ناصر کاظمی کا تعارف||ناصر کاظمی کی تصانیف||ناصر کاظمی کی کتابیں|| Nasir Kazmi Poetry||ناصر کے حالات زندگی
سید ناصر رضا کاظمی
![]() |
| ناصر کاظمی کا تعارف||ناصر کاظمی کی تصانیف||ناصر کاظمی کی کتابیں|| Nasir Kazmi Poetry||ناصر کے حالات زندگی |
تعارف
ناصر کاظمی ۰۸۔دسمبر بروز ہفتہ ۱۹۲۵ ء محله قاضی واڑہ شہر انبالہ میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد کا نام کے سید محمد سلطان بن شریف الحسن تھا۔ جو نائب تحصیلدار اور سب انسپکٹر پولیس بھی رہے۔
ناصر کی والدہ کا نام سیدہ کنیزہ محمدی بیگم تھا ۔ جو مشن گرلز سکول میں معلمہ تھیں ۔ ۔ ناصر کاظمی نے ابتدائی تعلیم " انبالہ ''سے ہی حاصل کی اس کے علاوہ والد کی ملازمت کے سلسلے میں نوشہرہ بھی قیام رہا جہاں کی یادوں میں ریل کی سیٹی اور پٹڑی ایک علامت کے طور پہ بسی رہیں۔۔۔۔
قران پاک والدہ سے ہی پڑھا ۔تیرہ برس کی عمر میں''گلستان سعدی''،''بوستان سعدی '' پڑھ لی جب کہ میٹرک تک ''شاہ نامہ فردوسی ''،''قصہ چہار درویش ''،''فسانہ آزاد''اور الف لیلہ کا مطالعہ کر لیا ۔۔۔۔
میٹرک کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور منتقل ہو گئے ۔
گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور سے بی۔اے کیا پھر واپس چلے گئے اور اللہ سے لیے کیا پھر واپس چلے گئے ہجرت بعد لاہور میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور تا دم آخر داتا کی نگری میں ہی رہے :
شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد
تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھے
ناصر کے پسندیدہ مشاغل میں گھڑ سواری، شکار کھیلنا ،دریاؤں اور پہاڑوں کی سیر، تاش اور شطرنج کھیلنا بقول احمد عقیل روبی:
'' ناصر اچھے شاعر کوتاش اور شطرنج میں بھی اچھا ہونا
شرط کے طور رکھتے تھے ۔''
اس کے علاوہ باغبانی، فوٹو گرافی اور کبوتر پالنا بھی ان کے پسندیده مشاغل تھے۔ ناصر کو داستان گوئی کا بھی شوق تھا اور اکثر دوستوں کو من گھڑت داستانیں سنا کر تحیر میں مبتلا کر دیتے تھے۔
عقیل روبی لکھتے ہیں :۔
''ناصر کاظمی دوسروں کو چونکا کر اور حیراں کرکے بہت خوش ہوتے تھے اور یہ کام وہ واقعہ کی بنت اور اپنے اسلوب بیان سے لیتے تھے۔۔۔۔۔
ایک باررات کو ۱۲ بجے زمزمہ چوک میں توپ کے پاس رکے گئے ۔ خاموش اسے
دیکھتے رہے اور پھر ہماری طرف منہ کر کے کہنے لگے "کل ٹھیک اس وقت وہ مجھے یہاں ملی تھی ۔ کالی چادر میں اس کا چہرہ چھپا ہوا تھا۔۔۔۔ صرف ہاتھ نظر آ رہے تھے۔ ہاتھوں کی انگلیاں پیپ سے اٹی ہوئی تھیں ۔ زخموں سے لتھڑا ہوا ہاتھ اس نے میری طرف بڑھایا اورایک روپیہ مانگا ۔ اس کی آواز سن کر میں چونک گیا حریانی دور ہوئی تو میں نے کہا " ایک نہیں پانچ روپے دوں گا پہلے اپنا چہرہ دکھاؤ''۔ اس نے چادر ہٹاکر چہرہ دکھایا ۔ چہرہ پر پھنسیوں کی چھوٹی چھوٹی ڈھیریاں بنی ہوئی تھیں۔ پھنسیوں سے بچھو چمٹے ہوئے تھے اور آنکھوں کی بجائے دوگڑھے میری طرف جھانک رہے تھے ۔۔۔۔۔'' جانتے ہو وہ کون تھی؟'' وہ میری ماں تھی۔''
موسیقی سے گہرا شغف تھا۔ استاد عبدالعزیز خان صاحب سے ستاراور سار نگی با قاعده سیکھنے کا بھی کوشش کی پر جاری نہ رکھ سکے وہ مترنم تھے مگر کبھی اپنی شاعری ترنم سے نہیں پڑھی ۔ شاعری ناصر کو اپنے اپنے ناناسید نیاز اور والدہ سے ورثے میں ملی تھی بعد میں ناصر نے حفیظ ہوشیار پوری سے باقاعدہ رہنمائی بھی لی ۔۔۔۔
بحیثیت شاعر ناصر کی شہرت کا آغاز ۱۹۴۲ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں منعقدہ مشاعرے سے ہوئی جو کہ بطور طالب علم شاعر انھوں نے لوٹ لیا۔
ناصر کاظمی نےملازمت کا آغاز ۱۹۵۰ ء میں '' اوراق نو '' کے مدیر کی حیثیت سے کیا جو ایک برس تک رہی پھر یکم اکتوبر ۱۹۵۲ ء سے جنوری ۱۹۵۷ء تک وہ '' ہمایوں '' رسالے کے جوائنٹ ایڈیٹر رہے ۔اس کے بعد محکمہ سماجی بہبود سے بھی منسلک رہے جنوری 5919ء سے تا دم آخر ریڈیو پاکستان لاہور سے بطور سٹاف آرٹسٹ وابستہ رہے۔
ناصر کی شادی شفیقه بیگم سے ہوئی جو محکمہ تعلیم سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئیں۔ ۱۹ ۔دسمبر ۱۹۹۸ء کو ان کا انتقال ہوا۔ ناصر کاظمی کے دو بیٹے ہیں
باصر سلطان کاظمی اور حسن کاظمی
۲۔مارچ ۱۹۷۲ ء کو صبح پانچ بجے ناصر اپنی مسافرت اور اداسیوں سے آزاد ہوگئے اور مومن پورہ قبرستان کی تنہائیوں میں پیوست ہو گئے ۔
کہیں کہیں کوئی روشنی ہے
جو آ تے جاتے سے پوچھتی ہے
کہاں ہے وہ اجنبی مسافر
کہاں گیا وہ اد اس شاعر
ناصر کاظمی کا تخلیقی سفر:
برگ نے [غزلیں] ۱۹۵۲ء
دیوان [غزلیں] ۱۹۷۲ء
پہلی بارش[غزلیں] ۱۹۷۵ء
نشاط خواب [نظمیں] ۱۹۷۷ء
سر کی چھایا[منظوم ڈراما] ۱۹۸۱ء
کلیات ناصر ۱۹۸۷ء
نثری تخلیقات کے نام :
خشک چشمے کے کنارے [مضامین] ۱۹۵۲ء
چند پریشاں کاغذ [ڈائری] ۱۹۹۵ء
انتخاب شاعری :
غزل [فراق گورکھ پوری] ۱۹۷۱ء
انتخاب میر۱۹۸۹ء
انتخاب نظیر۱۹۹۰ء
انتخاب ولی ۱۹۹۱ء
انتخاب انشاء۱۹۹۱ء
تراجم :
ناصر کاظمی نے ''کینتھ ایس لن '' کی کتاب ''دی امریکن سوسائٹی ''کا '' امریکی سوسائٹی '' کے نام سے ترجمہ کیا جو ۱۹۶۶ ء میں شائع ہوا۔
ناصر کاظمی پر ہونے والا تنقیدی و تحقیقی کام :
''ہجر کی رات کا ستارا '' مرتبہ احمد مشتاق ۱۹۷۵ء
''ناصر کاظمی کی شاعری '' پروفیسر حامدی کاشمیری
''ناصر کاظمی ایک دھیان '' شیخ صلاح الدین احمد
''ناصر کاظمی شخصیت اور فن '' ناہید قاسمی [پہلا تنقیدی مقالہ ۱۹۹۰ء]
''مجھے تو حیراں کر گیا وہ '' احمد عقیل روبی [شخصی خاکہ]
''وہ تیرا شاعر ، وہ تیرا ناصر'' ڈاکٹر حسن رضوی [پی ایچ۔ڈی کا مقالہ ]
.jpeg)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں