نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اگست, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

رشوت خوراز محبوب عزمی|شکوہ نظم کی پیروڈی||مزاحیہ شاعری||shikwa perody

  رشوت خور   علامہ اقبال کے ''شکوہ'' کی پیروڈی   تھی تو موجود ازل سے ہی مری حرص قدیم ہاں یہ رشوت ہے اس دور کی پروردہ سکیم چمن آرائی زر میں جو پریشاں ہے شمیم بو ۓ  زر پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم   پہلے تو پیٹ ہی بھرنے کی پریشانی تھی ورنہ اس وقت کہاں زر کی فراوانی تھی   ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم آ کے دیتے ہیں جو احباب تو مجبور ہیں ہم کام دولت سے نکلتے ہیں تو معذور ہیں ہم مرد میداں ہیں کہ ہر داؤ سے معمور ہیں ہم   خوگر جرم تو دیتے ہیں دغا بھی سن لے بل پہ دولت کے ہے راشی کی وفا بھی سن لے   یوں اٹھا ۓ  ہو ۓ  عرضی سحر و شام پھرے کوئی ہاتھوں میں لیے جیسے تہی جام پھرے ہو کے مایوس نہ وہ بندہ آلام پھرے دے کے رشوت کہیں ممکن ہے کہ نا کام پھرے   یوں تو ہر کام میں اٹکا دیئے روڑے ہم نے صاحب زرنہیں بے زربھی نہ چھوڑے ہم نے   آ گیا گر کہیں دفتر میں کوئی بندہ نواز ہوس زر میں وہیں کھوئی گئی قوم حجاز نہ کہیں ’’رول‘‘ رہا اور نہ قانوں کا جواز پستی عملے کی گئی اور گیا حاکم کا فراز ''بنده صاحب ومحتاج وغنی ایک ہو ۓ  '' آ ۓ  رشوت کی ج...

انتخاب غزل ڈاکٹر شفیق آصف انتخاب عمیر آصف|shayari urdu Shafique Asif Ghazal

      غزل ڈاکٹر شفیق آصف  انتخاب : عمیر آصف رہا ہوں کرب کی لہروں سے ہم کنار اب تک رہا ہوں کرب کی لہروں سے ہم کنار اب تک  ستا رہا ہے مجھے موسم بہار اب تک   ٹھہر گیا ہے ترا انتظار آنکھوں میں  گیا نہیں مری آنکھوں سے انتظار اب تک   چین اجاڑکے آندھی تو جا چکی لیکن  پرند پیڑوں میں بیٹھے ہیں بے قرار اب تک   یہاں شگفتہ ہواؤں کا کون طالب ہے یہاں تو حبس کا موسم ہے ساز گار اب تک   ہے اب بھی وقت اندھیروں کو مات دینے کا رواں ہے شب کے اسیروں میں یہ پکاراب تک   وہ  شخص لوٹ کے آ بھی چکا مگر آصف سوار ہے تری سوچوں پر برف زاراب تک تھاجو پیکر عالم تمثیل میں تھاجو پیکر عالم تمثیل میں آگیا ہے چشم تر کی جھیل میں   میرے دل کا پوچھتے ہیں مجھ سے آپ میرا دل ہے آپ کی تحویل میں   جس کی سانسوں میں ہے خوشبو ۓ  وصال ہے وہ منظر لمحہ  تکمیل میں   آپ جو چاہیں روا رکھیں سلوک سر بہ سر حاضر ہیں ہم تعمیل میں   جانے کیوں اس دور کا ہر  آدمی محو ہے ا نسان کی تذلیل میں ب ات ان سے مختصر کیجیے شفیق پڑ رہے ہو کس لیے تفصیل میں زندگی ک...

کہانی از ڈاکٹر سعادت سعید|Kahani az Doc saadat saeed|shayari urdu

 کہانی پر کیف رات اپنے تبسم میں غم لیے  پسماندگان زیست پر نوحہ کناں رہی  میں حزن بے کراں تھا یا سیل غم حیات  ہر پل مری نگاہ میں اک روشنی رہی!  وہ روشنی کہ جس سے مرااسم زندہ تھا  وہ روشنی بسر کے کسی سے مری رہی! عہد وفا سے ناتہ مراٹوٹ بھی چکا لیکن وہ رفتگی ہے کہ یوں سوچتا ہوں میں  میری کہانی اس کو اگر یاد بھی نہ ہو میری پرستشوں کی نہیں انتہا کوئی  اس کے سلگتے سانس مری دھڑکنوں میں ہیں ! جب رات بھیگنے لگی میں سوگوار تھا!   تب چاندنی نے جھوم کے مجھ سے کہا چلو!  ان بستیوں میں چلتی ہواؤں کے درمیان  جن کا ہر ایک کو چہ لب بام حشر ہے  جن کے ہر ایک خیمے یہ لکھا ہے میرا نام !  نا آشنا ہوائیں ہیں برق نگاہ حسن  ان کی عنائتوں سے ہرے پیڑ جل گئے  ندی کا بہتا پانی بھی  شعلہ نفس ہوا! جی جگمگا اٹھا تھا، جگر جھلملا اٹھا  میرے گماں میں کوند گئی برق شبنمی اس کا جمال اپنی بقا کا بھرم لیے ہر پل مرے خیال سے بچتا رہا کہ میں ارض بہار عشق کا مالک تھا، پراسے محکوم ہو کے مجھ سے محبت نہ ہوسکی ! میرے لہو سے کرب کی چنگاریاں اٹھیں ...

بھیڑا کیتا از معین نظامی |پنجابی شاعری|punjabi poetry

  معین الدین نظامی  بھیڑا کیتا   نہ میں تیرا جھگا بھنیا  نہ میں تیرے ڈھگے کھولے   نہ میں تیریاں ڈاگاں نوں کدیں بھیڑا تکیا   نہ میں تیرا لاگھا ڈ کیا   نہ میں تیرے ایرے پٹے   نہ میں تیریاں کدھاں ڈھائیاں   نہ میں تیرا پانی بنھیا  نہ میں تیرے رکھ وڈھا ۓ   نہ میں تیرا بھونہہ چوایا   نہ میں تیری یگ تے ہسیا   نہ میں تیرے سجن چوری کیتے   نہ میں تیرے ویری کول بہا ۓ   نہ میں تیرے اگے آیا   نہ میں تیری آکڑ بھنی میں بس اپنے دل دی منی   میریاں ایہناں عملاں نے وی  تینوں مت نئیں دتی  الٹا تینوں چیڑا کیتا  لگدا اے میں بھیڑا کیتا

پردۂ خاک از خواجہ معین نظامی||shayari urdu

   پردۂ خاک   پر دہ خاک کے اس پارتری محفل میں   کون خوباں ہیں کہ جن کی آنکھیں   تیری باتوں کی مہک میں نم ہیں  پر دہ خاک کے اس پارا کیلے ہم ہیں  خیل درخیل ترے ہجر کے غم ہی غم ہیں  دل یہ کہتا ہے کہ یہ بھی کم ہیں  اجنبی دیس میں کس شہر میں تو رہتا ہے  کیا وہاں بھی یہی دکھ سہتا ہے   کیا وہاں بھی تجھے مجرم ہی کہا کرتے ہیں  وہ رویہ ہی رکھا کرتے ہیں   کون احباب ترے ساتھ رہا کرتے ہیں  تیرےاشعارسناکرتے ہیں   کون سرمایہ انجمن آرائی ہے   کون سامان شکیبائی ہے  کون مہمان سرخوان کرم رہتا ہے  کون مفلس کی زبوں حالی پر  تیرا دل وقف الم رہتا ہے   وہ جو خدمت میں کمر بستہ تھے  تیری الفت میں جگرخستہ تھے  ان کی یادیں تجھے آتی ہیں کبھی دل کے دروازے کی زنجیر ہلاتی ہیں کبھی   عشق، اس درد کا درماں ہوگا  حسن، ایواں کا درباں ہوگا  رحمتیں نازاٹھاتی ہوں گی   اپنے آغوش محبت میں سلاتی ہوں گی   پر دہ خاک کے اُس پار...