نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مشتاق احمد یوسفی||حالات زندگی||مرتب ڈاکٹر اشفاق احمد ورک||Mushtaq Ahmad Yusufi khaka by Dr Ashfaq Ahmad virk

 

مشتاق احمد یوسفی||حالات زندگی||مرتب ڈاکٹر اشفاق احمد ورک||Mushtaq Ahmad Yusufi khaka  by  Dr Ashfaq Ahmad virk
مشتاق احمد یوسفی||حالات زندگی||مرتب ڈاکٹر اشفاق احمد ورک||Mushtaq Ahmad Yusufi khaka  by  Dr Ashfaq Ahmad virk

 


 سونے کے بٹن  بیچ کے مکان کی پگڑی دینے کے بعد 

''یہی کچھ ہے قاری ، متاع فقیر''

ہم بقول مرزا، معاشرے کی وہ پسلی ہیں جس میں کہنیاں مار مار کے آگے بڑھنے والے بڑھتے ہیں ۔ اب جو ٹھنڈے دل سے محاسبہ کرتے ہیں تو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ہماری خواری میں ان کی خصومت سے زیادہ ہماری اپنی انا ،ناسمجھی اور نا تجربہ کاری کو دخل تھا ۔ ہم جوان تھے ، بر خود غلط تھے ( بر خود غلط تو آج بھی ہیں ،مگر پہلی خرابی دور ہو چکی ہے )... کامیاب بینکر بننے کے لیے پچھتر فیصد یاری ، پچاس فیصد عیاری اور پچیس فیصد  نہاری در کار ہے۔ یہ تو ڈیڑھ سو فیصد ہوگیا۔۔۔۔ یہ پروفیشن تو ڈیوڑھا آ دمی مانگتا ہے آدھے پونے آدمی سے کام نہیں چلنے کا ۔  دنیاوی پیشے مثلاً بینکاری مکمل توجہ مانگتی ہے اور یہ پیشے حاسد خواتین کی طرح ہوتے ہیں ۔ ہمیں یاد ہے جون کا مہینہ ،فری امپورٹ کا زمانہ تھا ۔ کام بے انداز ہ ، آدمی کم ، ہم چار آدمیوں کے برابر کام اور آٹھ آدمیوں کے برابر غلطیاں بڑی تند ہی سے کر رہے تھے ۔ ایک منحوس صبح خبر آئی کہ ٹنڈو آدم میں اخبار پڑھتے پڑھتے ابا جان پر دل کا دورہ پڑا اور زمین نے اپنی امانت واپس لے لی ۔ حیدرآباد میں ان کی تدفین کے سلسلہ میں تین دن کی رخصت اتفاقیہ لینے کی پاداش میں یعسوب الحسن غوری نے ہماری تنخواہ کاٹ لی ، جو کچھ عرصہ بعد اینڈرسن نے اس'' وارنگ'' کے ساتھ واپس دلوادی کہ آئیندہ اس واقعہ کو نہیں دہرایا جاۓ گا ۔ ۲۶ جون ۱۹۵۰ء کو روزے کی حالت میں ابا جان پر ٹنڈو آدم میں اچانک دل کا دورہ پڑا اور وہ بے ہو ش ہو گئے ۔ کسی عطائی نے نہ جانے کیا سمجھ کر کونین کا انجکشن لگا دیا اور وہ آن کی آن میں سارے بکھیڑوں بندھنوں سے آزاد ہوگئے ... انتقال کے بعد کسی اللہ کے بند ے نے  ان کی میت ٹرک میں رکھ کر حیدر آباد پہنچادی ۔ غریب شہر کی لاش تین چار گھنٹے تک سڑک کے کنارے جون کی لو میں اس انتظار میں بے گور و کفن پڑی رہی کہ اگر کوئی وارث ہے تو آئے اور اس مٹی کے ڈھیر کو پہچان کر لے جاۓ ۔ ان کے خدا نے ان کی بے بسی کی شرم رکھ لی ۔ دوسرے دن غروب آفتاب سے ذرا دیر  پہلے سیدھے حیدرآباد کے پھلیلی قبرستان پہنچے تو کافی انتظار کے بعد قبر آدھی بند کی جا  چکی تھی ۔ ان کا چہرہ پرسکون تھا ،ز ردی نے ماتھے پر سجدے کے نشان کو زیادہ واضح کر دیا تھا ایک جھلک دیکھی پھر اس کے بعد کچھ نظر نہ آیا۔ انتقال سے کچھ دن پہلے وہ چند گھنٹوں کے لیے کراچی آئے تو ٹاٹ کے ایک تھیلے میں اپنا کھانا ساتھ لائے تھے کہ تنگ حوصلہ بیٹے نے جو رزق تلاش کیا ،اس میں سود کی آمیزش تھی ۔ زندگی میں جس نے ان کی کوئی خدمت نہ کی ، اسے انھوں نے کندھا دینے کی سعادت سے  بھی   محروم رکھا۔ قبر پر نہ پھولوں کی چا در نہ چنبیلی کا ڈھیر ۔ نہ گھر پر آہ و بکا کا شور ۔ وہ تھے تو گھر اتنا  بے سروسامان نظر نہیں آتا تھا ۔ ماں نے سر پر ہاتھ رکھا اور کلائی کو میلی چادر سے چھپالیا۔ اب اپنے خاندان ، بے روزگار بھائی اور اس کے بیوی بچے ، بہن اور اس کے کنبے اور ان کے گرد گھومنے والے طفیلی سیارے۔۔۔ ان سب کی خوردونوش کا انتظام ، بلکہ کہنا تو یہ چاہیے کہ فاقہ کروانے کی اخلاقی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی تھی ۔ ایک دن یونہی خیال آیا تو مشقی سوال کے طور پر ہم نے اپنی تنخواہ کو کنبے کے لواحقین اور لواحقین کے متوسلین پر تقسیم کیا تو مقسوم ۲۳ روپے پونے چار آنے نکلا۔ کسی طرح یقین نہ آیا کہ ایک آدمی ۲۳ روپے میں بسر اوقات کر سکتا ہے۔۔۔۔ مگر زندگی ہندسوں سے زیادہ لچکدار نکلی ۔انسان بڑا سخت جان ہے ۔ان اوصاف حمیدہ اور خصائل ستودہ کی زیادہ تشریح تشہیر یہاں اس لیے بھی غیر ضروری ہے کہ سارا اردو لٹریچر ۔۔۔۔۔از ولی دکنی تا ایں دم - ۔۔۔۔قناعت اور مفلسی کے فائدوں اور فضیلتوں سے بھرا پڑا ہے۔ نوابی گھڑی اب واسکٹ کی جیب سے نکل کر پتلون کی جیب اور طلائی زنجیر بیگم کے گلے میں پہنچ چکی تھی۔ ایک دن ہم موصوف  کے سامنے پیش ہوۓ تو استفسار فرمایا: ?HAT'S THIS BIG ABSCESS ON YOUR THIGH اس دن سے  ہر شخص ہمارے اس ابھار کو وقت بتانے والا پھوڑا کہنے لگا ۔ اخروٹ توڑنے کا ، اخروٹ ہی کی لکڑی کابنا ہوا خوبصورت زنبور آپ نے دیکھا ہوگا۔ موصوف کے پاس شخصیت توڑنے کا ایسا ہی کوئی آلہ تھا ۔ ہمارا چھلکا کبھی کا تڑخ چکا تھا، گری البتہ محفوظ تھی ۔ روٹی بہرطور کما کھانے کا بکھیڑا نہ ہوتا تو مچھندر  خود کو اس وقت بتانے والے پھوڑے سمیت کبھی کا دریا برد کر چکا ہوتا۔ واقعہ سخت تھا پر اہل وعیال کی جان بھی عزیز تھی ۔  بیگم نے ہمیں ایک اطلاع دی کہ ہماری تنخواہ ۱۳ تاریخ تک کے لیے بالکل نا کافی ہوتی ہے تو ہمیں پوپ گر یگیری پر بڑا غصہ آیا جس نے عیسوی کیلنڈر کی ترتیب واصلاح کر تے وقت سی تباہ کن فیصلہ کیا تھا کہ کوئی مہینہ ۲۸ دن سے کم کا نہ ہوگا ، ظالم کو اصلاح ہی کرنی تھی تو ٹھیک سے کرتا۔  میں نے اپنی بیوی کی پسند کی شادی کی ۔  جوانی دیوانی کا دف بیوی سے مارا جا تا ہے ، بیوی کا دف اولاد سے مارتے ہیں اور اولاد کا سائنسی تعلیم سے ۔ سائنسی تعلیم کا دف اپنے ہاں دینیات سے مارا جا تا ہے، ارے صاحب! دف کا مرنا کھیل نہیں ہے ، مرتے مرتے مرتا ہے ۔ ابھی تک یاد ہے جاڑوں کے دن تھے ۔ رات کے بارہ بجے تھے ہم مع اپنے چار بچوں اور بیوی کے پیر الہی بخش کالونی کے کوارٹر کے چھوٹے سے کمرے میں فرش پر دیا سلائیوں کی طرح ایک طرف سر کیے پڑے تھے ۔ ہمارے تصرف میں ایک ہی کمر د تھا ۔ بینکوں میں ان دنوں صبح ساڑھے آٹھ بجے سے رات کے دس گیارہ بجے تک لگا تار کام ہوتا تھا جب کہ گورنمنٹ دفاتر کے اوقات بیکاری نو سے ساڑھے چار تک تھے ۔ اول تو رات گئے تک کام کرنے کی کوئی شکایت نہیں کرتا تھا اور اگر کوئی سر پھرا آواز اٹھا تا تو اس کا تبادلہ بارش میں چٹا گا نگ ،گرمی میں سکھر اور سردی ہو تو کوئٹہ  کر دیا جا تا تھا۔۔۔۔۔ ہمیں یاد نہیں کہ دو ڈھائی سال تک ہم نے اور ہمارے ساتھیوں نے بھی چودہ گھنٹے سے کم کام کیا ہو ۔ دن رات کا فرق مٹ چکا تھا ... دو پہر کو کم ہی لوگ کھانا کھاتے تھے۔ …..عملے کے  بیشتر افراد، منجملہ راقم آ ثم ، ایرانی ہوٹلوں کی طرف چہل قدمی کر کے بے کھاۓ پئیے واپس آ جاتے ۔ جہاں تک ہماری عادات کا تعلق ہے ، ہوا خوری کا یہ سلسلہ ۱۹۵۴ء تک جاری رہا۔ کوئی کسی سے نہیں پوچھتا تھا کہ آج بھی تم نے کھا نا کھا یا یا نہیں ۔ آٹھ نو بجے رات تک پیٹ کا الاؤ بھڑک اٹھتا ۔۔۔۔۔ سبھی بھوک کونکوٹین یا پان سے بہلاتے رہتے تھے ۔ کچھ دن بعد ایسا بجوگ پڑا کہ سگریٹ پینے کی بھی استطاعت نہ رہی ۔استطاعت سے ہماری مراد ساٹھ ستر ہے کہ یہی ہمارا اوسط تھا۔ بری بات اور بری عادت کا صحیح لطف و لذت دراصل کثرت و زیادتی (ECESS) میں ہی آ تا ہے ۔ صاحبو! اعتدال پر اتنا ہی اصرار ہے تو نیکی میں کرو ۔ کون روکتا ہے؟از بسکہ اعتدال کو  طبیعت نے کبھی  قبول  نہ  کیا، ہم نے سگریٹ کم کرنے کی بجائے بالکل چھوڑ دیے اور جو شاندے سے کشید کی ہوئی ملباری چاۓ کے قدح کے قدح چڑھا کر بھوک اور نیند کوبھگاتے رہے۔تین دن ہوئے  بچی سخت بیمارتھی اس کے لیے انجکشنوں کی ضرورت پڑی، ہم نے یو نیورسٹی میں اول آنے کا گولڈ میڈل جوکئی سال سے بیکار پڑا تھا، پر وفیسر قاضی عبدالقدوس  کے ہاتھ میٹھا  در ( صرافہ ) میں بکوا  دیا۔ ڈھائی تولے کا طلائی تمغہ ۲۷ روپے میں بکا ۔ آگر ہ  یونیورسٹی نے چاندی پر سونے کا پتر  چڑھوا دیا تھا ۔ خان صاحب ۔۔۔۔ دوسرے دن لنچ کے وقفہ کے بعد ہمارے پاس آئے  علیحدہ   لے جا کر ایک  لفافہ ہمیں تھما دیا۔ اس میں ہمارا گولڈ میڈل تھا ، ان کی انگلی میں انگوٹھی نہیں تھی ۔ ایک برانچ  مینجر نے زنجبار الیکٹرک کمپنی کو ایک ریڈ یو گرام اور استری کے نذرانہ کے عوض ساڑھے چار لاکھ روپے ہیڈ آفس کی اجازت و منظوری کے بغیر چپ چاپ قرض دے دیے ۔۔۔۔ اور اب اس کا مالک  نورالحسن شیخ نقل مکان و دکان کر کے ڈھا کہ چلا گیا.... شام تک حکم ہوا کہ اس کیس کی تحقیقات اور رقم کی وصول یابی کے لیے ہمیں پہلی فلائٹ سے ڈھا کہ جانا ہوگا ۔ چنانچہ ہم با امثال امر دوسرے دن ڈھا کہ پہنچ گئے ۔ ڈھا کہ مسجدوں کا شہر کہلاتا ہے ۔ فجر کی اذانوں کے بعد ہر تیسرے گھر سے لڑ کیوں کے گانے اور ہارمونیم کی آواز سنائی دی۔ دفتر پہنچے تو بینک  کے جرمن مینجر نے شکایت کی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا بنگالی منیجر کمرشل بینکوں کی روزمرہ کی ضروریات کے لیے بھی ڈھاکہ سے کراچی روپیہ بھیجنے میں پس و پیش کرتا ہے ، کہتا ہے بنگال کا روپیہ بنگال ہی میں رہنا چا ہیے ۔ یادر ہے۔ پاکستان بنے ابھی دس سال بھی نہیں ہوئے تھے ۔ گھر واپس آئے تو سوغات میں فقط اپنے آپ کو لاۓ ۔ لیکن جب ہم نے ذرا  تفصیل کے ساتھ بتایا  کہ کر نافلی پیپر  ملز میں ہمارے ہم شکلوں کو کس طرح چھانٹ چھانٹ کر بیدردی سے قتل کیا گیا اور پھر دیکھتے دیکھتے ہزاروں آدمی ہیضے میں چٹ پٹ ہوۓ تو سب نے ہماری خالی ہاتھ واپسی کو غنیمت جانا ۔ بیوی اور بچے شکر بجالاۓ کہ ہم نے اپنی چالاکی سے ان کو بالترتیب بیوہ اور یتیم ہونے سے بچالیا۔  بینک میں ملازم ہوۓ ہمیں مشکل سے تین سال ہوئے ہوں گے کہ اینڈرسن نے از راہ مرحمت ہمیں چیف اکا ؤنٹنٹ بنادیا ۔ سیکرٹری اور انسپکٹر آف برانچز کے عہدوں پر ہم پہلے سے ہی فائز تھے ۔ ہماری دن دونی رات تگنی ترقی سے بینک کوکل ۱۵ آ نے کا نقصان ہوا اس لیے کہ تین ربڑ اسٹامپ بنوانے پر اس زمانے میں یہی لا گت آتی تھی ...۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری