حمد
تجھی سے ابتدا ہے ، تو ہی اک دن انتہا ہو گا
صدائے ساز ہو گی اور نہ ساز بے صدا ہو گا
ہمیں معلوم ہے ،ہم سے سنو ،محشر میں کیا ہو گا
سب اس کو دیکھتے ہوں گے ،وہ ہم کو دیکھتا ہو گا
سر محشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہو گا
در جنت نہ وا ہو گا، در رحمت تو وا ہو گا
جہنم ہو کہ جنت ، جو بھی ہوگا فیصلا ہو گا
یہ کیا کم ہے ؟ ہمارا اور ان کا سامنا ہو گا
نگاہ قہر پر بھی جان و دل سب کھوئے بیٹھا ہے
نگاہ مہر عاشق پر اگر ہو گی تو کیا ہو گا
یہ مانا بھیج دے گا ہم کو محشر سےجہنم میں
مگر جو دل پہ گزرے گی ،وہ دل ہی جانتا ہو گا
!سمجھتا کیا ہے تو دیوانگان عشق کو ،زاہد
یہ ہو جائیں گے جس جانب ،اسی جانب خدا ہو گا
جگر کا ہاتھ ہو گاحشر میں اور دامن حضرت
شکایت ہو کہ شکوہ ،جو بھی ہو گا برملا ہو گا
- اردو کے مشہور شعرا کی غزلیات یہاں پڑھیں
- اردو کی مزاحیہ شاعری کا یہاں مطالعہ کریں
- علامہ محمد اقبال کی شاعری اور تفہیم کے لیے یہاں وزٹ کریں
- ناصر کاظمی کی حیات اور شاعری یہاں پڑھیں
- اردو ادب کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیے یہاں دبائیں
![]() |
| حمد باری تعالٰی از جگر مراد آبادی||حمدیہ اشعار||Hamd e Bari Taala az Jiger Murad Abadi |

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں