نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

انتخاب غزل ڈاکٹر شفیق آصف انتخاب عمیر آصف|shayari urdu Shafique Asif Ghazal

 

  غزل ڈاکٹر شفیق آصف




 انتخاب : عمیر آصف

رہا ہوں کرب کی لہروں سے ہم کنار اب تک

رہا ہوں کرب کی لہروں سے ہم کنار اب تک

 ستا رہا ہے مجھے موسم بہار اب تک

 

ٹھہر گیا ہے ترا انتظار آنکھوں میں

 گیا نہیں مری آنکھوں سے انتظار اب تک

 

چین اجاڑکے آندھی تو جا چکی لیکن

 پرند پیڑوں میں بیٹھے ہیں بے قرار اب تک

 

یہاں شگفتہ ہواؤں کا کون طالب ہے

یہاں تو حبس کا موسم ہے ساز گار اب تک

 

ہے اب بھی وقت اندھیروں کو مات دینے کا

رواں ہے شب کے اسیروں میں یہ پکاراب تک

 

وہ  شخص لوٹ کے آ بھی چکا مگر آصف

سوار ہے تری سوچوں پر برف زاراب تک



تھاجو پیکر عالم تمثیل میں




تھاجو پیکر عالم تمثیل میں

آگیا ہے چشم تر کی جھیل میں

 

میرے دل کا پوچھتے ہیں مجھ سے آپ

میرا دل ہے آپ کی تحویل میں

 

جس کی سانسوں میں ہے خوشبوۓ وصال

ہے وہ منظر لمحہ  تکمیل میں

 

آپ جو چاہیں روا رکھیں سلوک

سر بہ سر حاضر ہیں ہم تعمیل میں

 

جانے کیوں اس دور کا ہر  آدمی

محو ہے ا نسان کی تذلیل میں


بات ان سے مختصر کیجیے شفیق

پڑ رہے ہو کس لیے تفصیل میں


زندگی کی رہگزر ہو اور تو ہو




زندگی کی رہگزر ہو اور تو ہو

اور نہ کوئی ہم سفر ہو اور تو ہو

 

چاند میرے رت جگوں کا آئنہ ہے

  آج پھر وہ جلوہ گر ہو اور تو ہو

 

تیرا پیکر ہو نظر کی دسترس میں

ایک میری چشم تر ہو اور تو ہو

 

ختم بھی ہو ریگزاروں کی مسافت

 کاش اپنا کوئی گھر ہو اور تو ہو

 

موئے خا مه خود تراشے خال و خد کو

کوئی ایسا بھی ہنر ہو اور تو     ہو

 

گفتگو کے پھول جاگیں  آج آصف

 میرے لفظوں میں اثر ہو اور تو ہو

 

 اس کا ہے انتظار  پھر شاید




اس کا ہے انتظار  پھر شاید

دل ہوا ہے بے قرار پھر شاید


سسکیاں سن رہا ہوں میں شب کی

چاند ہے سوگوار پھر شاید


نقش پا ڈھونڈتا ہے گلیوں میں

راستے کا غبار پھر شاید

 

آنسووں کی طلب ہے آنکھوں کو

وقت ہے شعلہ بار پھر شاید


اپنے خوابوں کے در کھلےرکھنا

آنے والا ہے یار پھر شاید

 

زخم پھر لب کشا ہوئے آصف

آ رہی ہے بہار پھر شاید

 

 وہ ملا تو جانے کیوں اک شور سا برپا ہوا




وہ ملا تو جانے کیوں اک شور سا برپا ہوا

بات معمولی تھی سارے شہر میں چرچا ہوا

 

چل رہی تھیں سارے جنگل میں ہوا کی بر چھیاں

پاس ہی اک جھونپڑی میں دیپ تھا جلتا ہوا

 

کل ستارے رو رہے تھے بے کسی پر جب مری

چاند کو دیکھا تھا میں نے جھیل میں ہنستا ہوا

 

جانے کب اور کس جگہ سانسوں کو آزادی ملے

دور تک اک سلسلہ  ہے  حبس کا پھیلا ہوا

 

اک کھلونے کی طرح انسانیت کا ہے  وجود

شاہراه زندگی پر ٹوٹ کر بکھرا ہوا

 

لوگ کہتے ہیں جسے تصویر زخم آرزو

گلشن احساس میں وہ پھول ہے مہکا ہوا

 

میری آنکھیں رات دن بس  اس کی جانب ہیں شفیق

 ان خلاؤں سے  پرے  وہ کون ہے  ٹھہرا ہوا




ڈاکٹر شفیق آصف کا کلام انتخاب عمیر آصف|Shafique Asif Ghazal



ڈاکٹرشفیق آصف13 اپریل 1968ءکو تحصیل بورے والا ضلع وہاڑی میں پیدا ہوئے ۔ (ضلع وہاڑی تاریخ ، ثقافت ، ادب ، ص 945)انھوں نے ابتدائی تعلیم بورے والا اور ملتان کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی ۔ ڈی ایچ ایم ایس کا چارسالہ کورس نیشنل کونسل فارہومیو پیتھی اسلام آباد سے مکمل کیا ۔ فاضل طب و جراحت کی سند نیشنل کونسل فار طب اسلام آباد سے حاصل کی ۔جنوبی پنجاب کے اہم شہر ملتان میں طویل عرصہ تک ادبی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے اسی دوران روزنامہ ”نوائے وقت “ملتان ، اور روزنامہ ” جنگ “ ملتان میں کالم نگاری بھی کی ۔ ڈاکٹر شفیق آصف 2005ءمیں ریڈیو پاکستان سرگودھا سے بحیثیت ڈیوٹی آفیسر / اناٶنسر / کمپیئر منسلک ہوئے ۔ چند ہی دنوں بعد یونی ورسٹی آف سرگودھا میں بھی ملازمت اختیار کر لی ۔ اسی دوران نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز اسلام آباد سے ایم اے اردو کیا ۔ یونیورسٹی آف سرگودھا سے ” عبدالرشید کی نثری نظم نگاری ۔ تحقیقی و تنقیدی جائزہ “ پر ایم فل کی ڈگری 2010 ءمیں حاصل کی اور ”اردو غزل پر جدید نظم کے فکری و اسلوبیاتی اثرات“ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز اسلام آباد سے پی ایچ ڈی کی ڈگر ی حاصل کی ۔ڈاکٹر شفیق آصف 2013 ءسے یونیورسٹی آف سرگودھا میانوالی کیمپس میںبطور صدر شعبہ اردوکام کر رہے ہیں ۔ آپ کے شعری مجموعوں میں ” رنگوں میں اتر آنا “ ( اردو ) ، ” کونجاں جاگ پیاں “ ( پنجابی ) ” جب خواب بکھرتے ہیں“ اور ” اک چہرہ بناٶں گا “ ( اردو ماہیے ) شائع ہو چکے ہیں ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری