تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations
لیکچر نمبر:۶
![]() |
| تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations |
ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر
| علامہ اقبال کی مشہور تصانیف |
تصانیف اقبال کا تعارف
۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء
بزم فکر اقبال پاکستان کے صدر جناب پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی فکر کے سرچشموں سے کماحقہ آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاکٹر موصوف نے جو کتب سن وار لکھوائیں ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں:-
۱۔''علم الاقتصاد'' سن اشاعت ۱۹۰۳ء
اقتصادی مباحث پر مبنی کتاب ہے ۔بعض محققین کے مطابق اردو میں پہلی کتاب ہے جو کہ معاشی مسائل پر مبنی ہے ۔اقبال اقتصادیات کے باقاعدہ طالب علم تو نہ تھے لیکن ان کی بعض بحثیں آج بھی کارآمد ہیں۔
The Development of Metaphysics in Persia
۲۔ ایران میں مابعد الطبیعات کا ارتقاء''سن اشاعت ۱۹۰۸ء
اقبال کا پی ایچ ۔ڈی کا مقالہ تھا جو لندن سے چھپا بعد میں اس کا اردو ترجمہ ''فلسفہ عجم '' کے نام سے ۱۹۴۴ ء میں شائع ہوا
۳۔''اسرار خودی '' سن اشاعت ۱۹۱۵ء
اقبال کی شاعری کا پہلا مجموعہ ہے جو کہ فارسی زبان میں ہے اسی میں اقبال نے خودی کا فلسفہ پیش کیا اور اس کے مراحل بیان
کیے
۴۔''رموز بے خودی '' سن اشاعت ۱۹۱۸ء
فارسی شاعری کا مجموعہ ہے خودی کے حصول اپنی ذات کے ادراک کے بعد اگلا مرحلہ آتا ہے بے خودی جہاں خودی قوم کے لیے وقف ہو جاتی ہے
۵۔'' پیام مشرق '' سن اشاعت ۱۹۲۳ء
فارسی شاعری کا مجموعہ ہے ۔گوئٹے کے ''دیوان مغربی'' کے جواب میں لکھا گیا ۔اقبال بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مشرق کے پاس کیا کچھ موجود تھا جو کہ اس نے لٹا دیا
۶۔''بانگ درا '' سن اشاعت ۱۹۲۴ء
پرانے وقتوں میں قافلے سفر کرتے تھے تو پڑاؤ کے بعد جب قافلہ رخصت ہونے لگتا تھا تو میر کارواں گھنٹی بجاتے تھے جسے بانگ درا کہتے تھے ۔یہ اقبال کا پہلا اردو زبان میں شعری مجموعہ ہے جو تین حصوں میں تقسیم ہے اور اقبال کا فکری ارتقاء اس کتاب میں پوری
طرح سامنے آتا ہے ۔
![]() |
| تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations |
حصہ اول ۔ابتدا سے ۱۹۰۵ تک:اس دور میں اقبال فطرت پہ لکھتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ وطن پرستی، حسن و جمال اور عشق
حصہ دوئم
۱۹۰۵دسے ۱۹۰۸ تک :یورپ کا قیام اور تہذیبی انحطاط
حصہ سوئم
۱۹۰۸ء سے ۱۹۲۴ء تک:اقبال کا نظریہ ملت اور امت مسلمہ کے مسائل قوم کے زوال کے اسباب اور بے عملی موضوع سخن رہا
اس مجموعے میں اقبال کی مشہور نظمیں مندرجہ ذیل ہیں:
''ہمالہ''،''شکوہ''،''جواب شکوہ''،''طلوع اسلام''،''خضرِراہ'' اور ''شمع و شاعر''
۷۔''زبور عجم '' سن اشاعت۱۹۲۷ء
مشرق کی زبور [فارسی شاعری ]
اگر ہو ذوق تو خلوت میں پڑھ زبور عجم
فغان نیم شبی بے نوائے راز نہیں
۸۔''جاوید نامہ '' سن اشاعت ۱۹۳۲ء
فارسی شاعری پر مشتمل مجموعہ ہے ۔اس میں آسمانی سفر کا بیان ہے جو مرید ہندی نے پیرو مرشد مولانا روم کی معیت میں کیا ۔۔۔اس سفر میں جو کہ تصوراتی ہےاقبال نے تاریخ کے کئی کرداروں سےمکالمہ کیا ۔۔۔۔اقبال نے اس کتاب کے بارے میں ایک خط میں لکھا ہے کہ اس نے میرا خون نچوڑ لیا ہے اور مجھے تھکا دیا ہے
۹۔''مسافر '' سن اشاعت ۱۹۳۴ء
اقبال کی فارسی مثنوی ہے افغانستان کے بادشاہ نے جب وہاں تعلیمی اصلاحات کے لیے آپ کو بلایا تو آپ نے اس سفر کی روداد اور مشاہدات اس کتاب میں مثنوی کی صورت میں قلم بند کیے
The Reconstruction of Religious Thoughts in Islam۱۰۔
سن اشاعت ۱۹۳۴ء
اقبال کے جدید اسلامی فکر پہ دئیے گئے خطبات ہیں جو بعد میں اکٹھے کر کے شائع کر دئیے گئے ان کا اردو ترجمہ
''تشکیل جدید الہیاتِ اسلامیہ '' کے نام سے سید نذیر نیازی نے اقبال کی زندگی میں شروع کر دیا تھا جو بعد میں شائع ہو گیا
۱۱۔''بالِ جبریل '' سن اشاعت ۱۹۳۵ء
اردو شاعری کا مجموعہ ہے جس میں اقبال کی لازوال نظمیں '' ذوق و شوق''، ''مسجد قرطبہ '' اور ''ساقی نامہ '' شامل ہیں ۔۔یہ اقبال کے فن کی معراج کا زمانہ ہے اور ان نظموں سے اس کے کلام کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے
۱۲۔''پس چہ باید کرد اے اقوام شرق '' سن اشاعت ۱۹۳۶ء
فارسی مثنوی ہے
۱۳۔''ضربِ کلیم '' سن اشاعت ۱۹۳۶ء
اقبال اسے دور جدید کے خلاف جنگ کہتے ہیں اردو زبان میں لکھا گیا شعری مجموعہ ہے جو اپنے مشمولات اور منظومات کے حوالے سےصحیح معنوں میں جدید مگر اقدار سے عاری معاشرے کے خلاف جنگ ہے۔۔۔نظم''سلطان ٹیپو کی وصیت '' اسی مجموعے مین شامل ہے ۔۔۔
۱۴۔'' ارمغان حجاز '' سن اشاعت ۱۹۳۸ء
یہ مجموعہ فارسی شاعری اور اردو شاعری کا مشترکہ مجموعہ ہے اقبال اپنی زندگی میں اس کی ترتیب کا کام مکمل کر چکے تھے لیکن اس کی اشاعت آپ کی وفات کے بعد چودھری محمد حسین کی نگرانی میں وقوع پذیر ہوئی ۔۔۔۔
اقبال کی معرکۃالآرا نظم '' ابلیس کی مجلس شورٰی '' اسی مجموعے میں شامل ہے ۔
ہے وہی شعرو تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات
مست رکھو ذکرو فکر ِ صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے
اس کے ساتھ ہی اقبال کی وہ کتابیں جو ان کی زندگی میں شائع ہو ئیں ان کی فہرست مکمل ہوتی ہے ڈاکٹر محمد قمر صاحب [صدر بزم فکر اقبال پاکستان] نے انھیں اقبال کی مستقل تصنیفات کا درجہ دیا ہے کیوں کہ یہ کتابیں انھوں نے خود لکھیں اور چھپوا دیں ۔۔۔اس کے بعد اقبال کی ان کتابوں کے نام آتے ہیں جو لوگوں نے مرتب کی ان میں اقبال کی تقاریر،ملفوظات ،خطوط،باقیات اور چند نامکمل کتابیں ہیں ۔۔۔۔۔لیکچر کا
Click Here دوسرا حصہ ملاحظہ فرمانے کے لیے
رپورٹ:قیصر شہزاد ساقی





تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں