نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

ستمبر, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

صنعت مبالغہ کی تفہیم اور مثالیں|PPSC urdu lecturer Test preparation 2022||sant e mubalgha

  صنعت مبالغہ کی تفہیم اور مثالیں صنعت مبالغہ کلام میں ایسے الفاظ کا استعمال کرنا جن سے کسی شخص ، شے ، وصف یا کیفیت کا بیان خواہ بطور تعریف ہو مذمت اس  طرح کرنا  کہ حقیقت میں وہ خوبی اس حد تک اس میں نہ پائی جاتی  ہو۔ مبالغہ کی چند مثالیں:   گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر  بھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر انیسؔ کے اس  شعر میں میدان کربلا  کی گرمی کا مبالغہ آمیز  بیان  کیا گیا ہےایک اور مثال ملاحظہ ہو گرمی کا روز جنگ کی کیوں کر  کروں   بیاں ڈر ہے کہ مثل شمع نہ جلنے لگے زباں کیا نزاکت ہے جو توڑا شاخ گل سے کوئی پھول آتش گل سے پڑے چھالے تمھارے ہاتھ میں محبوب کی نزاکت کا مبالغہ آمیز بیان   ہر آن ہم کو تجھ بن ایک اک برس ہوئی ہے کیا آ گیا زمانہ اے یار رفتہ رفتہ میر ؔ     اک دن فراق یار میں رویا میں اس قدر  پہنچا تھا چوتھے آسماں پہ پانی کمر کمر گریہ و زاری کی عشق میں شدت اور مبالغہ آمیز بیان کیا نزاکت ہے کہ عارض ان کے نیلے پڑ گئے ہم نے تو بوسہ لیا تھا خواب میں تصویر کا نزاکت محبوب کا بیان دست نازک سےاٹھایا...

صنعت مراعات النظیر کی تعریف||صنعت مبالغہ کی تعریف و مثالیں||اردو شاعری کی صنعتیں

     صنعت مبالغہ ''کسی چیز کی تعریف یا مذمت کوبڑھا چڑھا کر بیان کرنا یا کلام میں وہ بات کرنا جو عام حالات میں مشاہدے میں نہیں آتی لیکن کسی قرینے سے ممکن نظر آتی ہے '': پانی تھا آگ ،گرمی روز حساب تھی ماہی جو سیخ موج تک آئی کباب تھی میدان کربلا میں دھوپ اور گرمی کا مبالغہ آمیز بیان ۔۔۔۔ماہی [مچھلی ] بھی   اس شدید روز حساب جیسی گرمی میں پانی کے اندر ہی کباب بن چکی تھی ۔۔۔یہ بات عام مشاہدے میں کسی صورت ممکن نہیں  لیکن کرب و بلا کے لق و دق صحرا میں خاندان نبوت  کی تکلیفوں کے ساتھ شاعر بڑے قرینے سے اسے حقیقت بنا کے پیش کر دیتا ہے ۔   صنعت مراعات النظیر     ''اس صنعت کو ایتلاف بھی کہتے ہیں ۔اس صنعت  کے ذریعے کلام میں ایسے  الفاظ  لائے جاتے ہیں جن کے معنی میں ایک خاص مناسبت اور تعلق ہو لیکن  یہ تعلق تضاد یا تقابل کا نہ ہو'': ربط یک شیرازہ  وحشت ہیں اجزائے بہار سبزہ بیگانہ،صبا آوارہ،گل نا آشنا لفظ ''بہار'' کی مناسبت سے ''سبزہ بیگانہ ''،''صبا آوارہ'' اور ''گل نا آشنا '' کو لایا گیا ہے  کیوں کہ ان سب ک...

صنعت تضاد||رعایت لفظی||اردو کی مشہور صنعتیں||Tazad||riyat-e-lafzi

    صنعت تضاد ‘’جب کلام میں ایسے الفاظ لائے جائیں جو معنی کے لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہوں ‘’ یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل ہے سو اتنا ہے رات  کو رو رو صبح کیا اور دن کو جوں توں شام کیا اس شعر میں سپیدوسیہ ،رات و دن اورصبح و شام متضاد الفاظ ہیں ۔۔۔   صنعت تضاد/صنعت تضاد کی مثالیں آپ صنعت تضاد کی تعریف سے آگاہ ہوچکے ہیں  یہاں آپ کی آسانی کے لیے مزید مثالوں   کی مدد سے صنعت تضاد سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔۔۔ خندۂ اہل جہاں کی  مجھے   پروا   کیا  تھی تم بھی ہنستے ہو میرے حال پہ، روناہے یہی ·         دوسرے مصرعے میں ہنسنے اور رونے کا ذکر کر کے تضاد کی صورت پیدا کی گئی ہے      خیرو  شر کو سمجھ کہ ہیں دو زہر  سانپ کی زیست ہی تجھے سم ہے ·         خیر اور شر دو متضاد الفاظ ہیں   ہزار مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سے  اگر نصیب ترے کوچے کی گدائی ہو ·         پہلے مصرعے میں بادشاہی اور دوسرے مصرعے می...

صنعت لف و نشر||لف ونشر کی تعریف ||لف و نشر کی شعری مثالیں||Laf o nashr ||اردو اصطلاحات

    صنعت لف و نشر •           لف کا مطلب ہے لپیٹنا  اور نشر کا مطلب ہے پھیلانا                              ‘’لف سے مراد ہے کہ چند چیزوں کا ذکر کیا جائے اور نشر                               کا مطلب ہے کہ ان چیزوں کے مناسبات کو باترتیب یا                              بے ترتیب بیان کیاجائے ‘’ اس کی تین صورتیں ہیں ۔۔۔۔ Ø      لف و نشر مرتب:جس ترتیب میں لف ہو اسی ترتیب سے نشر آئے                    ...

صنعت حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں| sanat e husn taleel example||اردوکی مشہور اور اہم صنعتیں لیکچرار اردو اور مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے نوٹس

    حسن تعلیل تعلیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے علت یا  وجہ بیان کرنا یا توجیح پیش کرنا ‘’حسن تعلیل شعری صنعت ہے جس میں شاعر کسی واقعے کی اصل منطقی ،جغرافیائی یا سائنسی  وجہ کو نظر انداز کر کے  تخیلاتی جذباتی اور عین شاعرانہ وجہ بیان کرتا ہے ‘’     مثال بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے کوئی   بے تاب تہ خاک   تڑپتا      ہو    گا زلزلے کی سائنسی وجہ تو زیر زمیں پلیٹس کے اندر تبدیلی یا ٹکراو کو سمجھا جاتا ہے لیکن  شاعر نے تخیلاتی سطح پہ اس کی شاعرانہ وجہ کسی عاشق کا زیر زمیں تڑپنا بتائی ہے   سب کہاں ؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں غالب نے اس شعر  گل و لالہ کا نمایاں ہونے کی وجہ زیر زمیں پنہاں ہونے والے خوبصورت چہروں کو بیان کیا ہے    صنعت حسن تعلیل||صنعت حسن تعلیل کی مثالیں||صنعت حسن تعلیل نوٹس||   sanat e husn taleel examples||Sanat e husn taleel مزید مثالوں  کی مدد سے آپ کو حسن تعلیل کو سمجھایا جائے گا جس کے...

صنعت تکراریا تکریر|اردو کی مشہور صنعتیں|اردو کی اہم صنعتیں |صنعت تکرار کی مثال|Takrar

    صنعت تکراریا تکریر تکرار کے  لغوی معنی ہیں ’’  دہرانا یا بار بار کرنا   “ کے ہیں ‘’ اصطلاح میں تکرار اس صنعت کو کہتے ہیں جس کے تحت شعر یا مصرع میں کسی لفظ کو تاکید یا زور دینے کے لیے دہرایا جائے ’’   جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں  یہاں لفظ  '' خیاباں " کی تکرار ایک خاص صوتی اثر پیدا کرتی ہے  اور شعر کی اثر پذیری بڑھاتی ہے    صنعت تکرار ||صنعت تکرار کی مثالیں  آپ کے لیے مزید مثالوں کی مدد سے  آسان انداز میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے اور آخری اشعار مشق کے لیے ہیں کہ آپ  اس سرگرمی کو حل کر کے اپنی تیاری کو جانچ سکیں آپ سے گزارش ہے کہ کمنٹ میں لازمی جواب لکھیں تا کہ اس پر مزید بات ہو سکے بہت شکریہ ۔۔۔۔۔ پھرتے تھے دشت دشت،دوانے کدھر گئے وہ عاشقی کے  ہائے    زمانے ،  کدھر   گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پتا پتا ،بوٹا بوٹا   ،     حال    ہمارا   جانے    ہے جانے نہ جانے ،گل ہی نہ جانے ،باغ تو سارا ...