نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سوانح نو عمری|مشتاق احمد یوسفی|ڈاکٹر اشفاق احمد ورک|مشتاق احمد یوسفی اقتباسات|Mushtaq Ahmad Yusufi|Dr Ishfaq Ahmad virk

  

سوانح نو عمری

 

سوانح نو عمری|مشتاق احمد یوسفی|ڈاکٹر اشفاق احمد ورک|مشتاق احمد یوسفی اقتباسات|Mushtaq Ahmad Yusufi|Dr Ishfaq Ahmad virk
سوانح نو عمری|مشتاق احمد یوسفی|ڈاکٹر اشفاق احمد ورک|مشتاق احمد یوسفی اقتباسات|Mushtaq Ahmad Yusufi|Dr Ishfaq Ahmad virk

مشتاق احمد یوسفی

 مرتب: ڈاکٹر اشفاق احمد ورک

ادیب کو جو کچھ کہنا ہوتا ہے وہ تو اپنی تحریر میں کہ چکا ہوتا ہے اگر اس میں کوئی تشنگی ہے تو یہ اس کی تحریر کی اور اس کے ادیب ہونے کی تشنگی ہے ۔ اس کی ضرورت بالکل نہیں ہونی چا ہیے کہ وہ زبانی بھی کہے، یہ میرا عقیدہ ہے ۔ چنانچہ اپنے بارے میں اور اپنے فن کے بارے میں جو بھی چیز میں نے کہنے کے لائق سمجھی وہ تحریر میں آ گئی ۔  عام آدمی کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اس کی زندگی میں صرف تین موقعے ایسے آتے ہیں جب وہ تنہا سب کی نگاہوں کا مرکز ہوتا ہے ۔ عقیقہ ، نکاح اور تدفین ۔  یہ سرگذشت ایک عام آدمی کی کہانی ہے جس پر بحمد اللہ کسی بڑے آدمی کی پر چھا ئیں تک نہیں پڑی۔۔۔۔ ایک ایسے آدمی کے شب و روز کا احوال جو ہیرو تو کجا ANTI-HERO ہونے کا دعوا  بھی نہیں کر سکتا ۔ عام آدمی تو بے چارہ اتنی بھی سکت اور استطاعت نہیں رکھتا کہ اپنی زندگی کو مردم آزاری کے تین مسلمہ ادوار میں تقسیم کر سکے ۔ یعنی جوانی میں فضیحت ، ڈھلتی عمر میں نصیحت اور بڑھاپے میں وصیت ۔ یہ طغیان شباب ، لاف ہاۓ شاد کامی ، معاصرانہ چشمکوں اور سیاست کی شورا شوری کی داستان نہیں ، نہ کسی کی مہم جوئی اور کشور کشائی کا ''سا گا‘' ہے ۔ باایں ہمہ میں خود کوسکندر اعظم سے زیادہ خوش نصیب و کامراں سمجھتا ہوں ، اس لیے کہ میں زندہ ہوں اور میری ایک سانس کی بادشاہت ابھی باقی ہے --- غالب نے خود کو اس بنا پر آدھا مسلمان کہا تھا کہ شراب پیتا ہوں ، سود نہیں کھا تا فقیر سود کھا تا ہے ، حرام شے نہیں پیتا کہ وہ وسیلۂ معاش نہیں ۔ حضرت موسی کی امت نے تو سونے کے بچھڑے کی صرف پرستش ہی کی تھی ہم تو اس سے افزائش نسل کا کام بھی لینےلگے ہیں۔ سود پر رو پیہ چلانا انسان کا دوسرا قدیم ترین پیشہ ہے ۔اس کے بارے میں کم از کم اردو میں ابھی تک کچھ نہیں لکھا گیا ۔ پہلے قدیم ترین پیشے کا حق تو مرزا رسوا نے امراؤ جان ادا میں اور بعدازاں سعادت حسن منٹو نے بکمال حسن وخوبی و خو با ں ادا کر دیا ۔

 افسوس میرے یہاں سوانح کا اتنا فقدان ہے کہ تادم تحریر زندگی کا سب سے اہم واقعہ میری پیدائش ہے ( بچپن کا سب سے قابل ذکر واقعہ یہ تھا کہ بڑا ہو گیا) اور غالبا آپ بھی مجھ سے متفق ہوں گے کہ اس پر میں کوئی تین ایکٹ کا سنسنی خیز ڈراما نہیں لکھ سکتا۔  یہ ایک نو آموز بینکر کی آشفتہ بیانی ہے، کسی مقتول کا بیان نزعی نہیں جس کے اختتام پر اسے مرنے کی اجازت اور ملزم کو پھانسی دے دی جائے گی .... آپ بیتی میں ایک مصیبت یہ ہے کہ آدمی اپنی بڑائی آپ کر ے تو خودستائی کہلاۓ اورا از راہ کسر نفسی یا جھوٹ موٹ اپنی برائی خود کرنے بیٹھ جائے تو یہ احتمال کہ لوگ جھٹ یقین کر لیں گے ۔  کب اور کہاں پیدا ہوئے؟ یکم محرم کو ۔ ستوانسا ۔ ٹونک (راجستھان ) میں ، جہاں کے خربوزے اور چکو باز مشہور ہیں ۔۔۔۔۔آبائی مسکن جے پور۔  تعلیم جے پور ، آ گرے اور علی گڑھ میں ہوئی اور عمر عزیز کا بیشتر حصہ کراچی میں گزرا ۔

اس صدی کی تیسری دہائی میں ایک خاتون نے جوار دو میں معمولی شد بد رکھتی تھیں ، اس زمانے کا مقبول نادل ''شوکت آرا بیگم ''پڑھا جس کی ہیروئن کا نام شوکت آ را اور معاون کردار کا نام فردوس تھا۔ ان کے جب بیٹیاں ہوئیں تو دونوں کے یہی نام رکھے گئے ۔ ایک کردار کا نام ادریس اور دوسرے خدائی خوار کا اچھن تھا۔ یہ دونوں انھوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو بطور نام اور عرفیت بخش دیے ۔ بچے کل چار دستیاب تھے ۔ جب کہ ناول میں ہیرو کو چھوڑ کر ، ابھی ایک اور اہم کر دار پیارے میاں نامی ولن کا باقی رہ گیا تھا ۔ چنانچہ ان دونوں ناموں ، دو ہرے رول کا بوجھ بڑے بیٹے ہی کو اٹھانا پڑا جس کا نام ہیرو کے نام پر مشتاق احمد رکھا گیا تھا، یہ سادہ لوح خاتون میری ماں تھی ۔ بحمد اللہ ناول کی پوری کاسٹ ، با استثناۓ شوکت آ را، جس کا طفولیت ہی میں انتقال ہو گیا تھا، زندہ سلامت ہے۔ والدہ کی بڑی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں اور عرب جا کر بدوؤں کا مفت علاج کروں ،اس لیے کہ ناول کے ہیرو نے یہی کیا تھا ۔ مولا کا بڑا کرم ہے کہ ڈاکٹر نہ بن سکا ورنہ اتنی خراب صحت رکھنے والے ڈاکٹر کے پاس کون پٹھکتا......البتہ ادھر دو سال سے مجھے بھی سعودی عرب، بحرین، قطر ،عمان اور عرب امارات کی خاک نہیں ، تیل چھاننے اور شیوخ کی خدمت کی سعادت نصیب ہوتی رہی ہے ۔  ہم اندرون سانگا نیری گیٹ جے پور کے رہنے والے تھے ۔  پرسٹلی نے کہیں لکھا ہے کہ جے پور سے زیادہ صاف سڑکیں میں نے دنیا میں کہیں نہیں دیکھیں ، وجہ یہ کہ گو براور لید زمین پر گرنے سے پہلے ہی اچھوت عورتیں کیچ لے لیتی ہیں ۔  اُردو سیکھی مارواڑ میں...... جہاں ہم پیدا ہوئے۔۔۔۔اردو .... مادری زبان نہیں ہے ! حالانکہ۔۔۔ اہلیہ اہل زبان ہیں ۔  یوں تو میں بھی ٹھیٹ اہل زبان ہوں ، بشرطیکہ زبان سے مراد مارواڑی زبان ہو ۔ ہر لفظ کے آگے پیچھے دو چشمی ''ھ''لگا کر بولیں تو شاید لہجے میں وہ دھڑ دھڑاہٹ اور ھمھمہ پیدا ہو جو راجستھانی بولی کا ٹھاٹھ اور سنگھار ہے ۔  مجھے قو می زبان اردو سیکھنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑی ۔ جے پور کی مشہور چیزیں سانڈ ،کھانڈ ، بھانڈ اور رانڈ ..... ہیں ۔  سلیم شاہی جوتیاں اور چنری۔۔۔۔ صاحب را جستھان بھی خوب تھا۔۔۔ کیا کیا سوغاتیں ۔۔۔تھیں۔۔۔۔ اور یہ بھی خوب رہی کہ مارواڑیوں کو جس چیز پر بھی پیار آ تا ہے اس کے نام میں ''ٹھ''، ''ڈ'' اور'' ڑ''  لگا دیتے ہیں ..... راجستھان میں رانڈ سے مراد خوبصورت عورت ہوتی ہے۔ سبھی خوبصورت نور علٰی نور بلکہ حور علٰی حور ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔صاحب راجستھان کے تین طرفہ تحفوں کے تو ہم قائل اور گھائل ہیں ۔ میرا بائی ، مہدی حسن اور ریشماں ۔  تیسری جماعت تک ٹو نک ( راجستھان ) میں خود پرتعلیمی تجر بے کرواۓ ۔  دودھ کے دانت ٹوٹنے سے پہلے ہی ہم خاصے دبیز شیشے کی عینک لگانے لگے تھے ۔ پانچویں جماعت میں قدم رکھنے سے پہلے ہماری عینک کا نمبر ۷  ہو گیا ۔ بچپن ہی سے صحت خراب اور صحبت اچھی رہی ہے۔  یہاں ایک ادبی بدعت اور بد مذاقی کی وضاحت اور معذرت ضروری سمجھتا ہوں کہ عاجز نے با قاعدہ فارسی صرف چار دن چوتھی جماعت میں پڑھی تھی اور ''آمد نامہ” کی گردان سے اس قدر دہشت زدہ ہوا کہ ڈرائنگ لے لی، ہر چند کہ اس میں گردان نہیں تھی لیکن مقامات آہ وفغاں کہیں زیادہ نکلے تین کرم فرما ایسے ہیں جو بخوبی جانتے ہیں کہ میں فارسی سے نا بلد ہوں ۔۔۔۔۔ یہ تین درویش بے ریا و ریش برادرم منظور الٰہی شیخ ( مصنف در  دلکشاں دلکشا  ،دکھتا اور سلسلۂ روز وشب ) دوسرے کرم فرما ہیں ڈاکٹر ضیاء الدین شکیب ۔۔۔ اور تیسرے ہیں حبیب لبیب و صاحب طرز ادیب محبی مختار مسعود، جو عاجز کے وسیع وعمیق علمی خلا کو پر کرنے میں ربع صدی سے جٹے ہوۓ ہیں ۔۔۔۔خداان تینوں عالموں کے درمیان اس فقیر پر تقصیر کو سلامت بے کرامت رکھے ۔ جب سے میری صحت خراب ہوئی ہے ، ان کی طرف سے متر د در ہتا ہوں ۔ ''کس کے گھر جاۓ گا سیلاب بلا میرے بعد '' گھڑی آج تک نہیں رکھی ۔  پہچان :قد پانچ فٹ ساڑھے چھے انچ ( جوتے پہن کر)  عمر کی اس منزل پر آ پہنچا ہوں کہ اگر کوئی سن ولادت پو چھ بیٹھے تو اسے فو ن نمبر بتا کر باتوں میں لگالیتا ہوں ۔  میں آپ کو پیدائش کا سال نہیں بتاؤں گا کیونکہ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے  ۔  اوور کوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں ، یوں سانس روک لوں تو ۳۸ انچ  کا بنیان پہن سکتا ہوں ۔ بڑے لڑکے کے جوتے کا نمبر۷ ہے جو میرے بھی فٹ آ تا ہے ۔ اپنے آپ پر پڑا ہوں ۔ پسند : غالب ، ہاکس بے ،بھنڈی ۔ پھولوں میں ، رنگ کے لحاظ سے  سفید گلاب اور خوشبوؤں میں نئے کرنسی نوٹ کی خوشبو بہت مرغوب ہے ۔  موتیا پسند ہے ۔ پالتو جانوروں میں کتوں سے پیار ہے ۔ پہلا کتا چوکیداری کے لیے پالا تھا ، اسے کوئی چرا کے لے گیا ۔ اب محض بر بناۓ وضع داری پالتا ہوں کہ انسان کتے کا بہترین رفیق ہے ۔ ۔۔۔۔گانے سے بھی عشق ہے اسی وجہ سے ریڈ یو نہیں سنتا۔  چڑ : جذ باتی مرد، غیر جذ باتی عورتیں ، مٹھاس ، شطرنج ۔  کافی سے چڑ کی اصل وجہ معدے کے۔۔۔۔۔ داغ (ULCERS) ۔۔۔۔۔- جن کو میں دو سال سے لیے پھر رہا ہوں اور جو کافی کی تیزابیت سے جل اٹھے ہیں ۔ دوسروں کو کیا نام رکھیں ہم ..... بیسیوں چیزوں سے چڑتے ہیں ۔ کرم کلا، پنیر، کمبل ، کافی اور کا فکا ، عورت کا گانا، مرد کا ناچ ، گیندے کا پھول ، اتوار کا ملاقاتی ، مرغی کا گوشت ، پاندان ، غراره ، خوبصورت عورت کا شوہر ۔  کرکٹ آج تک نہ کھیلی ...... ہمیشہ چڑ رہی ۔  مشاغل: فوٹو گرافی، لکھنا پڑھنا۔ سبھی رنگ پسند ہیں ۔۔۔۔ تیز مہکار چہکارنہیں بھاتی۔ رات کی رانیاں دونوں قسم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ دو رکسی اور آنگن ہی سے مہک دیتی اچھی لگتی ہیں۔ ۔۔۔جہاں تک حسن کا تعلق ہے ، وغیرہ وغیرہ پسند ہے ۔ ہمیں نام ، مردوں کے چہرے، کاروں کے میک ، شعر کے دونوں مصر عے، یکم جنوری کا سالانہ عہد،بیگم کی سالگرہ اور سینڈل کا  سائز، کل کے اخبار کی سرخیاں ، دوستوں سے خفگی کی وجہ۔۔۔۔۔ اور نہ جانے کیا کیا یادنہیں رہتا ۔ انٹر میڈیٹ  میں با چھ سے باچھ  تک مونچھیں رکھی تھیں ۔ میری والدہ بہت اچھی نقادتھیں ۔ جب میں اپنے ماضی  میں جھانکتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ مجھ پران کا بہت اثر ہے ۔ غالبا یہ انھی  کی حس مزاح ،گہرے مشاہدے اور تلون مزاجی کا اثر ان کے بیٹے پر ہوا۔ میرے والد بہت سنجیدہ انسان تھے ۔ جے پور میونسیپلٹی کے چیئر مین، اسٹیٹ مسلم لیگ اور دیگر مسلم تعلیمی اور ثقافتی اداروں کے صدر اور اسمبلی کی حزب اختلاف کے لیڈر رہ چکے تھے ۔ اسمبلی ہی میں سقوط حیدرآباد میں پاکستان کی حمایت میں تقریر  کرنے پر انھیں ہندوستان چھوڑ نا پڑا ۔ سادہ دل، بے ریا ، پابند شرع، فقیر منش اور زبان کے کھرے تھے ۔ دل کی بات زبان پر لانے میں انھیں ذرا بھی نہیں سوچنا پڑتا تھا۔ موروثی جائیداد سے وہ اپنے چھوٹے بھائی کے حق میں دستبردار ہو گئے تھے ۔ راجستھان میں مسلمانوں کے دیرینہ و بے لوث خدمت گزار اور تحریک پاکستان کے سپاہی کی حیثیت سے بھی سبھی  انھیں جانتے پہچانتے تھے ۔ والد مرحوم پاکستان آنے لگے تو اپنے پوسٹ آفس سیونگ بینک اکاؤنٹ میں ساڑھے چار ہزار روپے چھوڑ آئے تھے جو ان کے حساب سے بیس  سال کے سود کی رقم بنتی تھی ۔ وہ کسی ایسے مسلمان کے ہاں دعوت کھا نا تو بڑی بات ہے، پانی پینا بھی حرام سمجھتے تھے جس کے متعلق انھیں معلوم ہو کہ وہ اپنے اکاؤنٹ  پر سود لیتا ہے ... وہ ریاست ٹو تک میں پولٹیکل سیکرٹری رہ چکے تھے ۔ ریاستی خو بو سے مبرا، پابند شرع ،سادہ دل مسلمان تھے ۔ کٹے ، بے علم نہ تھے ۔ جے پور کے پہلے مقامی مسلمان تھے جس نے ۱۹۱۴ء  میں بی اے کیا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ 'شبیہ ''مکمل ہو تو اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے ۔ بزرگ جاہ و مال سے بے نیاز تھے فقط ہمیں اپنی نشانی چھوڑا۔  ۳۱ ۔دسمبر۱۹۴۹ء۔۔۔۔ ہم جے پور سے چلے ہیں ۔ کراچی میں براہ کھو  کرا  پار وارد ہوۓ ۔۔۔۔وہ صبح  نہیں بھولے گی جب ریلوے لائن کے کنارے ایک چھوٹی سی سفید چمکتی تختی پر پہلے پہل پاکستان لکھا نظر آیا تو اسے ہاتھ سے چھو چھو کر دیکھا تھا پھر مٹی اٹھا کر دیکھی ۔ السلام علیکم کہتے ہوۓ سندھی ساربان دیکھے۔ ہندوستان کے نوٹ پر پہلی دفعہ حکومت پاکستان چھپا ہوا دیکھا اور پھر ریگزار راجستھان میں پرکھوں کی قبریں ، وہ بولی جو ماں کے دودھ کے ساتھ وجود میں رچی بسی تھی اور اپنے پیاروں کےآنسوؤں سے بھیگے چہرے، خیر گی امروز میں دھندلاتے چلے گئے ۔ منا باؤسے کھوکھراپار تک  ہندوستان و پاکستان کا سرحدی علاقہ ہم نے اونٹ کی کوہان پر بیٹھ کر طے کیا تھا (اونٹ کے بقیہ حصوں پر دوسروں کا اسباب رکھا تھا)۔ انٹرویو کے دن تک ہماری ٹانگوں کا درمیانی فاصلہ اسی کو ہان کے برابر یعنی ایک گز تھا۔  یہ جنوری ۱۹۵۰ ء کی ایک ایسی ہی صبح کا ذکر ہے۔۔۔۔۔۔ کراچی میں یہ ہماری پہلی صبح تھی ۔ گوارا حد تک گرم ہونے کے علاوہ یہ ایک تاریخ ساز صبح بھی تھی ۔ زمستان کی اس صبح بینکاری کے پیشے سے ہمارے طویل ''فلر ٹیشن'' کا آغاز ہوا.... میکلوڈ روڈ پر بینک کا ہیڈ آفس تلاش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی ۔ ہم نے ایک چھپی ہوئی پر چی پر اپنا نام لکھ کر جنرل مینجر مسٹر ڈبلیو ۔ جی ۔ایم ۔ اینڈرسن کو بھجوایا ۔ تقریب بہر ملاقات کے خانے میں بار یک حروف میں ’سرکاری‘ لکھ دیا، جس سے ہماری مراد یعنی بسلسلہ ملازمت تھی اور آخر میں جلی حروف میں فرستاد ہ... مسٹر ایم ۔ اے اصفہانی ، چیئر مین بینک ہذا ۔ خیال آیا کہ ملازمت مل بھی گئی تو ایسے باپ کو یہ کیسے بتائیں گے کہ مچھندر نے بہر طور پر روٹی کمانے کے لیے کیا کسب اختیار کیا ہے۔  بچپن میں ہم بھی کیرئیر کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے تھے تو انجن ڈرائیوری کے سامنے بادشاہی بھی ہیچ معلوم ہوتی تھی .... ہم نے خود کو ہر بہروپ ، ہر سوانگ میں دیکھا تھا سوائے بینکر کے۔۔۔۔۔ یہ وہ  چوتھی کھونٹ تھی جس طرف جانے کی ، داستانوں میں سخت مناہی ہوتی ہے لیکن جدھر جانے والا ضرور جاتا ہے اور پچھتا تا ہے ۔ ہم نے تادم تقریر وتقر رکسی بینک کو اندر سے نہیں دیکھاتھا البتہ اتنا علم تھا کہ اگرکوئی شخص یہ  ثابت کر دے کہ اس کے پاس اتنی جائیداد اور سرمایہ ہے کہ قرض کی قطعا ضرورت نہیں تو بینک اسے قرض دینے پر رضا مند ہو جا تا ہے ....ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ سود جسے حرام ٹھہرایا گیا ہے اور ربا جس کی حرمت میں ہمیں آج بھی شبہ برابر شبہ نہیں ہمارا ذریعہ معاش ہی نہیں ، بلکہ ہر اعتبار سے غالب و کار آفریں، کارکشا اور کارساز ثابت ہوگا ۔ میرا تقر رمسٹرایم۔ اے اصفہانی نے اور ئینٹ ائیرویز میں کیا تھا ۔ میں سول سروس چھوڑ کر ہندوستان سے کراچی آیا۔  کہاں وہ خود داری کہاں  یہ  سجدہ نا قبول؟ بندہ نا خدا! مزے سے بیٹھے کشکول بجاتے رہو۔ تین برس۔۔۔۔۔ ڈپٹی کمشنر رہے۔  صاحب تین سال پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔یوں بینک میں جوت دیے جائیں گے ۔ کہاں ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی کرسی اورکہاں بینک کا چارفٹ اونچا اسٹول ۔  از بسکہ ہماری ہر تباہی اور خانہ بربادی ہمارے مخدوم مرزا عبدالودود بیگ کی ذاتی نگرانی میں ہوئی ہے ، ہم نے جا کر انھیں خوشخبری سنائی کہ ہم بینکنگ کے پیشے میں حادثاتی طور پر داخل ہو گئے ہیں ۔ اور یوں ہماری زندگی میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔۔۔۔اگر ہم نے اپنے دانا دوست میاں محمدشفیع کے مشورے پر عمل کیا ہوتا تو آج ہم ایک نا کام سے بینکر کے بجائے ٹو ٹا باسمتی چاول اور کریانہ کے نا کام آڑھتی ہوتے ۔ ۳ یا ۴ جنوری ۱۹۵۰ ء کا ذکر ہے ، ہم نے بینک میں قدم رکھا تود بیز گرم تھری پیس  سوٹ میں ملبوس تھے ۔ واسکٹ کی جیب میں نہایت قیمتی سونے کی گھڑی تھی جو ہماری پرسنلٹی کے پسماندہ حصوں سے ، جو سوٹ سے باہر نکلے رہ گئے تھے قطعی لگانھیں کھاتی تھی ۔ یہ نواب سرابراہیم علی خان ، والی ریاست ٹو نک نے ۱۹۲۸ء میں ابا جان کو بخشی تھی اور انھوں نے ہمیں بی اے میں یو نیورسٹی میں اول آنے پر تحفتہ  دی تھی۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...