مشتاق احمد یوسفی||حالات زندگی||مرتب ڈاکٹر اشفاق احمد ورک||Mushtaq Ahmad Yusufi khaka by Dr Ashfaq Ahmad virk
![]() |
| مشتاق احمد یوسفی||حالات زندگی||مرتب ڈاکٹر اشفاق احمد ورک||Mushtaq Ahmad Yusufi khaka by Dr Ashfaq Ahmad virk |
سونے کے بٹن بیچ کے مکان کی پگڑی دینے کے بعد
''یہی کچھ ہے قاری ، متاع فقیر''
ہم بقول مرزا، معاشرے کی وہ پسلی ہیں جس میں کہنیاں مار مار کے آگے بڑھنے والے بڑھتے ہیں ۔ اب جو ٹھنڈے دل سے محاسبہ کرتے ہیں تو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ہماری خواری میں ان کی خصومت سے زیادہ ہماری اپنی انا ،ناسمجھی اور نا تجربہ کاری کو دخل تھا ۔ ہم جوان تھے ، بر خود غلط تھے ( بر خود غلط تو آج بھی ہیں ،مگر پہلی خرابی دور ہو چکی ہے )... کامیاب بینکر بننے کے لیے پچھتر فیصد یاری ، پچاس فیصد عیاری اور پچیس فیصد نہاری در کار ہے۔ یہ تو ڈیڑھ سو فیصد ہوگیا۔۔۔۔ یہ پروفیشن تو ڈیوڑھا آ دمی مانگتا ہے آدھے پونے آدمی سے کام نہیں چلنے کا ۔ دنیاوی پیشے مثلاً بینکاری مکمل توجہ مانگتی ہے اور یہ پیشے حاسد خواتین کی طرح ہوتے ہیں ۔ ہمیں یاد ہے جون کا مہینہ ،فری امپورٹ کا زمانہ تھا ۔ کام بے انداز ہ ، آدمی کم ، ہم چار آدمیوں کے برابر کام اور آٹھ آدمیوں کے برابر غلطیاں بڑی تند ہی سے کر رہے تھے ۔ ایک منحوس صبح خبر آئی کہ ٹنڈو آدم میں اخبار پڑھتے پڑھتے ابا جان پر دل کا دورہ پڑا اور زمین نے اپنی امانت واپس لے لی ۔ حیدرآباد میں ان کی تدفین کے سلسلہ میں تین دن کی رخصت اتفاقیہ لینے کی پاداش میں یعسوب الحسن غوری نے ہماری تنخواہ کاٹ لی ، جو کچھ عرصہ بعد اینڈرسن نے اس'' وارنگ'' کے ساتھ واپس دلوادی کہ آئیندہ اس واقعہ کو نہیں دہرایا جاۓ گا ۔ ۲۶ جون ۱۹۵۰ء کو روزے کی حالت میں ابا جان پر ٹنڈو آدم میں اچانک دل کا دورہ پڑا اور وہ بے ہو ش ہو گئے ۔ کسی عطائی نے نہ جانے کیا سمجھ کر کونین کا انجکشن لگا دیا اور وہ آن کی آن میں سارے بکھیڑوں بندھنوں سے آزاد ہوگئے ... انتقال کے بعد کسی اللہ کے بند ے نے ان کی میت ٹرک میں رکھ کر حیدر آباد پہنچادی ۔ غریب شہر کی لاش تین چار گھنٹے تک سڑک کے کنارے جون کی لو میں اس انتظار میں بے گور و کفن پڑی رہی کہ اگر کوئی وارث ہے تو آئے اور اس مٹی کے ڈھیر کو پہچان کر لے جاۓ ۔ ان کے خدا نے ان کی بے بسی کی شرم رکھ لی ۔ دوسرے دن غروب آفتاب سے ذرا دیر پہلے سیدھے حیدرآباد کے پھلیلی قبرستان پہنچے تو کافی انتظار کے بعد قبر آدھی بند کی جا چکی تھی ۔ ان کا چہرہ پرسکون تھا ،ز ردی نے ماتھے پر سجدے کے نشان کو زیادہ واضح کر دیا تھا ایک جھلک دیکھی پھر اس کے بعد کچھ نظر نہ آیا۔ انتقال سے کچھ دن پہلے وہ چند گھنٹوں کے لیے کراچی آئے تو ٹاٹ کے ایک تھیلے میں اپنا کھانا ساتھ لائے تھے کہ تنگ حوصلہ بیٹے نے جو رزق تلاش کیا ،اس میں سود کی آمیزش تھی ۔ زندگی میں جس نے ان کی کوئی خدمت نہ کی ، اسے انھوں نے کندھا دینے کی سعادت سے بھی محروم رکھا۔ قبر پر نہ پھولوں کی چا در نہ چنبیلی کا ڈھیر ۔ نہ گھر پر آہ و بکا کا شور ۔ وہ تھے تو گھر اتنا بے سروسامان نظر نہیں آتا تھا ۔ ماں نے سر پر ہاتھ رکھا اور کلائی کو میلی چادر سے چھپالیا۔ اب اپنے خاندان ، بے روزگار بھائی اور اس کے بیوی بچے ، بہن اور اس کے کنبے اور ان کے گرد گھومنے والے طفیلی سیارے۔۔۔ ان سب کی خوردونوش کا انتظام ، بلکہ کہنا تو یہ چاہیے کہ فاقہ کروانے کی اخلاقی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی تھی ۔ ایک دن یونہی خیال آیا تو مشقی سوال کے طور پر ہم نے اپنی تنخواہ کو کنبے کے لواحقین اور لواحقین کے متوسلین پر تقسیم کیا تو مقسوم ۲۳ روپے پونے چار آنے نکلا۔ کسی طرح یقین نہ آیا کہ ایک آدمی ۲۳ روپے میں بسر اوقات کر سکتا ہے۔۔۔۔ مگر زندگی ہندسوں سے زیادہ لچکدار نکلی ۔انسان بڑا سخت جان ہے ۔ان اوصاف حمیدہ اور خصائل ستودہ کی زیادہ تشریح تشہیر یہاں اس لیے بھی غیر ضروری ہے کہ سارا اردو لٹریچر ۔۔۔۔۔از ولی دکنی تا ایں دم - ۔۔۔۔قناعت اور مفلسی کے فائدوں اور فضیلتوں سے بھرا پڑا ہے۔ نوابی گھڑی اب واسکٹ کی جیب سے نکل کر پتلون کی جیب اور طلائی زنجیر بیگم کے گلے میں پہنچ چکی تھی۔ ایک دن ہم موصوف کے سامنے پیش ہوۓ تو استفسار فرمایا: ?HAT'S THIS BIG ABSCESS ON YOUR THIGH اس دن سے ہر شخص ہمارے اس ابھار کو وقت بتانے والا پھوڑا کہنے لگا ۔ اخروٹ توڑنے کا ، اخروٹ ہی کی لکڑی کابنا ہوا خوبصورت زنبور آپ نے دیکھا ہوگا۔ موصوف کے پاس شخصیت توڑنے کا ایسا ہی کوئی آلہ تھا ۔ ہمارا چھلکا کبھی کا تڑخ چکا تھا، گری البتہ محفوظ تھی ۔ روٹی بہرطور کما کھانے کا بکھیڑا نہ ہوتا تو مچھندر خود کو اس وقت بتانے والے پھوڑے سمیت کبھی کا دریا برد کر چکا ہوتا۔ واقعہ سخت تھا پر اہل وعیال کی جان بھی عزیز تھی ۔ بیگم نے ہمیں ایک اطلاع دی کہ ہماری تنخواہ ۱۳ تاریخ تک کے لیے بالکل نا کافی ہوتی ہے تو ہمیں پوپ گر یگیری پر بڑا غصہ آیا جس نے عیسوی کیلنڈر کی ترتیب واصلاح کر تے وقت سی تباہ کن فیصلہ کیا تھا کہ کوئی مہینہ ۲۸ دن سے کم کا نہ ہوگا ، ظالم کو اصلاح ہی کرنی تھی تو ٹھیک سے کرتا۔ میں نے اپنی بیوی کی پسند کی شادی کی ۔ جوانی دیوانی کا دف بیوی سے مارا جا تا ہے ، بیوی کا دف اولاد سے مارتے ہیں اور اولاد کا سائنسی تعلیم سے ۔ سائنسی تعلیم کا دف اپنے ہاں دینیات سے مارا جا تا ہے، ارے صاحب! دف کا مرنا کھیل نہیں ہے ، مرتے مرتے مرتا ہے ۔ ابھی تک یاد ہے جاڑوں کے دن تھے ۔ رات کے بارہ بجے تھے ہم مع اپنے چار بچوں اور بیوی کے پیر الہی بخش کالونی کے کوارٹر کے چھوٹے سے کمرے میں فرش پر دیا سلائیوں کی طرح ایک طرف سر کیے پڑے تھے ۔ ہمارے تصرف میں ایک ہی کمر د تھا ۔ بینکوں میں ان دنوں صبح ساڑھے آٹھ بجے سے رات کے دس گیارہ بجے تک لگا تار کام ہوتا تھا جب کہ گورنمنٹ دفاتر کے اوقات بیکاری نو سے ساڑھے چار تک تھے ۔ اول تو رات گئے تک کام کرنے کی کوئی شکایت نہیں کرتا تھا اور اگر کوئی سر پھرا آواز اٹھا تا تو اس کا تبادلہ بارش میں چٹا گا نگ ،گرمی میں سکھر اور سردی ہو تو کوئٹہ کر دیا جا تا تھا۔۔۔۔۔ ہمیں یاد نہیں کہ دو ڈھائی سال تک ہم نے اور ہمارے ساتھیوں نے بھی چودہ گھنٹے سے کم کام کیا ہو ۔ دن رات کا فرق مٹ چکا تھا ... دو پہر کو کم ہی لوگ کھانا کھاتے تھے۔ …..عملے کے بیشتر افراد، منجملہ راقم آ ثم ، ایرانی ہوٹلوں کی طرف چہل قدمی کر کے بے کھاۓ پئیے واپس آ جاتے ۔ جہاں تک ہماری عادات کا تعلق ہے ، ہوا خوری کا یہ سلسلہ ۱۹۵۴ء تک جاری رہا۔ کوئی کسی سے نہیں پوچھتا تھا کہ آج بھی تم نے کھا نا کھا یا یا نہیں ۔ آٹھ نو بجے رات تک پیٹ کا الاؤ بھڑک اٹھتا ۔۔۔۔۔ سبھی بھوک کونکوٹین یا پان سے بہلاتے رہتے تھے ۔ کچھ دن بعد ایسا بجوگ پڑا کہ سگریٹ پینے کی بھی استطاعت نہ رہی ۔استطاعت سے ہماری مراد ساٹھ ستر ہے کہ یہی ہمارا اوسط تھا۔ بری بات اور بری عادت کا صحیح لطف و لذت دراصل کثرت و زیادتی (ECESS) میں ہی آ تا ہے ۔ صاحبو! اعتدال پر اتنا ہی اصرار ہے تو نیکی میں کرو ۔ کون روکتا ہے؟از بسکہ اعتدال کو طبیعت نے کبھی قبول نہ کیا، ہم نے سگریٹ کم کرنے کی بجائے بالکل چھوڑ دیے اور جو شاندے سے کشید کی ہوئی ملباری چاۓ کے قدح کے قدح چڑھا کر بھوک اور نیند کوبھگاتے رہے۔تین دن ہوئے بچی سخت بیمارتھی اس کے لیے انجکشنوں کی ضرورت پڑی، ہم نے یو نیورسٹی میں اول آنے کا گولڈ میڈل جوکئی سال سے بیکار پڑا تھا، پر وفیسر قاضی عبدالقدوس کے ہاتھ میٹھا در ( صرافہ ) میں بکوا دیا۔ ڈھائی تولے کا طلائی تمغہ ۲۷ روپے میں بکا ۔ آگر ہ یونیورسٹی نے چاندی پر سونے کا پتر چڑھوا دیا تھا ۔ خان صاحب ۔۔۔۔ دوسرے دن لنچ کے وقفہ کے بعد ہمارے پاس آئے علیحدہ لے جا کر ایک لفافہ ہمیں تھما دیا۔ اس میں ہمارا گولڈ میڈل تھا ، ان کی انگلی میں انگوٹھی نہیں تھی ۔ ایک برانچ مینجر نے زنجبار الیکٹرک کمپنی کو ایک ریڈ یو گرام اور استری کے نذرانہ کے عوض ساڑھے چار لاکھ روپے ہیڈ آفس کی اجازت و منظوری کے بغیر چپ چاپ قرض دے دیے ۔۔۔۔ اور اب اس کا مالک نورالحسن شیخ نقل مکان و دکان کر کے ڈھا کہ چلا گیا.... شام تک حکم ہوا کہ اس کیس کی تحقیقات اور رقم کی وصول یابی کے لیے ہمیں پہلی فلائٹ سے ڈھا کہ جانا ہوگا ۔ چنانچہ ہم با امثال امر دوسرے دن ڈھا کہ پہنچ گئے ۔ ڈھا کہ مسجدوں کا شہر کہلاتا ہے ۔ فجر کی اذانوں کے بعد ہر تیسرے گھر سے لڑ کیوں کے گانے اور ہارمونیم کی آواز سنائی دی۔ دفتر پہنچے تو بینک کے جرمن مینجر نے شکایت کی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا بنگالی منیجر کمرشل بینکوں کی روزمرہ کی ضروریات کے لیے بھی ڈھاکہ سے کراچی روپیہ بھیجنے میں پس و پیش کرتا ہے ، کہتا ہے بنگال کا روپیہ بنگال ہی میں رہنا چا ہیے ۔ یادر ہے۔ پاکستان بنے ابھی دس سال بھی نہیں ہوئے تھے ۔ گھر واپس آئے تو سوغات میں فقط اپنے آپ کو لاۓ ۔ لیکن جب ہم نے ذرا تفصیل کے ساتھ بتایا کہ کر نافلی پیپر ملز میں ہمارے ہم شکلوں کو کس طرح چھانٹ چھانٹ کر بیدردی سے قتل کیا گیا اور پھر دیکھتے دیکھتے ہزاروں آدمی ہیضے میں چٹ پٹ ہوۓ تو سب نے ہماری خالی ہاتھ واپسی کو غنیمت جانا ۔ بیوی اور بچے شکر بجالاۓ کہ ہم نے اپنی چالاکی سے ان کو بالترتیب بیوہ اور یتیم ہونے سے بچالیا۔ بینک میں ملازم ہوۓ ہمیں مشکل سے تین سال ہوئے ہوں گے کہ اینڈرسن نے از راہ مرحمت ہمیں چیف اکا ؤنٹنٹ بنادیا ۔ سیکرٹری اور انسپکٹر آف برانچز کے عہدوں پر ہم پہلے سے ہی فائز تھے ۔ ہماری دن دونی رات تگنی ترقی سے بینک کوکل ۱۵ آ نے کا نقصان ہوا اس لیے کہ تین ربڑ اسٹامپ بنوانے پر اس زمانے میں یہی لا گت آتی تھی ...۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں