رشوت خور علامہ اقبال کے ''شکوہ'' کی پیروڈی تھی تو موجود ازل سے ہی مری حرص قدیم ہاں یہ رشوت ہے اس دور کی پروردہ سکیم چمن آرائی زر میں جو پریشاں ہے شمیم بو ۓ زر پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم پہلے تو پیٹ ہی بھرنے کی پریشانی تھی ورنہ اس وقت کہاں زر کی فراوانی تھی ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم آ کے دیتے ہیں جو احباب تو مجبور ہیں ہم کام دولت سے نکلتے ہیں تو معذور ہیں ہم مرد میداں ہیں کہ ہر داؤ سے معمور ہیں ہم خوگر جرم تو دیتے ہیں دغا بھی سن لے بل پہ دولت کے ہے راشی کی وفا بھی سن لے یوں اٹھا ۓ ہو ۓ عرضی سحر و شام پھرے کوئی ہاتھوں میں لیے جیسے تہی جام پھرے ہو کے مایوس نہ وہ بندہ آلام پھرے دے کے رشوت کہیں ممکن ہے کہ نا کام پھرے یوں تو ہر کام میں اٹکا دیئے روڑے ہم نے صاحب زرنہیں بے زربھی نہ چھوڑے ہم نے آ گیا گر کہیں دفتر میں کوئی بندہ نواز ہوس زر میں وہیں کھوئی گئی قوم حجاز نہ کہیں ’’رول‘‘ رہا اور نہ قانوں کا جواز پستی عملے کی گئی اور گیا حاکم کا فراز ''بنده صاحب ومحتاج وغنی ایک ہو ۓ '' آ ۓ رشوت کی ج...
ادبی بیٹھک — اردو ادب کی دنیا ادبی بیٹھک اردو شاعری اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک معلوماتی پلیٹ فارم ہے، جہاں اردو شاعری، شعرا کا تعارف، ادبی اصطلاحات، اصنافِ سخن، شعری صنعتیں، ادبی مضامین اور اردو ادب سے متعلق مفید مواد پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں آپ کو اردو شاعری، غزل، نظم، شعرا و ادبا، ادبی اصطلاحات، شعری صنعتیں اور اردو ادب کے مختلف موضوعات آسان اور عام فہم انداز میں ملیں گے۔ ہمارا مقصد اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے قارئین، طلبہ اور ادب کے شائقین کے لیے مستند اور مفید معلومات