نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اگست, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

شکوہ نظم کا جواب کیا تھا؟||Alama Iqbal write which poem in response to shikwa

 علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شاعری سے جہاں مسلم امہ کی فکری ترجمانی کی اور ان کے لیے لسانی ، علاقائی اور نسلی تقسیم سے اوپر اٹھ کے ایک جسم واحد کا سبق دیا وہیں اردو ادب میں نئے لہجے اور نئے شعری اسلوب کا اضافہ کیا  اقبال نے نظم " شکوہ " 1911 میں لکھی یہ نظم مسدس ترکیب بند ہئیت میں ہے اس نظم میں اقبال نے عربی ، فارسی اور اردو کے اجتماعی روایت سے ہٹ کے اللہ تعالیٰ سے شکوہ کیا جو کہ کلاسیک میں ہمیشہ مناجات اور انسان کی نارسائی سے عبارت تھا  اقبال نے خود بھی "خاکم بدہن" کہ کے یہ جسارت کی  اس نظم میں مسلم امہ کے عروج اور اللہ کے پیغام کو دور دنیا تک پہنچانے کا ذکر کیا اور موجودہ ابتری کا شکوہ کیا کہ ہماری قربانیوں اور جذبوں کا صلہ وہ نہیں ملا جو ہمارا حق تھا  کہتے ہیں : صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نے نوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں ہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیں "ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات" کہنے والے اقبال کو امت کے زوال کے محرکات ک...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib

  دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin maanta main nahin jaanta میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے ظلم کی بات کو جہل کی رات کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Main bhi khaif nahin takht-e-daar se Main bhi Mansoor hoon keh do aghyaar se Kyun daraate ho zindaan ki deewaar se Zulm ki baat ko jahl ki raat ko Main nahin maanta main nahin jaanta پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو جام رندوں کو ملنے لگے تم کہو چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Phool shaakhon pe khilne lage tum kaho Jaam rindon ko milne lage tum kaho Chaak seenon ke silne lage tum kaho Is khule jhoot ko zehan ki loot ko Main nahin maant...

'' کوٹ لکھپت جیل ''جالب|اسیران کوٹ لکھپت جیل|kot lakhpat jail lahore|habib jalib best poetry

    کوٹ لکھپت جیل قصوری  قید  اسلم  قید  خورشید و  عمر   قیدی مری جاں اس خراب آباد میں ہے ہر بشر قیدی   سلاخوں میں ادھر ہے طاہرہ اور اس طرف مظہر بنا رکھا ہے اک بیداد گر نے  گھر  کا  گھر  قیدی   حمید اختر بھی ہے رحمن بھی ہے اور مغل بھی ہے مقدر سے ملے ہیں  واہ  کیا  کیا  دیدہ  در  قیدی   جہالت پھر رہی  ہے  شہر میں  آزاد  و  آوارہ رضا کاظم،مبشر راؤ  منت  اور  ظفر   قیدی   علی سا  خوب رو فن کار بھی قید  نفس  میں  ہے بہت مسرور ہوتے ہیں اسے سب دیکھ کر قیدی   شعیب ہاشمی  زنداں  میں  پہلی  بار  آیا   ہے وطن میں رہ چکا ہے  مدتوں  اس  کا خسر قیدی   میں آیا ہوں تو اپنے ساتھ نوحہ گر بھی لایا ہوں مری صورت ہے اس زنداں میں پبلشر قیدی   ملک ہیرا  رؤف احسان مہدی چودھری اصغر یہ ساتھی ہوں تو رہ سکتا ہے انساں عمر بھر قیدی   یہ ابھریں گے یہ چمکیں گے یہ...

میرے خواب آباد ہو گئے ہیں ||اردو نظم|اردو شعروشاعری|قیصر شہزاد ساقی|Qaisar Shahzad Saqi nazm mery khawab abad ho gaiy hain

  میرے خواب آباد ہو گئے ہیں  ان دنوں جب لوگ ہنستے کھیلتے  مستقبل کےان جانے ہتھکنڈوں سے بے خبر تاک میں رہنے والی پر اسرار ،بوجھل اور تھکا دینے والی ذمہ داریوں سے دور زندگی کرتے ہیں میں تب بھی حیات کے بوجھ سے نالاں افلاک کی وسعتوں اور عمیق اندھیروں میں سکوں کے خواب دیکھتا تھا پھر تیری مسکراہٹ نے میرے آنگن کے قدیم اندھیروں میں روشنی کی چہکار بھر دی   میرے دل کے مردہ خانوں میں تیرےلمس نے تازہ دھڑکن جاری کر دی میں جینے لگا ہوں میرے خزاں رسیدہ وجود پہ تازہ کونپلیں نمودار ہونے لگی ہیں اور زندگی کی تراوت پور پور سے چھلک پڑی ہے میرے دن تیرے پیار سے لامحدود بے رنگیوں سے رنگینیوں میں ڈوب گئے ہیں اور برسوں سے میرے ادھ ادھورے خواب آباد ہو گئے ہیں   میرے خواب آباد ہو گئے ہیں ||اردو نظم|اردو شعروشاعری|قیصر شہزاد ساقی|Qaisar Shahzad Saqi nazm mery khawab abad ho gaiy hain

میری شہزادی از قیصر شہزاد ساقی|meri Shahzadi urdu poetry by Qaisar Shahzad saqi

  میری شہزادی ! میرے دل کے سنگھاسن پہ دھونی رمائے کب سے نہ جانے یونہی چپ ،سوچوں میں غرق عقل و خرد کی گتھیاں سلجھا رہی ہو میں جب تمھیں اتنے استغراق میں دیکھتا ہوں محبت کے احساس سے گراں بار کتنے ہی لفظ ہزاروں ان کہے ان سنے فسانے دل کے کسی کونے کھدرے میں دفنا دیتا ہوں عقل ۔۔۔۔ محبت کی دشمن خدشوں کے گہرے منافق سایوں میں پلنے والی مجبوریوں کی پروردہ منطق کی اونچی مسند پہ بیٹھی کب رستوں کو آسان بناتی ہے میری شہزادی ! تمھاری محبت نے میرے حساب بے حساب کر دیے ہیں یہ حیات دوروزہ کتنی طویل ہو گئی ہے جدائی کی سیاہ رات میرے کتنے ہی سورج کھا گئی ہے میری شہزادی !  تیرے وجود سے ہے میرے لفظوں کی مہک تیری یادوں سے کتنی  ہی کہانیاں عنوان پا جائیں تو جو نہ ہو تو بہاروں میں پیڑ نڈھال ہو جائیں یہ ہوائیں کہیں رستوں میں بھٹک جائیں میری ہستی کے دروبام آپس میں الجھ جائیں یہ سارے خطرے موجود ہیں اور تم اب بھی ظن و تخمین کے الٹے پھیروں میں الجھی میری شہزادی ! تمھیں بہت مان ہے ناں عقل کی ان اونچی  اڑانوں پر تو ذرا وقت کا بھی احساس کرو ابھی کتنے درد ہیں باقی حساب کرو ابھی کتنے درد ہیں باقی حساب کر...

فطرت از قیصر شہزاد ساقیؔ||Fitrat kahani az Qaisar shahzad saqi

       عنوان:فطرت وہ بادشاہ خوش بخت تھا اسے ایسے عوام میسر آئےجو اپنے حاکم پہ جان چھڑکتے تھےاور اس کا ہر حکم بجا لانے میں تاخیر نہیں کرتے تھے ۔ محنت پسند قوم کی وجہ سے ہر طرف خوش حالی تھی  اور ہر کوئی اپنے حال میں خوش تھا۔بادشاہ کا معمول تھا کہ وہ ہر روز شہر کے بیچ و بیچ اپنے قافلے کے ساتھ گزرتا اوراپنی رعایا کا حال جانتایہ وقت سخاوت و عطا کی اضافی نوازشات اپنے ساتھ لاتا رعایا اپنے دکھ درد بیان کرتے جاتے اور بادشاہ کسی فرشتے کی طرح اپنی مسکراہٹ اور اعلا ظرفی سے ان کے زخم مندمل کرتا جاتا۔۔۔۔اس دن بھی ایک سوالی ۔۔۔۔وہ جب سامنے آئی تو بادشاہ ٹھٹھک کر رہ گیا ۔چیتھڑوں میں لپٹا سانولا حسن اس قدر پریشان ومضطرب کہ جہاں سے کوئی رخنہ ملتا جھانکنا شروع کر دیتا ۔اس کے خالی قدموں میں ایسی ترتیب اور لہک تھی کہ بادشاہ کے دل کے ساز بج اٹھے ۔۔۔اس نے اپنی پیشہ ور دکھ بھری  آواز میں صدا لگائی اے بادشاہوں  کے بادشاہ!غریبوں کے دست گیر میرے خالی دامن کو بھی بھر دو؟اور ساتھ ہی دریدہ دامن پھیلا دیا ۔۔۔ ب ادشاہ اس کے حسن میں محو ہو گیا جیسے آج اس کی اپنے آپ سے ملاقات ہوگئی ہو ...

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

مزاحیہ غزل از ضیاءالحق قاسمی||مزاحیہ شاعری||مزاحیہ کلام||شگفتہ کلام ||Zia ul haq qasmi ||mazahiya urdu nazm||mazahiya urdu shayari

   مزاحیہ کلام معشوق جو ٹھگنا ہے تو عاشق بھی ہے ناٹا  اس کا کوئی نقصان نہ اس کو کوئی گھاٹا تیری تو نوازش ہے کہ تو آ گیا ، لیکن  اے دوست مرے گھر میں نہ چاول ہے نہ آٹا لڈن تو ہنی مون منانے گئے لندن چل ہم بھی کلفٹن پہ کریں سیر سپاٹا تم نے تو کہا تھا کہ چلو ڈوب مریں ہم اب ساحلِ دریا پہ کھڑے کرتے ہو “ ٹاٹا'' عشاق رہ عشق میں محتاط رہیں اب  سیکھا ہے حسینوں نے بھی اب جوڈو کراٹا کالا نہ سہی ، لال سہی ، تل تو بنا ہے اچھا ہوا مچھر نے ترے گال پہ کاٹا اس روز سے چھیڑا تو نہیں ہے اسے میں نے  جس روز سے ظالم نے جمایا ہے چماٹا  جب اس نے بلایا تو ضیاء چل دیئے گھر سے بستر کو رکھا سر پہ ، لپیٹا نہ لپاٹا ضیا ء الحق قاسمی  

poetry in urdu funny||funny poetry in urdu text||مزاحیہ کلام از ضیاالحق قاسمی

    مزاحیہ کلام ضیاءالحق قاسمی جب بھی تجھے دیکھا کسی بحران میں دیکھا  نسیان میں دیکھا کبھی ہذیان میں دیکھا گوبھی بھی ہے گر پھول تو بس   اتنا  بتا دے  کالر میں   کبھی یا کبھی گلدان میں دیکھا  ایسا نہ ہو ببن کو کوئی چیل اچک لے ننگا اسے دیکھا کبھی بنیان میں دیکھا بیوی نے دبا رکھا ہے اب ٹیٹوا شاید میں نے جو اسے حال پریشان میں دیکھا  کہتے ہیں کہ لیلی کا تعلق تھا عرب سے  یہ رنگ تو افریقہ و مکران میں دیکھا رس گنے  کا پینے کو ملا خوب ہمیں بھی  یہ فائدہ دیکھا ہے تو یرقان میں دیکھا پستول چھپا رکھا تھا پتلون میں میں نے کسٹم کے سپاہی نے جو سامان میں دیکھا  وہ چور تھا یا عاشق دلگیر کسی کا  دیوار پہ چڑھتے جسے دالان میں دیکھا

poetry in urdu funny||funny poetry in urdu text||مزاحیہ غزل از ضیاالحق قاسمی

   مزاحیہ غزل ضیا الحق قاسمی میں شکار ہوں کسی اور کا مجھے مارتا کوئی اور ہے  مجھے جس نے بکری بنا دیا وہ تو بھیڑیا کوئی اور ہے کئی سردیاں بھی گزر گئیں میں تو اس کے کام نہ آ سکا   میں لحاف ہوں کسی اور کا مجھے اوڑھتا کوئی اور ہے  مجھے چکروں میں پھنسا دیا مجھے عشق نے تو رلا دیا میں تو مانگ تھی کسی اور کی مجھے مانگتا کوئی اور ہے   میں ٹنگا رہا تھا منڈیر پر کہ کبھی تو آئے گا صحن میں میں  تھا منتظر کسی اور کا مجھے گھورتا کوئی اور ہے سر بزم مجھ کو اٹھا دیا مجھے مار مار لٹا دیا مجھے مارتا کوئی اور ہے ولے ہانپتا کوئی اور ہے مجھے اپنی بیوی پہ فخر ہے مجھے اپنے سالے پہ ناز ہے نہیں دوش دونوں  کا اس میں  کچھ مجھے ڈانٹتاکوئی اور ہے میں تو پھینٹ پھینٹ کے پھٹ گیا میں پھٹا ہوا وہی تاش ہوں  مجھے کھیلتا کوئی اور ہے مجھے پھینٹتا کوئی اور ہے  مرے رعب میں تو وہ آ گیا مرے سامنے تو وہ جھک گیا مجھے لات کھا کے ہوئی خبر مجھے پیٹتا کوئی اور ہے  ہے عجب نظام زکوۃ کا مرے ملک میں مرے دیس میں  اسے کاٹتا کوئی اور ہے اسے بانٹتا کوئی اور ہے جو گرجتے ہوں وہ برس...

افلاطون کی تنقید کی اہمیت| افلاطون اور شاعری|شاعری پر افلاطون کے اعتراضات|افلاطون کے تنقیدی نظریات|plato republic

    افلاطون : شاعری حصہ دوم افلاطون نے شاعری کو ایک شغل عبث قراردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک مثالی مملکت کا خواہاں تھا۔ جہاں کے باشی تخیل پسندی کے شکار نہ ہوں اور حقیقی عناصر سے ہم کنار رہ کر محنت و مشقت سے  جی نہ چرائیں۔ اس کا خیال تھا کہ عوام اپنی تخیلی دنیا کے فریب میں حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں۔ افلاطون کے خیال میں فن اور ادب روح کے باطل عضو کی نشو ونما کرتے ہیں ، چونکہ وہ اصلاح پسند فلسفی تھا اس لئے ملک کے عوام کی بہتری کا علمبردار تھا، اس کی نظر میں شعرا کاہل لوگ تھے جو کھو کھلے دنوں کو نغمے  میں ڈھالتے تھے، انسان کی فلاح و بہبود سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا، اسی لئے اس نے اد باو شعر ا پر سخت نکتہ چینی کی اور اپنی مثالی مملکت سے جلا وطن کرنا چاہا۔ وہ شاعری جس کا موضوع خدا کے اوصاف اور یونانی سورماؤں کی توصیف تھا، افلاطون کی مثالی مملکت سے مطابقت رکھتی تھی ۔ حصہ اول پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں بہر حال شاعری پر افلاطون کے جو اعتراضات تھے ان کا اختصار یہاں درج کیا جاتا ہے: ۱۔شعرا کے خلاف افلاطون کے اعتراضات کی بنیاد شاعری کی فطرت اور اس کے عمل کا پس منظر تھی۔ اس ضمن میں...

افلاطون کے تنقیدی نظریات|افلاطون کا تعارف|افلاطون ادب کے بارے میں کیا کہتے ہیں|افلاطون کیوں شاعروں کو اپنی ریاست سے نکالنے کا کہتاہے

     افلاطون وہاب اشرفی حوالہ: نظریاتی تنقید: مسائل ومباحث  مرتب ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی   سقراط کے مشہور شاگردوں میں افلاطون کا نام بہت اہم ہے۔اس کے سال ولادت کے بارے میں اختلاف ہے ۔لیکن اکثر محققین کا خیال ہے کہ اس کی پیدائش کا سال  ۴۴۹  ق م یا  ۴۲۷  ق م ہے افلاطون کے والدین ایتھنز کے رہنے والے تھے ، جن کا سلسلہ نسب بڑا ارفع تھا۔ افلاطون کے متعد درشتہ دار سقراط کے حلقہ بگوشوں میں تھے ان ہی کے ذریعہ ایام طفلی میں افلاطون ، سقراط سے متعارف ہوا۔ کہا جا تا ہے کہ ابتداء میں افلاطون کا رحجان شعر گوئی اور تمثیل نگاری کی طرف تھا۔لیکن سقراط سے ملاقات کے بعد اس نے اپنے اشعار اور ڈرامے تلف کر ڈالے اور فلسفہ اور سیاست سے دلچسپی لینے لگا۔ میدان سیاست میں اسے نام ونمود کے حصول کی خواہش تو تھی لیکن  ۳۹۹  ق م میں جب سقراط کوسزائے موت دی گئی تو اس نے سیاست سے کنارہ کشی کر لی اور کچھ عرصہ کے لئے سقراط کے دوسرے شاگردوں کے ساتھ میگارہ ہجرت کر گیا اس کے بعد بارہ برسوں تک ایتھنز کی متعدد جنگوں میں شریک رہا اور دور دراز کے ممالک مثلا مصر، شمالی افریقہ، سس...