صنعت تکراریا تکریر
تکرار کے لغوی معنی ہیں’’ دہرانا یا بار بار کرنا “کے ہیں
‘’اصطلاح میں تکرار اس صنعت کو کہتے ہیں جس کے تحت شعر یا مصرع
میں کسی لفظ کو تاکید یا زور دینے کے لیے دہرایا جائے’’
جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
یہاں لفظ '' خیاباں " کی تکرار ایک خاص صوتی اثر پیدا کرتی ہے اور شعر کی اثر پذیری بڑھاتی ہے
صنعت تکرار ||صنعت تکرار کی مثالیں
آپ کے لیے مزید مثالوں کی مدد سے آسان انداز میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے اور آخری اشعار مشق کے لیے ہیں کہ آپ اس سرگرمی کو حل کر کے اپنی تیاری کو جانچ سکیں آپ سے گزارش ہے کہ کمنٹ میں لازمی جواب لکھیں تا کہ اس پر مزید بات ہو سکے بہت شکریہ ۔۔۔۔۔
پھرتے تھے دشت دشت،دوانے کدھر گئے
وہ عاشقی کے ہائے زمانے ، کدھر گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتا پتا ،بوٹا بوٹا ، حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے ،گل ہی نہ جانے ،باغ تو سارا جانے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل کیا تھا کل کا وعدہ،آج پھر وعدۂ کل
آپ کی کل آئے گی کتنے کل آنے کے بعد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چپکے چپکے گھر میں بیٹھے ،عاشقی کرتے رہے
چھاؤں میں رہ کر عبادت ،دھوپ کی کرتے رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مذکورہ بالا اشعار میں جن لفظوں کی تکرار ہے وہ کمنٹ میں لکھیں
آج کے مطالعے کے لیے ایک ورق مزید پڑھیں
- صنعت تجنیس اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت مراعا ۃ النظیر اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت تضاد ، رعایت لفظی اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت لف و نشر اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت حسن تعلیل اور اس کی مثالیں یہاں پڑھیں
- صنعت مبالغہ کی تعریف اور مثالیں یہاں پڑھیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں