مندرجہ ذیل اشعار ناصر ؔ کاظمی کے مجموعے ’’دیوان‘‘(غزلیں ۱۹۷۲) سے لیے گئے ہیں باقی مجموعوں سے اشعار کا انتخاب جلد نشر کیا جائے گا :
یہ کیا کہ ایک طور سے گزرے تمام عمر
جی چاہتا ہے اب کوئی تیرےسوا بھی ہو
----
نیت شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرابکھر نہ جائے کہیں
-----
ناصرؔکیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
دیوانہ ہے دیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے
-----
گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل
مجھ سے اتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دور نکل
میرا منہ کیا دیکھ رہا ہے ، دیکھ اس کالی رات کو دیکھ
میں وہی تیرا ہمراہی ہوں ساتھ مرے چلنا ہو تو چل
------
جدا ہوئے ہیں بہت لوگ ایک تم بھی سہی
اب اتنی بات پہ کیا زندگی حرام کریں
ناصر کاظمی کی شاعری میں ہمیں ایک نیا انداز ملتا ہے اس سے پہلے غزل کا عاشق محبوب کے در پر عجز و انکسار کا پتلا بنا اور محبوب کے جوروستم کو اپنی منہاج سمجھتا ہے لیکن ناصر ؔ نے محبوب کو کھری کھری سنانا شروع کیں یہ ایک نیا اسلوب اور نیا انداز تھا جو بہت پسند کیا گیا امید ہے قارئین کو یہ کاوش پسند آئی ہو گی ۔
مزید شاعری پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں
- اردو کے مشہور شعرا کی غزلیات یہاں پڑھیں
- اردو کی مزاحیہ شاعری کا یہاں مطالعہ کریں
- علامہ محمد اقبال کی شاعری اور تفہیم کے لیے یہاں وزٹ کریں
- ناصر کاظمی کی حیات اور شاعری یہاں پڑھیں
- اردو ادب کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیے یہاں دبائیں
![]() |
| attitude poetry in urdu|Nasir Kazmi Poetry|ناصر کاظمی کے اشعار |

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں