صنعت مبالغہ کی تفہیم اور مثالیں صنعت مبالغہ کلام میں ایسے الفاظ کا استعمال کرنا جن سے کسی شخص ، شے ، وصف یا کیفیت کا بیان خواہ بطور تعریف ہو مذمت اس طرح کرنا کہ حقیقت میں وہ خوبی اس حد تک اس میں نہ پائی جاتی ہو۔ مبالغہ کی چند مثالیں: گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر بھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر انیسؔ کے اس شعر میں میدان کربلا کی گرمی کا مبالغہ آمیز بیان کیا گیا ہےایک اور مثال ملاحظہ ہو گرمی کا روز جنگ کی کیوں کر کروں بیاں ڈر ہے کہ مثل شمع نہ جلنے لگے زباں کیا نزاکت ہے جو توڑا شاخ گل سے کوئی پھول آتش گل سے پڑے چھالے تمھارے ہاتھ میں محبوب کی نزاکت کا مبالغہ آمیز بیان ہر آن ہم کو تجھ بن ایک اک برس ہوئی ہے کیا آ گیا زمانہ اے یار رفتہ رفتہ میر ؔ اک دن فراق یار میں رویا میں اس قدر پہنچا تھا چوتھے آسماں پہ پانی کمر کمر گریہ و زاری کی عشق میں شدت اور مبالغہ آمیز بیان کیا نزاکت ہے کہ عارض ان کے نیلے پڑ گئے ہم نے تو بوسہ لیا تھا خواب میں تصویر کا نزاکت محبوب کا بیان دست نازک سےاٹھایا...
ادبی بیٹھک — اردو ادب کی دنیا ادبی بیٹھک اردو شاعری اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک معلوماتی پلیٹ فارم ہے، جہاں اردو شاعری، شعرا کا تعارف، ادبی اصطلاحات، اصنافِ سخن، شعری صنعتیں، ادبی مضامین اور اردو ادب سے متعلق مفید مواد پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں آپ کو اردو شاعری، غزل، نظم، شعرا و ادبا، ادبی اصطلاحات، شعری صنعتیں اور اردو ادب کے مختلف موضوعات آسان اور عام فہم انداز میں ملیں گے۔ ہمارا مقصد اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے قارئین، طلبہ اور ادب کے شائقین کے لیے مستند اور مفید معلومات