غزل
غزل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے ’’ عورتوں سے متعلق بات چیت کرنا یا عورتوں کے حسن و عشق اور شباب‘‘ کا بیان کرنا کے ہیں ۔
لغات کشوری میں غزل کے یہ معنی ٰ درج ہیں :
’’وہ کلام جس میں عورتوں کے حسن و جمال کی تعریف اور عشق و عاشقی کا ذکر ہو‘‘
غزل غزال(ہرن) سے ہے ۔غزال کو جب شکاری شکار کرنے کی غرض سے تیر مارتے ہیں تو غزال ذخمی ہو کر بھاگتاہے اس عالم میں اس کے قدم تیز ہو جاتے ہیں وہ چوکڑیاں بھرتا ہے یہاں تک کہ ذخم کی تکلیف کی وجہ سے بے دم ہو کر گر جاتا ہے اس وقت جو بے بسی اور حسرت غزال کی آنکھوں میں ہوتی ہے اس کو ’’غزل ‘‘ کا نام دیا گیا
اصلاح شعروسخن میں غزل سے مراد شاعری کی وہ قسم ہے جس میں معاملات حسن و عشق کا بیان خلوص دل کی چاشنی کے ساتھ ایک خاص ہیئت اور آہنگ کے ساتھ موجود ہو ۔ واردات قلبی ، ہجرووصال کی کیفیات ،شکایات زمانہ،تصوف اور مضامین حقیقت و عرفان بھی اس کے خصوصی موضوعات ہیں۔
رشید احمد صدیقی کے بقول:
’’غزل محبت،حسن ،جذبات اور انسانی احساسات کا وہ آئینہ ہے جس میں شاعر کے دل کی گہرائیاں اور جذبات کی نرمی جھلکتی ہے ‘‘۔
موضوع:
شروع میں غزل عاشقانہ معاملہ بندیوں اور ہجرو وصال کی کیفیات کے بیان کے لیے مخصوص رہی جس میں شاعر اپنے محبوب کے حسن جمال ،ہجرووصال ،آرائش و زیبائش ،وفاوں اور جفاوں کا ذکر کرتا لیکن آہستہ آہستہ اس کا دامن وسیع ہوتا گیا اور اب جدید غزل میں محبوب کے حسن وجمال کے علاوہ سیاسی، اخلاقی ،معاشرتی ،فلسفیانہ ،معاشی ،تصوف اور مناظر فطرت کے مضامین بھی بیان ہونے لگے ہیں۔ گویا دور حاضر کی غزل صرف محبوب کے لب و رخسار کی داستان نہیں بلکہ غم دوراں کی ترجمان بھی ہے ۔
خصوصیات:
· خیالات کا تنوع
· وسعت مضامین
· سوزوگداز
· اشاراتی انداز
· ایجازواختصار
· روانی اور ترنم
· آفاقیت

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں