رشوت خور
علامہ اقبال کے ''شکوہ'' کی پیروڈی
تھی تو موجود ازل سے ہی مری حرص قدیم
ہاں یہ رشوت ہے اس دور کی پروردہ سکیم
چمن آرائی زر میں جو پریشاں ہے شمیم
بوۓ زر پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم
پہلے تو پیٹ ہی بھرنے کی پریشانی تھی
ورنہ اس وقت کہاں زر کی فراوانی تھی
ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
آ کے دیتے ہیں جو احباب تو مجبور ہیں ہم
کام دولت سے نکلتے ہیں تو معذور ہیں ہم
مرد میداں ہیں کہ ہر داؤ سے معمور ہیں ہم
خوگر جرم تو دیتے ہیں دغا بھی سن لے
بل پہ دولت کے ہے راشی کی وفا بھی سن لے
یوں اٹھاۓ ہوۓ عرضی سحر و شام پھرے
کوئی ہاتھوں میں لیے جیسے تہی جام پھرے
ہو کے مایوس نہ وہ بندہ آلام پھرے
دے کے رشوت کہیں ممکن ہے کہ نا کام پھرے
یوں تو ہر کام میں اٹکا دیئے روڑے ہم نے
صاحب زرنہیں بے زربھی نہ چھوڑے ہم نے
آ گیا گر کہیں دفتر میں کوئی بندہ نواز
ہوس زر میں وہیں کھوئی گئی قوم حجاز
نہ کہیں ’’رول‘‘ رہا اور نہ قانوں کا جواز
پستی عملے کی گئی اور گیا حاکم کا فراز
''بنده صاحب ومحتاج وغنی ایک ہوۓ ''
آۓ رشوت کی جوزد میں تو سبھی ایک ہوۓ
ہیں یہاں وہ بھی جو رشوت کے طلب گار بھی ہیں
ان میں بدکار بھی ہیں اور گنہ گار بھی ہیں
کتنے کم ظرف بھی ہیں اور طرح دار بھی ہیں
اعلی افسر بھی ہیں اور ادنی سے فنکار بھی ہیں
آنچ آتی ہی نہیں ان کے نہاں خانوں پر
''برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر''
اتنی راشی کی ہے یہ چاہنے والی دنیا
جب گیا ایک تو اوروں نے سنبھالی دنیا
ہو نہ جائے کہیں راشی سے یہ خالی دنیا
کیوں یہ پھرتی رہے بن بن کے سوالی دنیا
ساقی محفل میں اگر ہو تو کہاں جام رکے
دے کے رشوت کہیں ممکن ہے کوئی کام رکے
اہل ایماں کو بھی سیٹوں سے ہٹایا ہم نے
کام مشکل تھا پر آسان بنایا ہم نے
تیرے فرمان کو سینے سے لگایا ہم نے
جو ملا، جیسے ملا، تجھ کو کھلایا ہم نے
پھر بھی شکوہ ہے کہ ہم لوگ وفادار نہیں
''ہم وفا دار نہیں، تو بھی تو دلدار نہیں''
ہاۓ انکم بھی گئی اور نکالے بھی گئے
پھنس گئے ایسے کہ ہم جیل میں ڈالے بھی گئے
اور منہ موڑ کے وہ حوصلے والے بھی گئے
اپنی عزت بھی گئی، چاہنے والے بھی گئے
عزمی روپوش ہوۓ یار جو دھوکہ دے کر
'’اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر''
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں