۱۔جب تمھارے بارے میں سوچا جاتا ہے
لفظوں کو پر لگ جاتے ھیں
اوروہ تتلیوں کے ساتھ
ریگستانی کھیتوں تک سفر کرتے ھیں
جہاں تارا میرا کے پھولوں کی زردی
کسی دہقانی دوشیزہ کی بے ترتیب دھڑکنوں
اور مدور اٹھانوں سے پھوٹتی روشنی
اور ہتھیلی سے اٹھتی حنائی خوشبو
کے ساتھ آمیز ھوتی ھے
لفظوں کو پر لگ جاتے ھیں
اور وہ سفید پروں والے مہاجر پرندوں کے ساتھ
سبز پانیوں اور نیلی جھیلوں کے اوپر سے گزرتے ھیں
اور بادلوں میں گم ھو جاتے ھیں
جب تمھارے بارے میں سوچا جاتا ھے تو
دنیا کی ساری زبانوں کے لفظوں کو پر لگ جاتے هیں
اور وہ نظمیں بن جاتے ھیں
۲
**چاغی میں موت**
بادشاہ سلامت! اگر جشن ختم ھو گیا ھو تو صبح سات بجے دفتر پہنچنے
سے پہلے ایک نظر ادھر بھی
میرے معزول کپتان!
اگر دکھ کی شدت میں کچھ کمی آئی ھو تو لاکھوں کے
جلسے میں دو لفظ ان کے لیے بھی
اے عدل و انصاف کے پیکر! اگر چوبیس گھنٹے کام کرکے
کچھ فرصت ملے تو دو منٹ یہاں بھی
میری سلامتی کے ضامن!
یہ سرحد بھی آپ کی اقلیم ھے
میرے قوم پرست راهنما!
اگر اقتدار میں خاطر خواہ حصہ مل گیا ھے توایک نگاہ اپنے محکوموں پر بھی
میرے مزاحمتی شاعر!
اگر قصیدہ مکمل ھو گیا ھے تو ایک نظم ان کے لیے بھی
میرے ملک کے چوتھے ستونو!
اگر اشتہار پورے ھیں تو پرائم ٹائم میں ایک بریکنگ نیوز
یہ بھی
میرے فیس بک کے دانشورو!
اگر گالیاں ختم ھو چکی ھیں تو ایک پوسٹ اس پر بھی
کہ چاغی کے تپتے ھوئے صحرا میں کچھ غریب انسان بے چارگی کی موت مارے گئے ھیں۔
۳
* چولستان میں بارش ھو سکتی ھے *
چولستان میں بارش ھو سکتی ھے
اگر کراچی اور لاھور کے لوگ
جانوروں کاجوٹھا پانی پینے کے عادی ھو جائیں
چولستان میں بارش ھو سکتی ھے
اگر بین کی آواز پر سانپوں کے بجائے
هم سب مل کر جھمر ڈالیں
چولستان میں بارش ھو سکتی ھے
اگر چنری کے رنگوں کو
قومی پرچم میں شامل کر لیا جائے
اور چولستان میں بارش ھو سکتی ھے
اگر شاعر چولستانیوں سے ووٹ مانگنے کے بجائے
چولستانیوں کے لیے نظمیں لکھیں
هم چوتھی دنیا کے لوگ ھیں
۴
هم ادھار کی نیند سوتے ھیں
اور پرائی آنکھوں سے خواب دیکھتے ھوئے مر جاتے ھیں
هم لنڈے کے جوتے پہن کر
تارکول کی سڑکوں پر چلتے ھیں
جن کے تلوے راستوں سے چپک جاتے ھیں
هم پاؤں کے چھالے اور تلووں کی چھید گنتے ھوئے
کمزور مردوں کی طرح رو پڑتے ھیں
همارے دن بھر کی ریزگاری
ھماری جیبوں میں گم ھو جاتی ھے
هم قمیص کے سوراخوں سے دنیا کو دیکھتے ھیں
اور بچوں کی طرح ہنس پڑتے ہیں
ھم اپنی پیشانیوں پر ماؤں کے بوسے کا لمس محسوس کرتے ھوئے بوڑھے ھو جاتے ھیں
اور اپنی بیویوں کے ساتھ هم بستری کرنے سے پہلے
نڈھال ھو کر آنسوؤں میں جذب ھو جاتے ھیں
ھمارے بچے سکول میں پڑھی ھوئی نظمیں
ھمارے جسموں کے ملبے پر بیٹھ کر یاد کرتے ھیں
اور ھمارے بادشاہ ھم سے ھر رات
باکرہ لڑکیوں کا تقاضا کرتے ھیں
۵
هم ایک دوسرے کو کتنا جان سکتے ہیں
هم ایک دوسرے کو کتنا جان سکتے ہیں
اپنے لباس سے
فیس بک پروفائل
اخبار میں چھپے ہوئے فوٹو
یا کسی تحریر سے
کمپیوٹر شمار نہیں کر سکتا
ان زمانوں کو
جو ھم پر بیت گئے
ہم نے کتنا وقت گزارا
خود کو پڑھتے ہوئے
یا ایک دوسرے کا انتظار کرتے ہوئے
رشتوں میں لگے ہوئے پیوند
کسی مشین میں دکھائی نہیں دیتے
دل میں ایک درندہ بیٹھا ھے
جو سی ٹی سکین میں نظر نہیں آتا
خوف کی ایک وجہ ہوتی ھے
خواب کی تعبیر کچھ بھی ہو سکتی ہے
ھم کچھ نہ کچھ چھپانے پر مجبور ھوتے ہیں
۶
ایک وعدے کی تکمیل میں
میں سفر آغاز کرتا ہوں
میری لکھی ہوئی کتابیں گودام میں پڑی ہیں
جن پر مکڑی جالا بنائے گی
تم برسات کے بعد بچ جانے والے لفظوں کو دھوپ میں رکھ دينا
دیوار کے پیچھے خوابوں کی ایک زنجیر پڑی ھے
تم بہار آنے سے پہلے
رنگین پروں والی تتلیوں کو اس زنجیر سے آزاد کر دینا
سفر آغاز کرنے سے پہلے میں رونا چاہتا ھوں
رونے کی ایک سے زیادہ وجہیں ھو سکتی ہیں
ایک بار رویا جا سکتا ہے
عصر کے بعد گھر چھوڑے جانے کے دکھ میں
کھونٹے سے بندھی ھوئی مقدس گائے کے آنسوؤں کی یاد میں
یا کارنس پر رکھی ہوئی اپنے باپ کی اکلوتی تصویر کو دیکھ کر
تمھارے ساتھ گزارا ہوا ایک پل ایک عمر کے برابر ہو سکتا ہے
ایک سفر مکمل کر سکتا ھے ایک زندگی کو
طاق پر رکھے ھوئے ایک وعدے کی تکمیل میں
ایک عمر دان کی جا سکتی ھے
میں سفر آغاز کرتا ھوں
سنگل ٹریک پر جانے والی ریل جب سیٹی بجائے گی
تم ہاتھ ہلا کر مجھے رخصت کرنا
اور اس سے پہلے
Dr Aurangzeb Niazi


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں