عنوان: رات
ماں !
وہ کالی رات
جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔
جس کے نقش
یادوں کے پارہ پارہ وجود سے
آج تک نہ مٹ پائے
اس رات
تقدیر تاریکی کے پیراہن میں
تیرے سرہانے کھڑی تھی
میں خاموش تماشائی
مصلحت کی عینک سے
ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں
لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی
تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا
(بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں )
میری ماں !
اس رات کتنا سکوت تھا
جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے
اور
موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
![]() |
نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے

ماں کے لیے یہ جذبات کتنے سچے ہیں
جواب دیںحذف کریں