کہانی
قیصر شہزاد ساقیؔ
یہ میری کہانی ہے
اکثر مجھے احساس ہوتا ہے یہ میری کہانی نہیں ہے
یا کم از کم میں اس کہانی کا کوئی کردار نہیں بلکہ
کہانی کو آگے بڑھانے کا وسیلہ ہوں
میں ہمیشہ غلام گردشوں کے عمیق سناٹوں میں سرگوشیوں کے درمیاں پلا بڑھا ہوں
اور سہل پسند واقع
ہوا ہوں
اس لیے اب وہ مجھے
تنہا نہیں چھوڑتے ،میں ان سے چھپ
بھی نہیں سکتا
میں ڈرتا نہیں ہوں لیکن ان کے لکھے سے ڈرتا ہوں
کیوں کہ میرے خیال
میں یہ کہانی تو میری ہے ہی نہیں
بے بسی کے ان جان
کن لمحوں میں میں دونوں کندھے جھکا دیتا ہوں اور رو دیتا ہوں
میرے گھر اور دنیا میں صرف ایک سڑک کا فاصلہ ہے
سڑک سے مغرب کی جانب ایک گارے کی شکستہ دیوار جس کے اندر
ایک در جو کبھی دروازے کے لیے بنایا گیا
تھا اس در سے دور تک پھیلی فصل نظر آتی ہے ۔اس کی روئیدگی اتنی
ہے کہ میرے صحن کے اندر تک پھیلی ہوئی ہے
یہ بھوک کی فصل ہے
کبھی کبھی یہ میرے قد سے بھی بڑھ جاتی ہے اور اتنی گھنی ہو جاتی ہے کہ دروازے کے لیے
چھوڑا گیا شگاف بھی نظر نہیں آتا
یہ ایک تواتر اور تسلسل ہے
جس میں کبھی کچھ بھی نظر نہیں آتا
سڑک سے مشرق کی طرف
کے باسی جن کے ساتھ میرا سورج بھی سانجھا نہیں
ان کے بقول میرے
پاس سب کچھ ہے
ہوا اور خستہ دیوار پر جمی نرم نرم دھول یہی میرے اثاثے ہیں
جو مجھے اندر سے مٹی کا بنائے جا رہے ہیں
لیکن یہ شکست و
ریخت اسی وقت تک ہے جب تک میں زیر زمیں
پانی کو ڈھونڈنے کی مجوزہ ترکیب پر عمل نہیں کر پاتا
میں پانی میں حل ہو کر
نئی کہانی اور تقدیر کے ساتھ کھرا کھنکتاپتلا بن کے ’’ کن ‘‘ کا
انتظار کروں گا
میں اس کار مجوز کو سڑک سے مشرق کی سمت کے
مکینوں سے مقدور بھر چھپاتا رہا
ہوں
شاید اس پر بھی وہ اپنا حق نہ جتا دیں اور کوئی وعدہ معاف
گواہ یہ پانی بھی مجھ سے چھین کے
انھیں نہ دلوا دے
اور مجھے ابھی تک
مٹی کی کوکھ کا عرفان بھی نہیں ہوا
ہے
میں موزوں کہانی لے کر نہیں آیا
لیکن میں زندگی کرنے کا
ایک نہ ایک حربہ نکال لیتا ہوں
جیسے کوئی ناگن اپنے سنپولیے کھا لیتی ہے میں اپنے خواب نگلنے لگا ہوں
کیوں کہ کہانی رکتی نہیں
![]() |
| نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi |

واہ بہت عمدہ
جواب دیںحذف کریںیہ میری کہانی ہے انتہائی دلچسپ