![]() |
| Public Hospital by Qaisar Shahzad Saqi|Urdu poetry|شہر مریضاں از قیصر شہزاد ساقی |
شہرِ مریضاں
(پبلک ہسپتال میں ایک مریض کی عیادت کے دوران)
یہ آہوں کا مسکن
یہ درد کی دنیا
بچھائے ہیں یہاں کتنی عفریتوں نے جال
دکھوں سے ستائے ،زخموں سے نڈھال
یہ غلام ابنِ غلام ابنِ غلام لوگوں کا ڈیرا
یہ شہرِ مریضاں ، یہ شہرِ مردگاں
یہاں کون مرہم ؟؟؟
اک نازنین
گلے میں سٹیتھو سکوپ لٹکائے
کھلی زلفوں کو کندھوں پہ لہرائے
کئی پیٹ بھرے عاشقوں کی دھڑکنوں کی امیں
جس کے ہر ایک قدم پہ نثار ہزار دل
جس کے اندازِناز سے زندگی بال سنوارے
اس شہر کے بے درماں مکینوں کے لیے
کوئی مرہم نہیں، کوئی مرہم نہیں
یہ کیسے دیکھوں؟
سسکتے ، کرلاتے جسم
جو سنگ و خشت سے کھیلتے
زمین کےزخم سیتے
یہاں آخری ہچکی لینے آئے ہیں
ایک ہال ۲۰بسترِ مرگ
یہاں جب کوئی مکیں کم ہوتا ہے
تو سب بے بسی کے عالم میں آنکھیں چار کرتے ہیں
اور اک دوجے کو دلاسہ دیتے ہیں


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں