عنوان: رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے
ادبی بیٹھک — اردو ادب کی دنیا ادبی بیٹھک اردو شاعری اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک معلوماتی پلیٹ فارم ہے، جہاں اردو شاعری، شعرا کا تعارف، ادبی اصطلاحات، اصنافِ سخن، شعری صنعتیں، ادبی مضامین اور اردو ادب سے متعلق مفید مواد پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں آپ کو اردو شاعری، غزل، نظم، شعرا و ادبا، ادبی اصطلاحات، شعری صنعتیں اور اردو ادب کے مختلف موضوعات آسان اور عام فہم انداز میں ملیں گے۔ ہمارا مقصد اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے قارئین، طلبہ اور ادب کے شائقین کے لیے مستند اور مفید معلومات
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں