اصناف نظم و نثر
ادب کیا ہے؟دنیا بھر کے ادیبوں اور ناقدوں نے اس لفظ کی حدود اور مفہوم متعین کرنےکی کوشش کی ہے ۔مگر اس کی آسان ترین تعریف یہ ہے
''اپنے خیالات و احساسات اور افکار کے با سلیقہ اظہار کا نام ہے ''
جس طرح دنیا میں انسان کو دو بڑی اصناف[مرد و عورت] میں تقسیم کیا گیا ہے اسی طرح دنیا بھر کا ادب بھی بالعموم دو حصوں میں منقسم ہے :
۱۔نظم
۲۔نثر
نظم کو کلام موزوں کہا جاتا ہے یعنی اس مین استعمال ہونے والے الفاظ ومحاورات یا تراکیب و اصطلاحات موزوں طریقے سے کسی خاص سانچے یا آہنگ میں ڈھلے ڈھلائے ہوتے ہیں ۔جب کہ
نثر میں بھی الفاظ معنویت کے حامل تو ہوتے ہیں لیکن وہ کسی خاص وزن ،آہنگ یا بحرکے پابند نہیں ہوتے ۔
پہلے ہم اصناف نظم کا مطالعہ کرتے ہیں
اصناف نظم
نظم کی دو حیثیتوں میں تقسیم کی جاتی ہے:
۱۔موضوعاتی لحاظ سے
۲۔ہئیتی اعتبار سے
اصناف نظم [بہ لحاظ موضوع]
حمد:
حمد عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ''تعریف کرنا''کے ہیں۔
اصطلاح میں حمد ایسی نظم ،شعر یا اشعار مراد لیے جاتے ہیں جن میں اللہ تعالی کی تعریف و توصیف بیان کی جاتی ہے۔حمد میں نہ صرف خدائے بزرگ و برتر کی تعریف کی جاتی ہے بلکہ اس کی صفات ، عظمت ،قدرت اور توحید کے رنگا رنگ مضامین بھی بیان کیے جاتے ہیں ۔حمد کے لیے مثنوی ،رباعی ،مسدس ،قطعہ اور غزل کی ہئیت اپنائی جا سکتی ہے ۔
قدیم دور سے لے کر آج تک تقریبا ہر شاعر کے مجموعہ کلام کا آغاز حمد سے ہوتا تھا حتی کہ غیر مسلم شعرا نے بھی اپنی مثنویوں اور شعری مجموعوں کا آغاز حمد باری تعالی سے کیا ہے :-
پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا
کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطف عام اس کا
سراپا معصیت میں ہوں ،سراپا مغفرت وہ ہے
خطا کوشی روش میری ،خطا پوشی ہے کام اس کا
مناجات:
مناجات کے لغوی معنی '' باہم رازونیاز کرنا'' کے ہیں مگر اصطلاح میں مناجات ایسی نظم کو کہتے ہیں جس میں خدا کی تعریف کے ساتھ ساتھ اپنی عاجزی ظاہر کر کے دعا اور التجا کی جائے ۔حمد اور مناجات میں معنوی طور پر یہ فرق ہے کہ حمد میں صرف خدا تعالی کی بڑائی بیان کی جاتی ہے لیکن مناجات میں عام طور پر دعائیہ یا التجائیہ انداز ہوتا ہے یعنی مناجات میں شاعر اپنے پروردگار سے کچھ طلب کرتا ہے :-
یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ،جو روح کو تڑپا دے
نعت:
نعت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ''تعریف کرنا'' کے ہیں ۔اصطلاحا یہ لفظ مدحت رسول کے لیے وقف ہو چکا ہے ۔نعت تاریخی حوالے سے نبی پاک کے دور میں ہی شروع ہو گئی تھی اور یہ سلسلہ آج تک پوری آب و تاب سے جاری ہے ۔
دنیا کی پہلی نعت کا سہرا حضرت خدیجہ کے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے سر ہے ۔
علاوہ ازیں حضرت حسان بن ثابت نے آپ کی خواہش پر اسلامی مقاصد کی ترویج کے لیے شاعری کی اور نعت بھی لکھی۔
فتح مکہ کہ موقع پر حضرت کعب بن زبیر بھی آپ کی خدمت میں ایک نعتیہ قصیدہ لکھ کر لائے اور اسلام قبول کر لیا۔آپ نے اپنی کملی ان کو عنایت کی۔
عربی اور فارسی میں نعت گوئی کی تاریخ طویل ہے ۔اردو میں نعت کا آغاز دکن سے ہوااور بعد مین شمالی ہندوستان کے شعرا نے بھی نعتیں لکھیں۔
دیا شنکر نسیم ،جگن ناتھ آزاد اور کشن پرشاد کشن وہ ہندو شعرا ہیں جنھوں نعت لکھی۔
اس کےعلاوہ الطاف حسین حالی ،حفیظ جالندھری ،احسان دانش ،ماہرالقادری ،مولانا ظفر علی خان ،حفیظ تائب ،محسن کاکوروی ،احمد رضا بریلوی اور مطفر وارثی نے نعت گوئی مین نام پیدا کیا۔۔۔۔
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غریبوں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
منقبت:
منقبت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی تعریف ،توصیف ،خاندانی فضیلت و برتری ،ہنر یا بڑائی کے ہیں۔۔۔۔
منقبت کی جمع مناقب ہے اصطلاح شعر میں منقبت سے مراد ایسی نظم ہے جس میں صحابہ کرام ،اولیائے عظام اور بزرگان دین کے اوصاف بیان کیے جائیں۔۔۔۔
قدیم اردو شاعری کی روایت میں منقبت لکھے جانے کا سلسلہ قلی قطب شاہ تک پہنچتا ہے ۔میرو سودا نے بھی تواتر سے مذہبی جوش و خروش سے لبریز ہو کر منقبت میں متعدد قصائد لکھے ۔
منقبت کے حوالے سے ایک اہم نام ''انشا ءاللہ خان انشا ''کاہے جنھوں نے خلفائے راشدین کے علاوہ ایک قصیدہ بارہ اماموں کا بھی لکھا ۔۔۔۔
اہم شعرا :
نظیر اکبر آبادی
میر انیس
میر زا دبیر
مرزا غالب
امیر مینائی
محسن کاکوروی '' آل و اصحاب خیرالانام''
جعفر بلوچ''بر سبیل سخن''
اقبال کی دو نظمیں '' بلال'' اور ''صدیق '' منقبت کی مثالیں ہیںن
پروانے کو چراغ ہے ،بلبل کو پھول بس
صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس
قصیدہ:
قصیدہ عربی زبان کا لفظ ہے جو لفظ ''قصد '' سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی " ارادہ کرنا '' کے ہیں ۔۔۔۔۔
قصیدے کا آغاز عرب شاعروں نے کیا ۔قدیم عرب میں شاعروں کی بہت قدرو منزلت تھی مولانا حالی نے ''مقدمہ شعرو شاعری ''میں لکھا ہے کہ :
'' عرب میں شاعر قوم کی آبرو سمجھا جاتا تھا ۔جب کسی قبیلے میں کوئی شخص شاعری میں ممتاز ہوتا تھا تو اور قبیلوں کے لوگ
اس قبیلے کو آ کر مبارک باد دیتے تھے اور سب مل کر خوشیاں کرتے تھے ۔قبیلے کی عورتیں بیاہ کے زیور پہن پہن کر آتی تھیں
اور فخریہ اشعار گاتی تھیں کہ ہم میں ایسا شخص پیدا ہوا جو تمام قبیلے کی ناک رکھنے والا ،ان کے نسب اور نام کی حفاظت کرنے
والا ہے۔''
ظہور اسلام سے قبل مکہ معظمہ کے قرب و جوار سے لوگ قصیدہ گو شعرا کو سننے آتے تھے ۔جب کسی شاعر کا قصیدہ اول قرار پاتا تو اسے خانہ کعبہ کی دیوار سے لٹکایا جاتا۔جب فتح مکہ ہوئی تو سات قصائد خانہ کعبہ کی دیواروں پہ آویزاں تھے جن کو تاریخ میں ''قصائد السبع المعلقات'' کہتے ہیں ۔ظہور اسلام کے بعد عرب شعرا خدائے عزوجل اور رسالت مآب کی شان میں حمد و نعت کی صورت میں قصائد کہتے۔
فارسی میں قصیدے کا باقاعدہ آغاز ''رودکی'' سے ہوا جنھیں فارسی شاعری کا جد امجد کہتے ہیں ۔جب کہ اردو شاعری میں بڑے قصیدہ گو شعرا میں مرزا رفیع سودااور شیخ ابراہیم ذوق شامل ہیں ۔
غلام ہمدانی مصحفی نے سودا کو قصیدہ نگاری کا ''نقاش اول '' قرار دیا ہے ۔
سودا کے بعد انشاء بھی قصیدے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ان کا قصیدہ ''طورالکلام'' شہرت کا حامل ہے ۔غالب ،مومن ،حالی اور محسن کاکوروی بھی قصیدہ نگاری میں اہم نام ہیں
قصیدے کی ہئیت کو دیکھا جائے تو اس کے چار حصے ہوتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔تشبیب
۲۔گریز
۳۔مدح
۴۔دعا
تشبیب:
قصیدے کا ابتدائی حصہ جس میں شاعر جذبات محبت یا خوب صورت فطری مناظر کے ذریعے قصیدے کی تمہید باندھتا ہے ۔تشبیب قصیدے کے کمال کی کسوٹی اور معیار کی ضمانت سمجھی جاتی ہے ۔
گریز:
تشبیب کے بعد گریز ہوتی ہے اس میں شاعر تشبیب کے آخری شعروں کو بنیاد بنا کر بڑی مہارت کے ساتھ ممدوح کا ذکر اس طرح کرتا ہے کہ مدح کی طرف آتے ہوئے ربط کلام نہیں ٹوٹتا۔
مدح:
تیسرا حصہ مدح کا ہے ۔اس حصے میں شاعر کی قوت تخیل کی پرواز کا راز منکشف ہوتا ہے اور وہ اپنے ممدوح کی خوب تعریف و توصیف کرتا ہے ۔یہی قصیدے کی اصل ہے یہاں خوب مبالغے سے کام لیا جاتا ہے ۔
دعا:
یہ قصیدے کا آخری حصہ ہے جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس حصے میں شاعر اپنے ممدوح کو دعائیں دیتا ہے اور بعض اوقات شاعر اس حصے میں حسن گفتار کے ذریعے اپنا صلہ بھی طلب کرتا ہے مثال کے طور پر مرزا غالب کے قصیدے کا یہ حصہ دیکھیں :
میری تنخواہ کیحیے ماہ بہ ماہ
تا، نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار
ختم کرتا ہوں اب دعا پہ کلام
شاعری سے نہیں مجھے سروکار
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
ہجو نگاری:
ہجو کے لغوی معنی" کسی کی برائی کرنا یا کسی کو برا بھلا کہنا " کے ہیں۔قصیدے کی متضاد صنف نظم ہجو ہے۔ابن رشیق نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کسی کو برا بھلا کہنا اس پر تہمت لگانا برا فعل ہے مگر شاعروں نے اسے موزوں کردیا ہے۔یہ صنف بھی عربی سے اردو میں آئی لیکن عربوں کے ہاں ہجو لکھنے کے کچھ اصول تھے جن کی پیروی لازمی تھی،وہ کسی کو گالی گلوچ نہیں دیتے تھے مگر فارسی سےاردو میں آنے تک اردو شعرا نے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا اور ایسی ہجویں لکھیں جن میں فخا شی اور بد زبانی سےخوب کام لیا گیا ۔ہجونگاری کا بڑا نام مرزا محمد رفیع سودا کا ہے۔جس طرح قصیدے میں ان کا کوئی ثانی نہیں اسی طرح ہجو میں بھی ان کا مرتبہ دیگر شعرا سے ممتاز ہے۔جب وہ کسی کی ہجولکھنے پہ آتے تو اس کا جینا دوبھرکر دیتے۔مجمد حسین آزا د نے اپنی کتاب " آب حیات'' میں ان کے مزاج کےبارے میں لکھا۔۔۔۔
سودا کے قلم سے کوئی بھی محفوظ نہ تھا۔ان کی کلیات میں تمام ہجویں شامل ہیں سوائے شاہ ولی اللہ کی ہجو کے جو کہ بر بنائےکثافت مرتب شمس الدین صدیقی نے خارج کر دی تھی ۔۔۔
اردو شاعری میں نامی ہجو گو شعرا میں جرات ،مصحفی اور انشا ءاللہ خان انشا کے نام آتے ہیں جدید دور میں بہت کم شاعروں نے اسے اپنایا۔۔
جعفر بلوچ کے ہاں یہ صنف ملتی ہے ان کا شعر مشہور ہے:
جب سے اے تحسین فراقی !تیرے سپرد ہوا
عبدالماجد دریا آبادی ، دریا برد ہوا
غزل:
اردو شاعری کی اہم ترین صنف ہے ۔غزل فارسی زبان کے لفظ ''غزال '' سے نکلا ہے جس کے معنی ہرن کے ہیں ۔شکار بنتے ہوئے انتہائی بے بسی کے عالم میں ہرن کے منہ سے جو چیخ نکلتی ہے اسے غزل کہتے ہیں۔۔۔
شعرا اپنے ذاتی دکھ ،ہجروفراق اور زمانی و زمینی مصائب کا بیان غزل میں کرتے تھے اور یہ صنف اسی لیے مخصوص تھی ۔ابتدا میں یہ صنف محض عشق و محبت اور باطنی کیفیات کے اظہار تک محدود تھی اس لیے غزل کے دوسرے معنی عورتوں سے متعلق گفتگو کرنے کے ہیں ۔مگر رفتہ رفتہ اس کے دائرہ کار میں وسعت آتی گئی اور آج کی غزل نے دنیا جہان کے مسائل اور موضوعات کو اپنے اندر جگہ دی ہوئی ہے ۔
غزل کا پہلا ہم قافیہ شعر مطلع کہلاتا ہے ا س کے ردیف کی شرط نہیں ہوتی ،اگر کسی غزل میں دو سے زائد مطلعے ہوں تو دوسرے مطلعے کو حسن مطلع کہتے ہیں ۔۔۔۔۔تیسرے کو مطلع ثالث اور آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے اسے مقطع کہتے ہیں۔
اس صنف کی ابتدا قدیم دکنی شاعری میں ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ اردو کی سب سے مقبول صنف بن گئی۔۔۔
مثال:
جزا دے گا تمھیں بھی اور ہمیں بھی
خدا دے گا تمھیں بھی اور ہمیں بھی
کسی بھی وقت اپنی بزم سے وہ
اٹھا دے گا تمھیں بھی اور ہمیں بھی
کسی بھی وقت اپنے ہاتھ سے وہ
مٹا دے گا تمھیں بھی اور ہمیں بھی
گناه نارسائی پر وہ محرم
سزا دے گا تمھیں بھی اور ہمیں بھی
سنا ہے وہ ملا دیتا ہے بچھڑے
ملا دے گا تمھیں بھی اور ہمیں بھی
طارق حبیب
مرثیہ
مرثیہ عربی زبان کے لفظ ''رثا'' سے نکلا ہے
جس کے لغوی معنی '' کسی مرنے والے کا ذکر حسرت و غم کے انداز میں کرنا '' کے ہیں ۔
شاعری کی زبان میں مرثیہ سے مراد ایسی نظم ہوتی ہے جس میں کسی مرنے والے کا انتہائی درد آمیز تذکرہ کیا جاتا ہے ۔اس میں دکھ اور افسردگی کے ساتھ محبت اور عقیدت کے جذبات بھی پائے جاتے ہیں مرثیہ ہر ہئیت میں لکھا جا تا رہا ہے ۔۔۔۔
اس کی تین اہم اقسام ہیں :
ا-رسمی مرثیہ [قومی رہنماوں یا شہیدوں کے لیے مثلا قائد اعظم یا ۶۵ کی جنگ کے شہدا کے لیے ]
ب۔شخصی مرثیہ [کسی قریبی عزیز یا رشتہ دار دوست کی وفات پہ لکھا جانے والا مرثیہ ]
ج-کربلائی مرثیہ [کربلا کے شہدا کے لیے لکھا جانے والا مرثیہ]
لازم تھا کہ دیکھو میرا رستہ کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں ،اب رہو تنہا کوئی دن اور
مرثیے کا آغاز و ارتقا
مرثیے کا باقاعدہ آغاز دکن سے ہوا۔بہنمی دور کے شاعر اشرف بیابانی کی مثنوی''نو سرہار" کو اہل بیعت کی محبت اور مرثیے کا اولین نقش سمجھا جاتا ہے ۔۔اس کے ساتھ ہی ''کربل کتھا '' از فضل علی فضلی کو بھی اولیت کا درجہ حاصل ہے ۔اردو مرثیہ گوئی میں میر ضاحک کے خاندان کو خاص اولیت حاصل ہے ۔
میر انیس نے اسی خاندانی وصف کا بیان کچھ اس انداز میں کیا ہے :
عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں
پانچویں پشت ہے شبیر کی مداحی میں
انیس و دبیر اردو مرثیہ کے سب سے بڑے حوالے ہیں جدید اردو نظم میں مرثیہ کو غزلوں میں بھی برتا گیا ۔۔۔
مرثیے کے پانچ اجزا ہوتے ہیں :
تمہید: اس میں شاعر مرثیے کا آغاز کرتا ہے اکثر اس میں مناظر فظرت کا بیان ہوتا ہے
سراپا:
اس حصے میں اس شخصیت کا سراپا اور اس کے ہتھیاروں کا ذکرہوتا ہے ۔۔۔
رخصت :
اب شہید اپنے لشکر سے ایک شان کے ساتھ کارزار کی طر ف جاتا ہے
آمد:
میدان جنگ میں ورود
رجز:
جنگی ترانہ
جنگ :
دو بدو لڑائی کا ہونا
شہادت :
شہادت کے درجے پہ فائز ہو جاتا ہے
بین:
آہ و بقا اور نوحہ
دعا:
دعا کے ساتھ اختتام
شہر آشوب :
آشوب کے لغوی معنی ہیں '' بربادی ،بگاڑ یا فتنہ فساد کے ''
اصطلاح شاعری میں شہر آشوب اس نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی شہر کی بربادی ،گردش آسمانی اور زمانے کی ناقدری کا بیان ہو۔
اس صنف کے اعتبار سے میرو سودا مشہور ہیں جب جنھوں نے دلی کی بے روزگاری ،اقتصادی بد حالی اور دلی کی تباہی و بربادی کا ذکر کیا۔پھر نظیر اکبر آبادی آگرہ کی فوج کی حالت زار اور شرفا کی ناقدری کی کا بیان کرتا ہے ۔۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جو قیامت ٹوٹی اسے غالب ،داغ اور حالی نے موضوع بنایا۔۔۔۔۔
اقبال کی نظم '' صقلیہ '' شہر آشوب کے حوالے سے اہم ہے اس کے اندر اقبال نے مسلمانوں کی عظمت رفتہ کا بیان کیا اور موجودہ بے نظمی کو نظم کیا :
نالہ کش شیراز کا بلبل ہوا بغداد پر
داغ رویا خون کے آنسو جہاں آباد پر
جتنے سپاہی یاں تھے نجانے کدھر گئے
دکھن کے تئیں نکل گئے یا بیشتر گئے
ہتھیار بیچ ہو کے گدا گھر بہ گھر گئے
جب گھوڑے بھالے والے بھی یوں دربدر گئے
پھر کون پوچھے ان کو جو اب ہے کٹار بند
نظیر اکبر آبادی
واسوخت :
واسوخت کے لغوی معنی ''بیزاری ،روگردانی یا تنفر '' کے ہیں ۔اصطلاح ادب میں واسوخت سے مراد ایسی صنف نظم ہے جس میں شاعر محبوب کی روگردانی سے دل برداشتہ ہو کر آئندہ کے لیے اس سے اپنی بے پروائی اور بے زاری کا اظہار کرتا ہے ۔فارسی شاعری میں وحشی یزدی اس کا موجد ہے اردو میں میر تقی میر نے اس صنف کو پہلی دفعہ برتا۔علاوہ ازیں میر حسن ،جرات ،انشا اور قائم کے ہاں بھی واسوخت کی متعدد مثالیں ملتی ہیں ۔امیر مینائی کا مجموعہ '' مینائے سخن '' اسی صنف پر مشتمل ہے ۔
ریختی :
اصطلاح میں ریختی اس صنف نظم کو کہتے ہیں جو عورتوں کی زبان میں کہی جائے ۔ریختی در اصل غزل کی ہی ایک بگڑ ی ہوئی شکل ہے اور سعادت یار رنگین اس کو اپنی ایجاد کہتے ہیں ۔رنگین اور انشاءاللہ خان انشا اس کے اہم شعرا ہیں ۔
تحریف [پیروڈی]
تحریف عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ''کسی چیز کو اس کی اصل حالت سے تبدیل کرنا یا بدل کر کچھ کا کچھ کر دینا '' کے ہیں ۔
انگریزی میں اس کو پیروڈی کہتے ہیں ۔۔۔۔
اکبر لاہوری کے ہاں پیروڈی کی اک مثال :
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
میر درد
اب اس شعر میں تحریف دیکھیں:
لڑنے بھڑنے کے لیے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں
تضمین:
تضمین کا لفظ ''ضمن '' سے نکلا ہے جس کے معنی ''ساتھ ملانا یا شامل کرنا '' کے ہیں ۔۔۔
اصطلاح شعر میں کسی دوسرے شاعر کے شعر کو اپنی نظم داخل کرنا تضمین کہلاتا ہے یہ ایک ہی بحر اور قافیہ ردیف کا ایک مصرع یا شعر ہو سکتا ہے جوواوین ‘’ ‘’ لگا کے اپنی شاعری میں شامل کر لیا جاتا ہے ۔۔۔۔
اقبال نے اپنی نظم''خطاب بہ جوانان اسلام '' میں غنی کاشمیری کا یہ مشہور شعر تضمین کیا ہے :
کبھی اے نوجواں مسلم !تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
آگے شعر تضمین کیاگیا ہے
غنی روز سیاہ پیر کنعاں را تماشا کن
کہ نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخارا
مزاحیہ شاعری میں اس صنف کا استعمال بہت زیادہ ہوا ہے۔
تعمیل
اب کھانے پکانے سے ہی فرصت نہیں ملتی
بیگم کی سیاست سے ’’کچن‘‘ میں ہوں نظر بند
بیوی کے ہر اک ظلم کی تعمیل ہو کیسے
''مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند''
( بلبل کاشمیری)
گیت :
گیت ہندی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب راگ ،نغمہ یا گائی جانے والی چیز کے ہیں ۔یہ لوک روایت اور سچے جذبات کا ترجمان ہوتا ہے ۔اقبال کے نزدیک '' غزل اور گیت میں فرق یہ ہے کہ جب عورت مرد سے اظہار محبت کرتی ہے تو گیت بنتے ہیں اور جب مرد عورت کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے تو غزل بنتی ہے ''۔
کافی :
کافی پنجابی اور سندھی ادب کی مقبول صنف ہے ۔اس میں وحدت الوجود ،فنا وبقا ،دنیا سے بے تعلقی اور دنیا کی بے ثباتی کا بیان کیا جاتا ہے ۔زیادہ تر اسے صوفیانہ فکر وخیالات کی پیش کش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔۔۔
اس کے اہم شعرا بلھے شاہ ،شاہ حسین اور بابا غلام فرید ہیں
سہرا :
سہرا شادی بیاہ پر دولھے کے سہرے کی سجاوٹ کی تعریف اور ازدواجی زندگی کی کامیابی کی دعاوں پر مبنی نظم کو کہتے ہیں ۔۔
یہ صنف خالصتا اردو زبان کی دین ہے ۔۔۔۔
رخصتی :
اس صنف میں رخصتی کے وقت لڑکی کی شرم وحیا اور اس کے سگھڑ پن کو بیان کیا جاتا ہے ۔۔۔
اصناف نظم [بہ لحاظ ہئیت] پڑھنے کے لیے یہاں ۔۔۔۔۔کلک کریں
حوالے کے لیے ملاحظہ کریں:-
اصناف ادب از رفیع الدین ہاشمی
اصناف نظم و نثر از ڈاکٹر علی محمد خان ،ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
| اصناف نظم و نثرمرتب صبا قیصر|اردو ادب کی اصناف |اصناف سخن|Asnaf e sukhan |
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں