نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ناصر کاظمی کی شاعری کا خصوصی مطالعہ||ناصر کاظمی کی غزل ||Nasir Kazmi ki Ghazal||جدید غزل

  

 ناصر کی شاعری کا خصوصی مطالعہ


غزل ہماری شاعری میں مقبول صنف سخن رہی ہے اور ہماری ثقافت سے ،ہماری تہذیب سے ہم آہنگ صنف ہے۔بقول فراق گورکھ پوری:

"غزل میں پوری تہذیب بول رہی ہے "

نیز غزل اسلامی تہذیب سے کلی طور پر ہم آہنگ صنف ہے۔۱۸۵۷ء کے بعد ہندوستان میں تہذیبی ،سیاسی ،معاشرتی  اور علمی و 

ادبی موڑ آیا۔

اس سانحے کے بعد ادبی طرز احساس یک سر تبدیل ہو گیا نو آبادیاتی دور میں مجموعی احساس اور سوچنے کے انداز بھی مکمل طور پر بدل گئے ۔ شاعری کو بھی نئی بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی گئی تو غزل کے بارے میں بھی شدید رد عمل پیدا ہوا  سب سے پہلے حالی نے "مقدمہ شعرو شاعری '' میں غزل کی اصلاح  کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں ۔

 

حالی غزل کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں مگر غزل پر ان کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اس میں   استعمال ہونے والی علامتیں  مسلسل استعمال کی وجہ سے فرسودہ ہو چکی ہیں چناں  چہ غزل میں جدت نہیں رہی  یعنی غزل جمود کا شکار ہو گئی ہے یوں حالی نے غزل کو طرز جدید  کی جانب لانے کی کوشش کی یہ اردو ادب میں جدیدیت کی پہلی رو تھی ۔جو آئندہ ادب میں بہت زیادہ تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ۔

دوسری طرف روایتی غزل  میں بعض ایسے نمائندہ شاعر نظر آئے جنھوں نے روایت اور غزل کی اہمیت کو  برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ان میں استاد داغ دہلوی اور امیر مینائی کے نام قابل ذکر ہیں ۔آگے چل کر کچھ اور نام بھی غزل میں سامنے آئے  جیسے شاد عظیم آبادی  :

·       ڈھونڈو گے اگر ملکوں  ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

       تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

 

لیکن بیسویں صدی کے آغاز تک پہنچتے پہنچتے  غزل میں رسمی انداز کی شاعری بہت زیادہ ہو گئی اور ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے غزل ایک بار پھر جمود کا شکار ہو  گئی ہے ۔

اس ماحول میں  مولانا حسرت موہانی نے غزل کو اظہار کا مستقل ذریعہ بنا کر غزل کو  نئے عہد اور سیاسی منظر نامے کے قریب کرنے کی کوشش کی  انھوں نے خاص طور پر عشقیہ شاعری کو نیا لہجہ دیا اور نئے لطیف پہلووں سے روشناس کروایا۔حسرت نے مشترکہ خاندانی نظام میں پلنے والے عشق کو موضوع بنایا جسے ''عم زاد عشق '' کا نام دیا گیا ۔

حسرت کو ''رئیس المتغزلین '' کا لقب دیا گیا  اور غزل کی نشاۃ ثانیہ کا علم بردار قرار دیا گیا ۔

حسرت نے کلاسیکی شعرا کے انتخاب اپنے رسالے '' اردوئے معلی '' میں  شائع کیے اور نئے عہد کے قاری کو غزل کی روایت سے ہم کنار کر دیا ۔

اسی طرح ''اصغر گونڈوی ''نے غزل میں تصوف کی آنچ سے ایک سنجیدہ اور باوقار لہجہ ابھارا ان کا کلام مختصر ہے لیکن ایک معیار ہے۔

فانی بدایونی  بھی بیسویں صدی کے نمایاں شاعر ہیں ان کے ہاں اگرچہ باطنی مضامین زیادہ ہیں اور غم کا عنصر انتہا پر ہے لیکن فانی کو صرف یاسیت اور غم تک محدود کر دینا انصاف نہیں۔فانی نے غالب کے زیر اثر  غزل میں فلسفیانہ اور حکیمانہ رنگ بھی پیدا کیا اور فانی کے اسی لہجے کا بعد کے شاعروں پر ایک خاص اثر رہا:

·       ہر نفس عمر  گزشتہ کی ہے میت فانی

         زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا

 

  •  ناصر کاظمی کی زندگی اور ادبی سفر کے متعلق جاننے کے لیے  یہاں دبائیں


·       زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں

      ہائے  اس قید کو  زنجیر بھی درکار نہیں

 

 

شاد ،حسرت،اصغر اور فانی اس صدی میں غزل کے نمائندہ شعرا ہیں ان کے علاوہ جگر مراد آبادی کی بھی مقبولیت بیسویں صدی میں  بہت زیادہ رہی ۔جگر بنیادی طور پر مشاعرے کے شاعر تھے ۔ان کی مقبولیت میں ان کے ترنم کا بہت ہاتھ تھا  حالاں کہ جگر  کے کلام میں داغ   کے جیسی زبان کی صفائی اور اصغر کے حکیمانہ  رنگ کی آمیزش نہ تھی ان کے کلام  میں بہت عمدہ اشعار ملتے ہیں :

·       مرگ جگر پہ ہیں کیوں تیری آنکھیں اشک ریز

اک سانحہ سہی مگر اتنا اہم نہیں

 

ان کے بعد مرزا یاس یگانہ چنگیزی کا نام آتا ہے ان کے دور میں انھیں  ان کا مقام نہ ملا پر بعد میں اس عہد کی واحد جدت کی آواز کے طور پر پہچانے گئے ۔

ترقی پسند  تحریک نے غزل کی بجائے نظم کو فوقیت دی اور اسے اظہار کا ذریعہ بنایا پر فیض نے غزل میں غم دوراں اور غم یار کو  مجسم کر دیا تو غزل میں تنوع پیدا ہوا اور غزل نے نئے موضوعات و عنوانات کو اپنے اندر جگہ دی ۔

اسی دور میں جوش ملیح آبادی اور  عظمت اللہ خان جیسے دو کٹر غزل مخالفین بھی سامنے آئے مگر غزل انتہائی سخت جان تھی اور اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ٹھہری۔

فراق اور حفیظ ہوشیارپوری دو ایسے شعرا اس منظر نامے میں نظر آتے ہیں جنھوں نے غزل کی روایت اور جدت کو ساتھ ساتھ برتا  اسی ادبی منظر نامے میں ناصر کا غزل کے افق پہ ظہور ہوتا ہے ۔

ناصر کاظمی کی غزل

ناصر کاظمی پاکستان بننے سے پہلے مشاعروں میں اپنا لوہا منوا چکے تھے لیکن پاکستان کے قیام کے بعد ناصر نمائندہ شاعر بن کے سامنے آتے ہیں۔آزادی کے بعد ان کی غزل میں نیا لہجہ در آیا جو تازگی سے بھر پور تھا اور اس میں  ایک خاص قسم کی انفرادیت تھی ۔

فطرت ،موسیقیت اور محاکات نگاری ان کے فن میں خاص مقام رکھتے ہیں ۔

ناصر کی شاعری کے نمائندہ موضوعات؛-

 

نوجوانوں کی آواز

ناصر کا اپنے محبوب کے ساتھ رویہ کلاسیکی شاعری جیسا نہیں ہے بلکہ وہ جدید عہد کے نوجوانوں کے احساسات و نظریات کی ترجمانی کرتے ہیں۔جو محبوب کے پاس رہتے ہوئے بھی  مطمئن نہیں  جو کبھی کبھی محبوب کے نام سے وحشت زدہ ہو جاتا ہے جس کو اضطراب کی دولت سے مالا مال کیا گیا ہے  جس کے ہاں جوش جنوں کے ساتھ اشکوں میں محبوب کی صورت بھی ڈھل جاتی ہے ۔جو نہ تو اپنے محبوب کا رہتا ہے بلکہ کبھی کبھی اپنی فکر سے بھی آزاد ہو جاتا ہے  جو محبت ترک تو کر لیتا ہے لیکن اس کے بعد بھی محبوب کی ضرورت محسوس کرتا ہے:

·       ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی

برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی

اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود

محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

ناصر کے اس رویے کے بارے میں ڈاکٹر عبادت بریلوی لکھتے ہیں :

''ناصر کاظمی اس نئی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے اس نئی زندگی میں آنکھ کھولی ہے

اس سے اثرات قبول کیے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کے مختلف پہلووں کو انھوں نے غزل میں ڈھال دیا ہے ۔''

ناصر محبت کے اس تھکا دینے والے انتظار اور دل کی بے تابیوں سے اکتا بھی جاتے ہیں پھر وہ افلاطونی عاشق بن کے نئے ظلم کے امیدوار نہیں رہتے بلکہ وہ پکار اٹھتے ہیں :

·       یہ کیا کہ اک طور سے گزرے تمام عمر

    جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو

 

یہاں ناصر محبت و عشق سے تو بے زار نہیں مگر محبوب سے دست کش ہو نا چاہتے ہیں ۔

 

واردات عشق:

 

ناصر کی شاعری میں عشق کی واردات و کیفیات کی ترجمانی بھی ملتی ہے  اور اس بیان میں ان کے ہاں مضامین و موضوعات میں کافی تنوع بھی پایا جاتا ہے ۔

انسان کے داخلی جذبات و احساسات کی انھوں نےحقیقت سے بھر پور تصویر کشی کی ہے  جس میں جگہ جگہ جدت سے بھر پور مزاج جھلک رہا ہے  ان مقامات پر ایک اچھوتے پن کا احساس ہوتا ہے :-

 

·       گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے

           خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے

 

 

·       یہ سانحہ بھی محبت میں بار ہا گزرا

     کہ اس نے حال جو پوچھا تو آنکھ بھر آئی

 

·       پھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصر

     بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی

یہ وارداتیں اور کیفیات اردو شاعری میں نئی ہیں یہ عشق تما م تر جذباتی نہیں ہے  انسانی زندگی کے بنیادی حقائق سے اس کا تعلق ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ جن معاملات اور کیفیا ت کو ناصر نے پیش کیا ہے ان میں زندگی کی بعض اہم اور بنیادی حقیقتوں کی جھلکیاں نظر آتی ہیں ۔ناصر نے عشق کو وہبی چیز نہیں بننے دیا بلکہ اپنے عہد کے عام انسان کی حرکات و سکنات کا روپ بنا دیا ہے ۔
غم دوراں :

ناصر عشق کی رنگینیوں میں گم ہوتے ہیں تو کبھی غم دوراں انھیں اداسی کے تاریک گڑھوں میں دھکیلتا ہے  اور وہ اداسی میں بھی لذت کشید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔زمانے کا غم انھیں گھیرے رہتا ہے اور وہ حسن عشق کے لطیف مسائل و معاملات کو اس سے الگ نہیں رکھ سکتے ،اسی لیے ان کے ہاں عشقیہ واردات کے ساتھ زمانے کے غم کا احساس اتنا شدید ملتا ہے  جس کا وہ اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتے :-

 

·       پہنچے گور کنارے ہم

        بس غم دوراں ہارے ہم

 

 

·       تمھی دل گرفتہ نہیں دوستو

           ہمیں بھی زمانے سے ہیں کچھ گلے

 

 

·       ایسا الجھا ہوں غم دنیا میں

       ایک بھی خواب طرب یاد نہیں

 

·       ذرا سی دیر ٹھہرنے دے اے غم دنیا

       بلا رہا ہے کوئی بام سے اتر کے مجھے

 

·       پھر شام وصال یار آئی

       بہلا غم روزگار کچھ دیر

ناصر غم کے ان جذبات میں شدت پیدا نہیں کرتے بلکہ اعتدال کا رستہ اپناتے ہیں  لیکن ان کے ہاں عشق کے ساتھ غم دنیا کا احساس اتنا شدید ہے کہ وہ خالص رومانی باتیں کرتے ہوئے بھی اس کی طرف اشارے کر جاتے ہیں ۔

رفتگاں کا درد :

ناصر کی شاعری کی نشوونما ۱۹۴۷ ء کے آس پاس ہوئی ہے اور اس زمانے میں تقسیم کے عمل کے دوران  ناصر بھی اس قیامت خیز آشوب سے متاثر ہوئے ۔اس کی انھوں نے حقیقت سے بھر پور ترجمانی کی ہے ۔زندگی اس زمانے میں جس طرح موت سے دوچار ہوئی ،رونقیں جس طرح ویران ہوئیں ،بہاروں پر جس طرح خزاں آئی ،آشیاں جس طرح برباد ہوئے ہیں  ناصر نے اپنی شاعری میں اسے بیان کیا ہے :-


·       رونقیں تھیں جہاں میں کیا کیا کچھ

لوگ تھے رفتگاں میں کیا کیا کچھ

کیا کہوں اب تم سےخزاں والوں

جل گیا آشیاں میں کیا کیا کچھ

 

 

اور آشیاں کے جلنے کےبعد زندگی کو جس صورت حال سے دوچار ہونا پڑا ہے اس کی ترجمانی اس طرح کی ہے :


·       کہاں تک تاب لائے ناتواں دل

کہ صدمے اب مسلسل ہو گئے ہیں

جنھیں ہم دیکھ کے جیتے تھے ناصر

وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں

 

 

ایک اور غزل میں شہروں کو جلا کر جشن طرب کے منانے کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے:

 

·       شہر در شہر گھر جلائے گئے

یوں بھی جشن طرب منائے گئے

اک طرف جھوم کے بہار آئی

اک طرف آشیاں جلائے گئے

کیا کہوں کس طرح سر بازار

عصمتوں کے دیے بجھائے گئے

 

ناصر خود ہجرت کے کرب سے گزرے اور وہ ہجرت کے سفر کا نقشہ اس طرح کھینچتے ہیں :

 

·       سفر ہے اور غربت کا سفر ہے

غم صد کارواں دیکھا نہ جائے

کہیں آگ اور کہیں لاشوں کے انبار

بس اے دور زماں دیکھا نہ جائے

 

 

ناصر کی شاعری میں تمثیلی انداز:

 

ناصر کاظمی تاثرات اور کیفیات کا شاعر ہے مگر ان کے پیچھے بھی جذبہ اور فکر کارفرما ہوتی ہے  اس سلسلے میں ناصر نے تمثالی طریقہ اپنایا ہے ۔

ان کے ہاں شہر اور متعلقات کی تمثالوں یعنی  مکان ،کھڑکیوں اور دروازوں کا ذکر ملتا ہے ۔ان تمثالوں کی مدد سے ناصر نے کچھ ذہنی رویوں کو اظہار میں لانے کی کوشش کی ہے چناں چہ انتظار حسین کے ساتھ آخری انٹرویو میں انھوں نے خود کہا تھا:

 

''اصل شہر تو دل ہے ۔باقی شہر جو باہر آباد ہیں وہ اس کی چھوٹی چھوٹی گلیاں ہیں ۔گویا جتنے

شہر ہیں باہر اس شہر عظیم جسے دل کہتے ہیں اس کی گلیاں ہیں۔''

 

شہر کی تمثالوں کے حوالے سے شہر کو جذباتی ،احساساتی اور تہذیبی رویوں  کو علامتی سطح پہ پیش کیاہے۔ناصر نے ان تمثالوں میں بھی خارجی اور باطنی دنیا کو ملانے کی کوشش کی ہے :

 

·       دھیان کی سیڑھیوں پہ  پچھلے پہر

کوئی چپکے سے پاوں دھرتا ہے

 

 

·       ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر

اداسی بال کھولے سو رہی ہے

 

ناصر کی تمثال کاری میں کبھی کبھی داستانوی رنگ بھی نظر آتا ہے :

 

 

·       دیکھ کے دو چلتے سایوں کو

میں تو اچانک سہم گیا تھا

ایک کے دونوں  پاوں تھے غائب

ایک کا پورا ہاتھ کٹا تھا

ایک کے الٹے پیر تھے لیکن

وہ تیزی سے بھاگ رہا تھا

 

فطرت پرستی

ناصر بچپن سے ہی  فطرت کے قریب رہے تھے  وہ بچپن میں ورڈزورتھ کی طرح چڑیوں کے گھونسلے ٹٹولتے ،تتلیوں کا تعاقب کرتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ فطرت ان کی شاعری کا ایک اہم رجحان ہے  فطرت ان کے اندر رچ بس گئی تھی ۔بیسویں صدی کا انسان فطرت سے دور ہو گیا تھا  مشینی ترقی کی چکا چوند میں کھویا انسان فطرت سے اغماض برت رہا تھا مگر اس عہد کے تخلیق کاروں کے ہاں فطرت سے محبت کا رویہ بہت مضبوط انداز میں سامنے آتا ہے ۔

ناصر کے ہاں سرسوں کے پھولوں ،فاختاوں ،اڑتی ہوئی کونجوں ،گھاس کے ہرے سمندر  کا ذکر کثرت سے ملتا ہے  گویا فطرت اپنی تمام تر ملائمت کے ساتھ ان کے زخموں کا مرہم بن جاتی ہے ۔

اس لیے ان کے ہاں فطرت کے کچھ کلیدی استعارے ظاہر ہوتے ہیں  ان میں ''چاند ''اور ''گل ''اہم ہیں :

 

 

·       پھر کسی گل کا اشارہ پا کر

چاند نکلا سر مے خانہ گل

 

 

·       یہ شب یہ خیال و خواب تیرے

کیا پھول کھلے ہیں منہ اندھیرے

 

·       پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے

پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے

 

·       پھر کاگا بولا گھر کے سونے آنگن میں

پھر امرت رس کی بوند پڑی تم یاد آئے

 

 

ناصر  کا کلام سہل ممتنع کی مثال ہے  دیگر فنی محاسن میں چھوٹی بحروں کا استعمال ،نئے استعاراتی نظام ،موسیقیت ،تمثال کاری  وغیرہ بہت  اہم ہیں ۔

ناصر کی ایک کامیابی یہ بھی ہے کہ انھوں نے شاعری لفظ شناسی کی بصیرت اور موسیقی کے شعور کے ساتھ کی ہے ۔ان کی غزل میں بڑے بڑے نظریات یا فلسفہ نہیں ہے لیکن وہ قاری کو سوچنے پر مجبور ضرور کر دیتے ہیں ۔

ناصر نے لکھا تھا :

 ·       کہتے ہیں غزل  قافیہ پیمائی ہے ناصر

یہ قافیہ پیمائی کوئی کر کے تو دیکھے 

Nasir kazmi Ghazal ناصر کاظمی  کی شاعری کا خصوصی مطالعہ||ناصر کاظمی کی غزل ||Nasir Kazmi ki Ghazal||جدید غزل
 ناصر کاظمی  کی شاعری کا خصوصی مطالعہ||ناصر کاظمی کی غزل ||Nasir Kazmi ki Ghazal||جدید غزل


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...