اردو تاریخ نوٹس
مرتب :قیصر شہزاد ساقیؔ
یہ اردو زبان و ادب کے ارتقا کے نوٹس ہیں جن کا بنیادی ماخذ’’اردو ادب کی تاریخ‘‘ از تبسم کاشمیری اور دوسری تواریخ ہیں۔ زمانہ طالب علمی میں لیکچرر اور دوسرے اردو امتحانات کے لیے تاریخ کا مطالعہ کیا اور نوٹس لیے تھے جنھوں نے پی پی ایس سی میں سلیکشن کے دوران بہت مدد کی تھی اب ان کو اکٹھا کرنے کا خیال ہواامید ہے یہ اردو کے طلبا کو ضرور پسند آئیں گے اور آئندہ امتحانات میں ان کی مدد کریں گے:
· شمالی ہند میں ابتدائی زبان و ادب کا جائزہ
مسعود سعد سلیمان(۱۰۴۸ تا ۱۱۲۱)
ان کے عربی ، فارسی اور ہندوی دیوان کا ذکر ملتا ہے۔
امیر خسرو ؔ نے ان سے ۱۵۰ سال بعد ان کے دیوان کا ذکر کیا ہے مگر ہندوی کلام کا نمونہ دستیاب نہیں ہے ۔
· بابا فرید گنج شکر (۱۱۷۳ تا ۱۲۶۶)
بابا فرید گنج شکر کے منظومات کو جمع کر لیا گیا ہے مگر صحت متن میں اختلاف ہے۔
· امیر خسرو (۱۲۵۳ تا ۱۳۲۵)
ضلع ریٹہ اتر پردیش میں پیدا ہوئے اور دلی میں انتقال کیا۔موسیقی میں خیال ایمن ،قول ،ترانہ کے راگ ترتیب دیے اور طبلہ و ستار نواز بھی تھے جو ان کی ادب و فن سے گہری وابستگی کا عکاس ہے۔
عزلدین کیقیباد کے جنگی قیدی بن کر بلخ بھی گئے ۔ان کی دو مثنویاں ’’ نہ سپہر‘‘ اور ’’قرآن السعدین‘‘ ہیں۔
ان کا دیوان ’’ غرڪ الکمال‘‘ اور’’ خالق باری‘‘ ہے۔ تذکرہ ’’مجموعہ نغز‘‘ از قدرت اللہ قاسم ان کے کلام کا بڑا حوالہ ہے۔
نمونہ کلام:
![]() |
| اردو زبان و ادب کا ارتقا||urdu adab ki history||history of urdu literature nots |
شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم بہ برد تسکیں
کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں
چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر
نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں
بحق روز وصال دلبر کہ داد مارا غریب خسروؔ
سپیت من کے ورائے رکھوں جو جا کے پاؤں پیا کی کھتیاں
· پنتھ کبیر(۱۴۴۰ تا ۱۴۷۰ کے درمیان وفات)
تسلیم و رضا سے قرب خداوندی حاصل کرتا ہے اور خدا کے آگے سربسجود ہوتا ہے۔ وہ ’’ بھگتی تحریک‘‘ کاحصہ تھے جس کا اولین علم بردار رامانج تھا یہ عام لوگوں خصوصا کمزور سماجی حیثیت کے لوگوں کی تحریک تھی۔ شمال(پنجاب) میں اس کی واضح آواز نانک کی صورت میں موجود تھی۔اس تحریک سے وابستہ لوگ عام فہم اور عوامی لب و لہجے میں شاعری کرتے تھے ۔نمایا ں شعرا میرا بائی،بھگت سورداس،چنڈی داس، تلسی داس اور نام دیو شامل ہیں ۔
شعری نمونہ:
![]() |
| اردو زبان و ادب کا ارتقا||urdu adab ki history||history of urdu literature nots |
"پوتھی پڑھ پڑھ جگ موا، پنڈت بھیا نہ کوئے،
ڈھائی اکھر پریم کا، پڑھے سو پنڈت ہوئے"
موکو کہاں ڈھونڈھے بندے میں تو تیرے پاس میں
نا میں دیول نا میں مسجد نا کعبے کیلاس میں
نا تو کون کریا کرم میں نہیں جوگ بیراگن میں
نا میں چھگری نا میں بھنڑی نا میں چھوری گنڑاس میں
نہیں کھال میں نہیں پوچھ میں نا ہڈی نا مانس میں
میں تو رہو سہر کے باہر میری پوری مواس میں
کھوجی ہوئے تو ترتے ملیہوں پل بھر کی تلاس میں
کہے کبیرؔ سنو بھائی سادھو سب سانسن کی سانس میں
· حضرت نوشہ گنج بخش(۱۶۵۴ وفات)
ان کی مشہور مثنوی ’’ گنج الا سرار‘‘ ہے اور انتخاب کلام ’’ انتخاب گنج شریف ‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے لیکن صحت متن میں اختلاف ہے۔
· محمد افضل (گوپال) وفات ۱۶۲۵ء
افضل کی تصنیف ’’ بکٹ کہانی ‘‘ بارہ ماسہ(بارہ مہینوں سے وابستہ موسمی حالات ، کیفیات اور اپنے جذبات و احساسات کا آئینہ دار بنا کر دل کی کہانی بیاں کرنا ) کی اردو میں پہلی شکل ہے ۔ بارہ ماسہ نازنین کی زبان سے بیان ہوتا ہے جو اپنے محبوب کے ہجروفراق میں شاعرانہ اظہار کرتی ہے ۔
؎ قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
شمالی ہند میں اردو صرف دہلی کے مضافات تک محدود نہ تھی بلکہ دوردراز کے علاقوں میں بھی ادبی ورتاروں میں بھی ادبی ورتارے میں شامل تھی اس کی اہم مثال ’’ شاہ مراد‘‘ (1626- 1702ء)ہیں جو چکوال کے قصبہ خان پور میں تکیہ شاہ مراد میں بیٹھے تھے وہ ایک صوفی تھے ان کا کلام ’’ نامئہ مراد‘‘ کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کے علاوہ اٹک سے شیخ عبدالشکور شاکر بھی اہم حوالہ ہیں۔
شاہ مراد کی شاعری کا نمونہ:
نہ مسجد جا، نہ کر سجدہ،نہ رکھ روزہ،نہ مربھوکا
وضو دا پھوڑ دے کوزہ، فنا کے جل میں نہاتاجا
پکڑ کر عشق کا جھاڑو صفا کر حجرہ دل کو
دوئی کی دھوڑ سب اپنے مصلے سے اڑاتا جا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرا مکھ گل گلستانی نہیں وہ چاند آسمانی
نہیں سورج تبستانی جو آتش روشنائی ہے
دْکھن کا جب سواد ہویا پریشاں دل آباد ہویا
گدا جو شاہ مراد ہویا دو انکھوں کی گدائی ہے
۔۔۔۔۔۔۔
اردو کی مشہور صنف سخن غزل کیا ہے ؟ تعریف و مفہوم پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں
گجری ادب :
اردو کی پہلی مراجعت گجرات کی طرف ۱۳۹۸ ء میں امیر تیمور کے دلی پر حملے کے بعد شروع ہوئی۔نمایاں نام مندرجہ ذیل ہیں:
· شاہ بہاؤالدین باجنؔ
ان کا زمانہ ۱۳۸۸ ء تا ۱۵۰۶ء کا بنتا ہے ۔ان کی مشہورتصنیف ’’خزائن رحمت اللہ‘‘ ہے
· قاضی محمود دریائی(۱۵۳۶ء)
· شاہ علی محمد جیو گام دھنی(۱۵۶۵ء)
ان کی نمایاں تصنیف ’’ جواہر اسراللہ‘‘ ہے
خوب محمد چشتی(۱۶۱۴ء)
ان کی مشہور تصنیفات ’’خوب ترنگ‘‘ اور ’’چھند چھنداں‘‘ ہے۔
دوسرا حصہ ملاحظہ فرمانے کے لیے یہاں دبائیں۔۔۔
مزید مطالعہ کریں


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں