نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ترلوچن از اسد محمد خان||افسانہ ترلوچن||Asad Muhammad Khan afsana

 

 ترلوچن

 

جو کچھ ہوا اس سے پہلے یہاں انسانی بستیاں موجود تھیں  اور جانور درخت در یا اور پہاڑ سبھی تھے ۔ ایک تواتر کے ساتھ موسم آتے رہتے تھے۔ چیزیں اگتی تھیں ، بڑھتی ،پھیلتی اور پرانی ہوتی تھیں اور رسان سے مر جایا کرتی تھیں ۔ کبھی  کبھی کوئی قہقہہ مار کرہنس بھی دیا کرتا تھا۔ مجموعی طور پر سب ٹھیک ہی تھا۔ عین الحق یہ سب کچھ ختم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر کوئی کتے کا موت اس کی پیٹی کھول کر چیزوں کی فہرست نہ چرالے جاتا جو اس نے اتنی دلسوزی سے تیار کی تھی تو عین الحق ہرگز ہرگز و ہ نہ کر تا جواس نے کیا۔

اس نے جو کچھ کیا وہ وقتی اشتعال اور مایوسی کے تحت کیا تھا مگر اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے کہ اب تو کچھ تھا ہی نہیں جسے پھر سے ترتیب دیا جا تا ۔ سب ختم ہو چکا تھا ۔

 

اور جو کچھ ہوا ،وہ پلک جھپکتے ہو گیا۔ پیٹی خالی دیکھ کر اس نے اہلوک ، پرلوک اور دیولوک تینوں کی ڈوریاں اپنی انگشت شہادت پر لپیٹ کر مٹھی بند کی ، ایک ذرا کندھا جھکا کر جھٹکےسے انھیں اپنی پشت پر لیا، سیدھے ہاتھ کی مٹھی پر مٹھی کس کرالا اللہ کہا اور ہوا میں جیسے کدال چلاتے ہوے تینوں لوک زمین پر دے مارے ۔

یہاں تک بھی ٹھیک تھا، بات کچھ زیادہ بگڑی نہیں تھی ۔ لیکن اس کے بعد تو عین الحق نے غضب ہی کر دیا۔ وہ پورے قامت سے تن کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے جھٹکے سے اسٹکنگ پلاسٹر کا وہ ٹکڑا اپنی پیشانی سے نوچ پھینکا جسے وہ پابندی سے نماز کے گٹے  والی جگہ پر چپکا لیا کرتا تھا۔ پھر اس نے سر جھکا یا، زمین کی طرف دیکھا اور تمام و کمال قہاری میں اپنی تیسری آنکھ کھول دی اور تینوں لوک جلاکرخاک کر دیے۔

سواب دھویں اور راکھ کے سوا کچھ نہیں تھا جسے پھر سے ترتیب دیا جا تا ۔ سب ختم ہو چکا تھاور عین الحق جانتا تھا کہ دھوئیں اور را کھ کوتر تیب نہیں دیا جا سکتا۔ یہ خاتمہ ہے۔

 

یہ سب ایک بلی سے شروع ہوا تھا۔ ایک دن گلی سے گزرتے ہوے اس نے اچانک اس بلی کو دیکھا اور اسے فہرست بنانے کا خیال آ گیا۔ وہ بلی اس قدرزخمی اتنی میلی اور جگہ جگہ سے اتنی نچی  کچھی  تھی کہ ساری باتیں کا غذ پر لکھے بغیریاد  نہیں رکھی جاسکتی تھیں ۔ اس نے سوچا ، فہرست بنانا اچھا رہے گا ۔ وہ اب تک چیزوں کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا آرہا تھا۔ لیکن چیزیں اتنی بہت سی ہوگئی تھیں اور برابر بڑھتی جارہی تھیں اور ان کی تفصیل اتنی طولانی ہوتی جارہی تھی کہ اب ذہن میں محفوظ رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ وہ ڈرتا تھا کہ کہیں بھولنا شروع نہ کر دے۔اس لیے اس نے ایک بڑے کاغذ پر سات سو چھیاسی لکھااورنمبرشمار اور نام اشیا اور ان کے کوائف اور کار ہاۓ مجوز اور تاریخ عمل درآمد کے خانے بناۓ اور ان خانوں میں اس نے سب چیزیں درج کرنا شروع کر دیں ۔ تاریخ عملدرآمد کا خانہ ابھی خالی رکھا اس لیے کہ پہلے وہ چیزوں کو اور ان کی تفصیل کو حافظے سے کاغذ پرمنتقل کر لینا چاہتا تھا۔ یہ بہت ضروری تھا۔ باقی عملدرآمد میں دیر ہی کتنی لگتی ۔فہرست مکمل ہونے کے بعد وہ کسی بھی دن اور کسی بھی وقت کار ہاۓ مجوز کے خانے میں لکھی ہوئی باتوں پر عملدرآمد کر کے معاملے نمٹا سکتا تھا۔

 

تو اس نے سب سے پہلے نمبر شمار ایک پر بلی کو درج کیا اور اس کے کوائف لکھے اور کا رہائے مجوز میں درج کیا کہ اسے نئی کھال و غیرہ دینی ہے اور تاریخ عملدرآمد کا خانہ خالی چھوڑ دیا۔ دوسرے نمبر پر عین الحق نے ہیڈ کانسٹیبل لطافت میر خاں کی بیوہ رقیہ  بیگم کا مسئلہ درج کیا، وہ اسی بلا ک کے ایک لا ولد مکان میں تنہا رہتی تھی ، اسے عرق النساء کی شکایت تھی اور دکھ اور تنہائی میں اس کا چہرہ لٹک گیا تھا۔ یہاں کا رہاۓ مجوز کے خانے میں اس نے طے کیا کہ رقیہ بیگم کو عرق النساء سے چھٹکارا دینا ہے اور ایک لے پالک کے بیٹے بیٹیوں سے اس گھر کا صحن آباد کرنا ہے۔ رقیہ بیگم کے بعد اس نے بھورے خان  کولڈ ڈرنک اینڈ سگریٹ کارنر کودرج کیا جوبہتربرس کا تھکا ماندہ امرد پرست تھا۔ اس کا گھر بار نہیں تھا، دکان کے تھڑے پر ہی سو رہتا تھا۔ اسے خوبصورت لڑکوں کو دکان پر بٹھانے اور اسلامی تاریخی ناول پڑھوا کر سننے کا شوق تھا۔ پریشانی کی بات یہ تھی کہ لڑ کے بھاگ بھاگ جاتے تھے اور وہ انھیں یاد کر کرکے روتا تھا اور فتح یرموک کتنے ہی دن ملتوی رہتی تھی ۔ عین الحق نے بھورے خاں کولڈڈرنک اینڈ سگریٹ کارنر کو درج کیا اور اس کے کوائف لکھے اور کار ہاۓ مجوز میں لکھا کہ ایک خوبصورت اور باوفا لڑ کا ہمہ وقت موجود رہے تا کہ بھورے خان جدائی اور دکھ میں دہرا نہ ہو جاۓ اس لیے کہ بہتر برس بہت ہوتے ہیں ۔ پھر اس نے ہزارے سے آۓ ہوے شیر زمان موچی اور اس کے نیک نفس بھائیوں کو درج کیا جو فجر سے پہلے اٹھ کر شیر زمان کی چارپائی پر اکڑوں بیٹھ جاتے تھے ادراس سے اٹک اٹک کر قرآن پڑھا کرتے تھے ۔ ان سب کی بیویاں ملک میں تھیں اور وہ دن بھر شیرزمان کی ہدایت کے مطابق جوتے گانٹھتے اور ٹیپ ریکارڈر پر سلطان میاں قوال کی قوالیاں سنتے  تھے۔ عین الحق نے ان کے کوائف لکھے اور کا رہاۓ مجوز میں درج کیا کہ ان سب کا ان کی بیویوں سے ملاپ کرانا ہے اور لکھا کہ شیر زمان کی بواسیر خونی رفع کرنی ہے کیوں کہ وہ   بچوں اور قلیل آمدنی والے کمزورلوگوں سے بھی نرمی سے بات کرتا تھا۔ پھر عین الحق نے عقاب کے سے تجسس والی مائی نوراں مسی کو درج کیا جس کے پنجے بھی عقاب کے تھے اور عین الحق نے اس کے کوائف لکھے  اور کارہاۓ مجوز میں لکھا کہ مائی نوراں مسی نئی ریڑھ کی ہڈی دینی ہے اور بلاک نمبر دو سے بلاک نمبر آٹھ تک مکانوں کی عقبی گلی میں وافر مقدار میں پلاسٹک کے ٹکڑے ، ہڈیاں اور ردی کاغذ مہیا کرناہے جو عرصہ بارہ سال تک فراہم رہیں ، کس لیے کہ نوراں کا ناسور اسے اس سے زیادہ کی مہلت نہیں دے گا۔ عین الحق نے دفع نا سوراز پنڈلی لکھ کر کاٹ دیا کیونکہ اس طرح بعض گھروں سے ملنے والا خصوصی بونس بند ہونے کا احتمال تھا اور یہ بات کسی عنوان بھی نوراں کے لیے مناسب نہ تھی ۔ پھر بلاک نمبر دو سے بلاک نمبر آٹھ تک آتے ہوے، پارک سے متصل ، مد کامنی کے پیڑ کے نیچے پہنچ کر عین الحق نے دیکھا کہ تنوروالے مخما دولا نے مد کامنی کے نوعمر تنے سے اپنا مینڈھا باندھ باندھ کر اس کی نرم چھال کو ادھیڑدیا ہے تو عین الحق نے ادھڑی ہوئی چھال کے نم دائرے سے اپنی انگلیوں کے پورمس کیے اور

 مد کامنی کے پیڑ سے وعدہ کیا اور پیڑ کے کوائف درج کیے، پھر کار ہاۓ  مجوزمیں لکھا کہ مدکامنی کا زخم بھرنا  ہے اور تالیف  قلب کے لیے نئی  کونپلیں بھی دینی ہیں  پھر اس نے پولی ٹیکنک والے سہیل کو درج  کیا، جسے بیرون ملک بھیجنا تھا، اور عبدالقدیر  قادری اور عترت حسین کو  درج کیا جنھیں ترقیاں دینی تھیں اور عین الحق کی  مصروفیات بڑھتی چلی گئیں۔ اس نے برتن قناتوں والے نگے  کو درج  کیا جو گھر والی کی فحش  بدعنوانیوں کے سبب ڈھہہ گیا تھا اور  پور پور سے ہلاک ہو رہا تھا  تو عین الحق نے یہ لکھا کہ  اس بی بی کے نظام میں مناسب تبدیلیاں کر کے اسے نگے کی  اطاعت میں بحال کرنا ہے۔ اور عین الحق نے  موٹر سائیکل والے لڑکے کو  درج کیا  جو صبح و شام چکر لگا تا تھا اور بلاک نمبر تین  میں وہ بچی اسے خاطر میں نہ لاتی تھی  ۔ عین الحق نے اسے اداسی  سے موٹر سائیکل  پر چکر لگاتے دیکھا  اور نر م سرگوشیوں میں دعدہ کیا  کہ سب انتظام  کر دیا جائے گا۔ اور اس نے کموگا زر کی بیمار مرغی  کو درج کیا اوراس طرح چیزوں  کی فہرست طولانی ہوتی چلی  گئی ۔ وہ چراغ جلے بیٹھتا کہیں رات ڈھلے  دن بھر کے اندراجات  مکمل کر پا تا ۔ اور اب یہ ہونے لگا  کہ دونمبر یا  تین نمبر بلاک سے آٹھ نمبر  تک آتے آتے  کبھی ایک آدھ چیز بھول جاتا اور اسے دوبارہ موقعے پہنچ کر اندراج  مکمل کرنے پڑتے سواسی جھنجٹ میں چار نمبر بلاک کی حمیرا  کا لوکیمیا درج ہونے سے رہ گیا۔

 

اور جب اس اندراج  کی ضرورت نہ  رہی  تو بلاک نمبر چار کے اختتام  پر عین الحق ظاہر ہوا۔

وہ سڑک  کی طرف سے  گلی میں مڑا اور اس نے دیکھا کہ  مسجد نور کا چھوٹا والا گہوارہ پھولوں میں رکھا ہوا ہے ۔ عین الحق پیلا پڑ گیا۔ اس نے لرزتے کا نپتے ہوے دو پہر کے سناٹے سے پوچھا کیا حمیرا؟  وہ گہوارے کے  ساتھ ساتھ رینگتا ہوا چھ نمبر بلاک  تک گیا اور اس  نے دو پہر  کے سناٹے سے  پوچھا کیا حمیرا؟ اور وہ چھ نمبر سے آٹھ نمبر بلاک  کے سرے  تک دوڑتا ہوا  گیا اور خجالت کے  آنسوؤں میں بھیگتے ہوے  اس نے گہوارے  کا پایہ تھام  لیا اور ساتھ ساتھ چلنے  لگا اور ہولے ہولے  اپنی صفائی میں کہتا چلا کہ بی بی میں  بھول گیا تھا ؛بٹیا میں بھول گیا تھا؛ اماں میں  بھول گیا تھا؛ اور  آٹھ نمبر بلاک کی حد پر اس  نےگہوارے  کا پایہ چھوڑ دیا۔ پھر عین الحق   نے ایک چیخ  کی بازگشت  میں بلاک نمبر دو کی طرف سعی کی اور پکارتا چلا کہ میں بھول گیا تھا! پھر باقی دن اور باقی رات وہ اسی چیخ کی بازگشت میں رہا۔ وہ بلاک دو سے بلاک آٹھ تک اور بلاک آٹھ سے بلاک دو تک گونج کی طرح سنسنا تا رہا اور جو کچھ درج ہونے سے رہ گیا تھا دیوانہ وار اپنی یادداشت میں محفوظ کرتا گیا۔ ایک ایک مکان پر سے گزرتے ہوے اس نے اپنے حافظے میں سب چیزوں اور سب لوگوں کی حاجت مندیاں اور تمام چھوٹے بڑے دکھ محفوظ کیے اور طے کیا کہ مرغ کی بانگ سے پہلے انھیں فہرست میں درج کرے گا اور جب مرغ با نگ دے رہے ہوں گے تو عملدرآمد کرے گا ۔

 ایک پہر رات باقی تھی کہ وہ اپنے کمرے پر آیا اور یہ  دیکھا کہ کمرے کا تالاٹو ٹا ہوا ہے اور اس کی پیٹی اوندھی پڑی ہے ۔ کوئی کتے کا موت اس کی فہرست چرا لے گیا تھا۔

 پیٹی خالی دیکھ کر عین الحق نے حیرانی میں چھ طرفوں پر نظر ڈالی اور مایوسی میں سر ہلایا اور گمان سے بالاتر ہوا اور تب ہی عین الحق نے اہلوک ، پرلوک اور دیولوک تینوں کی ڈوریاں اپنی انگشت شہادت پر لپیٹ کر مٹھی بند کی ایک ذرا کندھا جھکا کر جھٹکے سے انھیں اپنی پشت پر لیا اور مٹھیاں کس کر ہوا میں کدال چلاتے ہوے تینوں لوگ زمین پر دے مارے... پھر دو پورے قامت سے تن کر کھڑا ہو گیا اور جھٹکے سے اپنی پیشانی کا پلاسٹر نوچ پھینکا۔ پھر عین الحق نے سر جھکا کر زمین کی طرف دیکھا اور تمام و کمال قہاری میں اپنی تیسری آنکھ کھول دی اور تینوں لوک جلا کر خاک کر دیے۔

مجموعہ :کھڑکی بھر آسمان 
القا پبلی کیشنز ،لاہور ۲۰۱۵


ترلوچن از اسد محمد خان||افسانہ ترلوچن||Asad Muhammad Khan afsana


آج کے مطالعے کے لیے ایک ورق مزید پڑھیں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری