نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نظمیں از ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی||نظم شاعری||Doc Aurang Zeb Niazi||جدید نظم

 

۱۔جب تمھارے بارے میں سوچا جاتا ہے

 لفظوں کو پر لگ جاتے ھیں

 اوروہ تتلیوں کے ساتھ

 ریگستانی کھیتوں تک سفر کرتے ھیں 

جہاں تارا میرا کے پھولوں کی زردی

کسی دہقانی دوشیزہ کی بے ترتیب دھڑکنوں

اور مدور اٹھانوں سے پھوٹتی روشنی

 اور ہتھیلی سے اٹھتی حنائی خوشبو

 کے ساتھ آمیز ھوتی ھے 

لفظوں کو پر لگ جاتے ھیں

 اور وہ سفید پروں والے مہاجر پرندوں کے ساتھ

 سبز پانیوں اور نیلی جھیلوں کے اوپر سے گزرتے ھیں

 اور بادلوں میں گم ھو جاتے ھیں

 جب تمھارے بارے میں سوچا جاتا ھے تو

دنیا کی ساری زبانوں کے لفظوں کو پر لگ جاتے هیں

 اور وہ نظمیں بن جاتے ھیں


۲

چاغی میں موت از ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی||جدید اردو نظم||Dr Aurang Zeb Niazi||اردو شاعری



 **چاغی میں موت**

 

بادشاہ سلامت! اگر جشن ختم ھو گیا ھو تو صبح سات بجے دفتر پہنچنے

سے پہلے ایک نظر ادھر بھی

میرے معزول کپتان!

 اگر دکھ کی شدت میں کچھ کمی آئی ھو تو لاکھوں کے

جلسے میں دو لفظ ان کے لیے بھی

اے عدل و انصاف کے پیکر! اگر چوبیس گھنٹے کام کرکے

 کچھ فرصت ملے تو دو منٹ یہاں بھی

میری سلامتی کے ضامن!

یہ سرحد بھی آپ کی اقلیم ھے

میرے قوم پرست راهنما!

 اگر اقتدار میں خاطر خواہ حصہ مل گیا ھے توایک نگاہ اپنے محکوموں پر بھی

میرے مزاحمتی شاعر!

 

اگر قصیدہ مکمل ھو گیا ھے تو ایک نظم ان کے لیے بھی

 میرے ملک کے چوتھے ستونو!

 اگر اشتہار پورے ھیں تو پرائم ٹائم میں ایک بریکنگ نیوز

یہ بھی

 میرے فیس بک کے دانشورو!

اگر گالیاں ختم ھو چکی ھیں تو ایک پوسٹ اس پر بھی

کہ چاغی کے تپتے ھوئے صحرا میں کچھ غریب انسان بے چارگی کی موت مارے گئے ھیں۔

۳


 * چولستان میں بارش ھو سکتی ھے *

چولستان میں بارش ھو سکتی ھے

 اگر کراچی اور لاھور کے لوگ

جانوروں کاجوٹھا پانی پینے کے عادی ھو جائیں

چولستان میں بارش ھو سکتی ھے

 اگر بین کی آواز پر سانپوں کے بجائے

هم سب مل کر جھمر ڈالیں

چولستان میں بارش ھو سکتی ھے

 اگر چنری کے رنگوں کو

 قومی پرچم میں شامل کر لیا جائے

اور چولستان میں بارش ھو سکتی ھے

 اگر شاعر چولستانیوں سے ووٹ مانگنے کے بجائے

 چولستانیوں کے لیے نظمیں لکھیں  

هم چوتھی دنیا کے لوگ ھیں

۴

 هم ادھار کی نیند سوتے ھیں

 اور پرائی آنکھوں سے خواب دیکھتے ھوئے مر جاتے ھیں

 هم لنڈے کے جوتے پہن کر

تارکول کی سڑکوں پر چلتے ھیں

 جن کے تلوے راستوں سے چپک جاتے ھیں

 هم پاؤں کے چھالے اور تلووں کی چھید گنتے ھوئے

 کمزور مردوں کی طرح رو پڑتے ھیں

همارے دن بھر کی ریزگاری

ھماری جیبوں میں گم ھو جاتی ھے

هم قمیص کے سوراخوں سے دنیا کو دیکھتے ھیں

اور بچوں کی طرح ہنس پڑتے ہیں

 ھم اپنی پیشانیوں پر ماؤں کے بوسے کا لمس محسوس کرتے ھوئے بوڑھے ھو جاتے ھیں

اور اپنی بیویوں کے ساتھ هم بستری کرنے سے پہلے

 نڈھال ھو کر آنسوؤں میں جذب ھو جاتے ھیں

 ھمارے بچے سکول میں پڑھی ھوئی نظمیں

 ھمارے جسموں کے ملبے پر بیٹھ کر یاد کرتے ھیں

 اور ھمارے بادشاہ ھم سے ھر رات

 باکرہ لڑکیوں کا تقاضا کرتے ھیں

۵


 هم ایک دوسرے کو کتنا جان سکتے ہیں

 هم ایک دوسرے کو کتنا جان سکتے ہیں

اپنے لباس سے

فیس بک پروفائل

 اخبار میں چھپے ہوئے فوٹو

یا کسی تحریر سے

 کمپیوٹر شمار نہیں کر سکتا

ان زمانوں کو

جو ھم پر بیت گئے

ہم نے کتنا وقت گزارا

 خود کو پڑھتے ہوئے

یا ایک دوسرے کا انتظار کرتے ہوئے

رشتوں میں لگے ہوئے پیوند

کسی مشین میں دکھائی نہیں دیتے

دل میں  ایک درندہ بیٹھا ھے

جو سی ٹی سکین میں نظر نہیں آتا

 خوف کی ایک وجہ ہوتی ھے

 خواب کی تعبیر کچھ بھی ہو سکتی ہے

 ھم کچھ نہ کچھ چھپانے پر مجبور ھوتے ہیں 


۶


 ایک وعدے کی تکمیل میں

 میں سفر آغاز کرتا ہوں

میری  لکھی ہوئی کتابیں گودام میں پڑی ہیں

 جن پر مکڑی جالا بنائے گی

 تم برسات کے بعد بچ جانے والے لفظوں کو دھوپ میں رکھ دينا

دیوار کے پیچھے خوابوں کی ایک زنجیر پڑی ھے

 تم بہار آنے سے پہلے

رنگین پروں والی تتلیوں کو اس زنجیر سے آزاد کر دینا

 سفر آغاز کرنے سے پہلے میں رونا چاہتا ھوں

 رونے کی ایک سے زیادہ وجہیں ھو سکتی ہیں

 ایک بار رویا جا سکتا  ہے

عصر کے بعد گھر چھوڑے جانے کے دکھ میں

کھونٹے سے بندھی ھوئی مقدس گائے کے آنسوؤں کی یاد میں

 یا کارنس پر رکھی ہوئی اپنے باپ کی اکلوتی تصویر کو دیکھ کر

تمھارے ساتھ گزارا ہوا ایک پل ایک عمر کے برابر ہو سکتا ہے

  ایک سفر مکمل کر سکتا ھے ایک زندگی کو

طاق پر رکھے ھوئے ایک وعدے کی تکمیل  میں

ایک عمر دان کی جا سکتی ھے

میں سفر آغاز کرتا ھوں

سنگل ٹریک پر جانے والی ریل جب سیٹی بجائے گی

 تم ہاتھ ہلا کر مجھے رخصت کرنا

اور اس سے پہلے

اپنے کچھ نقرئی قہقہے میرے سامان میں رکھ دینا



هم ایک دوسرے کو کتنا جان سکتے ہیں||ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی||Dr Aurangzeb Niazi

Dr Aurangzeb Niazi

ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی

پروفیسر  اردو ،گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز ،لاہور

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری