حسن تعلیل اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت مبالغہ کی تعریف اور مثالیں یہاں پڑھیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں