 |
| سوانح نو عمری مرتبہ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک||مشتاق احمد یوسفی کے حالات زندگی||Mushtaq Ahmad Yusufi |
ہمیں یاد نہیں کہ ڈھائی تین برس تک کبھی گیارہ بجے رات سے پہلے بینک سے فراغت ہوئی ہو.... چندمہینوں سے سینے میں بھی دائیں طرف درد رہنے لگا تھا، جس کا نوٹس لینا ہم نے کسر شان سمجھا ، اس لیے کہ دل تو بائیں طرف ہوتا ہے ، تکلیف نے جب اتنی شدت اختیار کی کہ محسوس ہونے لگا چوبیس گھنٹے کوئی برمے سے سینہ چھید رہا ہے کہ پیٹھ کے آر پار ہوا جا تا ہے تو ایک ڈاکٹر کو دکھایا ، اس نے نرمی سے کہا کہ دایاں پھیپھڑا متاثر معلوم ہوتا ہے ، پوچھا کا ہے سے؟ رکھائی سے بولا:'' آف کورس ٹی بی'' فورا ایکسرے ،خون اور تھوک ٹیسٹ کروانے اور تین مہینے کی رخصت پر کوئٹہ یا مری جانے کی ہدایت کی ۔ ڈیڑھ سال بعد جب ہماری مالی تکالیف میں افاقہ ہوا تو ایکسرے کروایا ، اس سے تصدیق ہوئی کہ دائیں پھیپھڑے پر ایک زخم تھا جو کبھی کا خود بخو دمندمل ہو چکا ہے ، اس سے ہمیں اپنی قوت ارادی کی مضبوطی کی دادمطلوب نہیں ، بلکہ ٹی بی کے جراثیم کی نقاہت اور بودا پن دکھا نا مقصود ہے ۔
اس زمانے میں اس روٹ پر کل تین لنگڑی بسیں چلتی تھیں ۔ ایک تو کانی بھی تھی ، وہ دس بجے بند ہو جاتی تھیں ، اکثر سات میل پیدل ہی گھر جانا پڑتا ۔ خواہ رات کے تین بج جائیں ، آندھی آۓ ، بارش آئے۔۔۔۔۔ اور چاہے تو بس ہی کیوں نہ آ جائے ...... ہم گھر ضرور جاتے تھے ۔ حالانکہ بینک میں کس چیز کی کمی تھی ۔ لکھوکھہا روپیہ، پنکھے ، کمر سیدھی کرنے کے لیے میزیں، حفاظت کے لیے سنتری ، رات بھر کام کرنے کے بعد منہ دھونے اور اسے دیکھنے کے لیے واش بیسن اور آئینہ ... سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے بیوی کے سوا۔ لیکن صاحبو! جو سکھ چھجو دے چوبارے، اوہ نہ بلخ نہ بخارے ۔ گھر پہنچتے تو بیوی آنکھیں ملتی ہوئی اٹھتی ، تام چینی کے تسلے میں سہا تا سہا تا گرم پانی اور دو چمچے نمک ڈالتی اور ہم اس سلو نے تسلے میں پاؤں ڈال کر بیٹھ جاتے ۔ کسی نے بتایا کہ اس سے پیروں کی سوجن اتر جاتی ہے ۔ ٹھیک ہی ہوگا ، اس لیے کہ صبح آئینے میں چہرہ کافی ستا ستا نظر آتا تھا۔ صبح بھی اتنی تکان محسوس ہوتی گویا شام ہو ۔ مشقت کی مشقت !تھکن اور ایسی اٹوٹ تھکن کہ ایک ایک مسام میں اتر جاۓ اور ہڈیوں تک کو چٹخا دے ۔ رواں رواں کراہنے لگتا ۔ کبھی کبھی بے اختیار جی چاہتا، اب کے ایسے سوئیں کہ پھر نہ اٹھیں :
کچھ اوڑھا دیجیے مولا مجھے نیند آتی ہے
پھر کھانا گرم کیا جا تا اور دونوں ساتھ کھاتے ۔ دو ایک پرا ئیویٹ اسکول میں پڑھانے جاتی تھیں ۔ تنخواہ دونوں بچیوں کے دودھ کے ڈبوں کے برابر !۔۔۔۔ہمارے درمیان ایک خاموش معاہده تھا کہ کوئی یہ نہیں بتائے گا کہ دن کیسا کٹا۔ ان کے لیے ہمارے دل سے دعائیں نکلتی ہیں ۔ خدا ان کا سہاگ رہتی دنیا تک قائم رکھے ۔ انھوں نے ہماری عادتیں خراب کر دی ہیں اور ہم گھر گرہستی سے اتنے بے خبر ہیں کہ آج بھی یہ نہیں بتا سکتے کہ ہمارے کرتے میں کتنا کپڑا لگتا ہے ،کریلا کون سے موسم میں آتا ہے ، گوشت کہاں سے آتا ہے ، ساری کا عرض کیا ہوتا ہے ، چیچک کا ٹیکہ کس عمر میں لگوایا جاتا ہے ، ایک سیر بریانی میں کتنی چھٹا تک نمک پڑتا ہے؟ پھر صبح چھے بجے اٹھ جاتے اور سات تک تیار ہوکر پیدل گرومندر پہنچتے ۔ وہاں سے بس آسانی سے مل جاتی تھی ۔ تجربے نے ثابت کر دیا تھا کہ ڈھائی تین میل پیدل چلنے میں ، پیر الہی بخش کالونی کے بس اسٹینڈ پر دھینگا مشتی کرنے کے مقابلے میں آدھا پسینہ بھی نہیں آتا ۔ ۸:۳۰ تک دفتر پہنچ جاتے اور پھر اس چکی میں پستے جس کے دو پاٹن بیچ آج تک کوئی ثابت نہ پہنچا۔ پالتو جانور کی چپ دسراتھ اور اس کا پیار کتنا بھر پور ہوتا ہے اس کا اندازه اس وقت ہوتا ہے جب آ دمی دکھی ہو یا تنہا..... بارش کے دن تھے ۔جھڑ لگ رہی تھی ۔ ایسی بارش اور ایسی چھت کراچی میں پھر کبھی نہیں دیکھی ۔ لگتا تھا کہ آسمان کا پیندا چھلنی ہو گیا ہے ۔ مکان کی چھت بھی چھلنی ہو رہی تھی اور ایک کمرے کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جانے کے لیے چھتری لگانی پڑتی تھی ۔ کوئی جگہ ایسی نہ بچی جہاں آ دمی موسمی حالات سے ہر لحظہ باخبر رہے بغیر سو سکے ۔۔۔۔۔۔ چھت پر جانے سے ایک تو پڑوسنیں مچھر دانی اوڑھ لیتی تھیں اور ان کے مرد مچھر دانی کے بانس لے کر باہر نکل آتے تھے.... دوسرے کمرے کی چھلنی کے چھید اتنے بڑے تھے کہ اس کا پر نالہ ہی خشک ہو گیا ۔ ایک رات ایسی بھی گزری کہ چھت رات بھر روتی رہی ۔اس کی دیکھا دیکھی بچے بھی ، اور انھیں دیکھ کر ہماری آنکھ بھی بھر آئی ۔ محکمہ موسمیات بارش کا سالانہ اوسط چار پانچ انچ بتا تا ہے ۔ مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے ہماری تنخواہ اور آدم جی، سہگل اور دا و دسیٹھ کی آمدنی کو جوڑ کر ہمارا اوسط چھے کروڑ نکالا جائے اور اس پر ہم سے آکرٹیکس کا مطالبہ کیا جائے ۔ پھر گھر کے سامنے قرقی کا ڈھول بجا کر ہماری تصانیف کی نا قابل فروخت کا پیاں ، دوائیں اور ٹافیاں نیلام کر دی جائیں۔۔۔۔ لیکن اس سال سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ۔ بارش اور ایسی بارش، ایسی بارش ہم نے مسوری میں اپنی شادی کے دیکھی تھی کہ پلاؤ کی دیگوں میں بیٹھ کر دلہن والے آ جارہے تھے۔ خود ہمیں ایک کفگیر پر بٹھا کر قاضی کے سامنے پیش کیا گیا۔ پھر نہ ہم نے ایسی حرکت کی اور نہ بادل ایساٹوٹ کے برسا عجب سماں تھا، جدھر دیکھو پانی ہی پانی ۔ اس دن سوائے دلہن کی آنکھ کے ہمیں کوئی چیز خشک نظر نہ آئی ۔ ہم نے ٹہو کا دیا کہ رخصتی کے وقت دلہن کا رونا رسومات میں داخل ہے۔ انھوں نے بہت پلکیں ٹپٹپائیں مگر ایک آنسو نہ نکلا۔ پھر کار میں سوار کراتے وقت ہم نے سہرا اپنے چہرے سے ہٹا یا خوب پھوٹ پھوٹ کر روئیں ۔ ایسی ہی بارش ان دنوں کراچی میں ہورہی تھی ۔ سڑکیں دریاؤں کی طرح ہو رہی تھیں۔۔۔ اسٹاف کو ساڑھے تین بجے ہی چھٹی دے دی گئی تھی اور ہم بھی چھے بجے تک اٹھنے کا ارادو رکھتے تھے... ہم برستے مینہ میں پیدل روانہ ہوئے ۔ اس لیے کہ بسیں چلنی کب کی بند ہو چکی تھیں۔ بندر روڈ پر طغیانی آئی ہوئی تھی ... جوتوں کا اکلوتا جوڑا پانی میں بھیگ کر مخمل کی طرح ملائم ہو گیا تھا اور اسے مزید مخملیں ہونے سے بچانے کے لیے ہم نے ٹوکری میں رکھ لیا ۔ پانی میں نہ صرف لطف آیا بلکہ اس کی انگلی پکڑے پکڑے بچپن بھی لوٹ آیا۔ ہمیں ان پر بڑا ترس آ تا ہے جو بچپن میں کبھی ننگے پیر نہیں پھرے ، اور نہ بارش میں نہائے ۔ انھوں نے اپنا بچپن ضائع کیا۔ وہ کیا جانیں کہ جب بادلوں کے جھما جھم بان ، گرمی دانوں سے بھرے ہوئے بدن کو باڑھ پر رکھ لیتے ہیں تو کیسی گدگدی ہوتی ہے...... دھرتی اپنا آپا اور بھید بھاؤ جوتے کے تلے کونہیں دکھا یا کرتی .... کالونی کی کوآپریٹو سوسائٹی ٹینکوں کے ذریعے پانی تو کیا تقسیم کرتی ، بوند بوند کو تر ساتی تھی ۔ ہمیں تین مشک روزانہ کے کو پن ملتے تھے ۔ معلوم ہوتا تھا یہ مشکیں خاص طور پر آرڈر دے کر بکری کے قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی کھال کی بنوائی گئی تھیں ۔ ان تین مشکوں میں بھی بہشتی حسب توفیق و طاقت پھونک بھر دیتے تھے ۔۔۔۔۔۔ تین دن سڑکیں کٹ جانے کے باعث پانی کی ٹنکیاں نہیں آئی تھیں اور پانی پینے کا بھی تیمم کرنا پڑتا تھا..... دربدر لنگر اندازی کے بعد گھر آیا تو دیکھا کہ برآمدے اور کمرے میں نالے کا پانی ٹھاٹھیں مار رہا ہے ( مکان چورا ہے پرنشیبی علاقے کے پیالے میں واقع ہوا تھا ۔ )۔۔۔۔ سطح آب پر جا بجا روئی کے گالے تیر رہے تھے ۔۔۔۔۔ چار پائی پر دونوں بیٹے پشیمان بیٹھے تھے ۔ بڑے نے سوتے میں نیکر سے باتھ روم کا کام لیا تھا اور اب پیش بندی کر رہا تھا کہ دیکھیے امی ! میری نیکر میں آپ کے گڈو نے پیشاب کر دیا ہے ۔ تعجب اس پر تھا کہ گڈومیاں سسکیاں لے لے کر یقین دلا ر ہے تھے کہ امی اب نہیں کروں گا۔۔۔۔۔ ٹوٹے ہوۓ گلوب پر جو کاغذ آٹے سے چپکا یا گیا تھا وہ آ دھا جل چکا تھا ( یہ شکوہ ایام نہیں تحدیث نعمت رب جلیل ہے ۔ ایک دن بیگم نے بہت خوش ہو کر کہا تھا کہ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ گھر میں بجلی نہیں ۔ ورنہ تمہارے بچے ہر وقت پلگ ساکٹ کے سوراخوں میں انگلی ڈالے بیٹھے رہتے) بیگم بہت خوش خوش نظر آ رہی تھیں ۔ کچھ دیر بعد ہمیں کچے صحن میں لے گئیں اور کہا ''دیکھو آج میں نے دوٹنکیاں پانی سے بھر لی ہیں ! بالکل موتی کی طرح ! ڈھیروں کپڑے دھل جائیں گے ۔ ''تین دن سے پانی بالکل بند تھا اور لوگ بوند بوند کو ترس گئے تھے ۔ یہ دوٹنکیاں انھوں نے برآمدے کے پرنالے کے نیچے رکھ کر پانی سے بھری تھیں ۔ انھیں دیکھ کر یہ بی بی اس قدرخوش ہورہی تھیں گو یا کوئی خزانہ مل گیا ۔ یہ دکھانے کے لیے کہ دونوں لبالب بھری ہیں انھوں نے لالٹین اپنے چہرے تک اٹھائی تو مانگ میں ایک سفید بال نظر آیا جواس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پانی اولے کی طرح ٹھنڈا ٹھار اور موتی کی مانند جھلمل کر رہا تھا۔ ہمیں اس میں اپنا چہرہ نظر آیا .... سونے سے پہلے ہم نے دونوں جوتوں کو فیتے سے باندھ کر لالٹین کی گردن میں ہار کی طرح لٹکا دیا تا کہ صبح تک سوکھ جائیں ۔ صبح ساڑھے چار بجے بجلی کے کڑکنے سے آنکھ کھلی تو کمرے میں چمڑا جلنے کی چراند پھیلی ہوئی تھی ۔ اٹھ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ جو جوتا گلوب کے ٹوٹے ہوۓ رخ پر تھا ، اس کی ایڑی کا اوپر کا پشتہ جل کر اب پشاوری چپل بن گیا ہے ۔ ہم لالٹین اور جوتا بجھا کر ایسے سوۓ کہ صبح پونے سات بجے آنکھ کھلی ۔ اس وقت تک بیوی ہمارے کپڑوں پر استری کر کے اپنے اسکول پڑھانے جا چکی تھیں ۔ کپڑوں پر ایک پر چہ رکھا ملا ۔ جس پر لکھا تھا کہ رات میں تمہیں بتا نہ سکی ۔ ڈاکٹر نے مجھے یرقان بتایا ہے ۔ خواہ مخواہ ڈھیر ساری دوائیں اور انجکشن لکھ مارے ہیں ۔ میں واپسی میں پاکستان چوک کے ہومیو پیتھ ڈاکٹر سے دوالیتی آؤں گی ۔ زرد رنگ تمہارا فیورٹ ( پسندیدہ ) رنگ بھی تو ہے ۔ ایک دوسرے کی چھاپ تلک سب چھین کر اپنا لینے اور دریاۓ سندھ اور راوی کا ٹھنڈا میٹھا پانی پینے کے بعد تو یہی کچھ ہونا تھا اور جو کچھ ہوا بہت خوب ہوا ۔ فالحمدلله رب العالمين ۔ ادھر کچھ عرصہ سے ہم خودمحسوس کر رہے تھے کہ ہر چند ہماری تنخواہ میں ایک پیسے کا بھی اضافہ نہیں ہوا لیکن جب سے ہم چیف ا کا ؤنٹنٹ، سیکرٹری اور انسپکٹر آف برانچز کے عہدوں پر بیک وقت فائز ہوئے ہیں ہماری'’ امیج'' میں ایک خوشگوار تبدیلی آ گئی ہے ۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ اس تنخواہ میں ہم بہتر سگریٹ دوٹکڑے کر کے پینے لگے تھے ..... چاؤ میں اگلے ہفتے مکان بھی تبدیل کر لیا ۔اس محلے میں ایک نہیں، کئی سوداگر رہتے تھے ، علاقے کے پوش ہونے کا اندازہ اس سے لگا لیجے کہ ہماری چھوٹی بیٹی ہمسائے کے بچوں کے بارے میں ہم سے پو چھنے لگی ، ابا !یہ روز عید کے کپڑے کیوں پہنے پھرتے ہیں؟ .... ہمارے غسل خانے میں کائی لگے گھڑوں اورٹنکی کے بجاۓ اب گرم اور ٹھنڈے پانی کا اہتمام تھا۔ یعنی واش بیسن کی ٹونٹی سے گرمیوں میں گرم اور سردیوں میں سرد پانی نکلتا تھا۔ مہینے کی آخری تاریخوں میں کوئلے سے دانت نہیں مانجھتے تھے، بلکہ ٹیوب پر کود کود کر ٹوتھ پیسٹ کشید کرتے تھے۔ مختصر یہ کہ ہر چیز سے افسری کی شان ٹپکنے لگی ۔ بینک اکا ؤنٹ سے بھی سرخی جھلکنے گئی ۔ ہمارے دو کمروں والے کوارٹر میں لان نہیں ہے ، جس جگہ ہما را پائیں باغ اور نہایت کشادہ ہرا بھرا لان لگ سکتا تھا وہاں یار لوگوں نے ہم سے پہلے اپنے کوارٹر کھڑے کر لیے تھے ۔
آخری قسط ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں