نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

خود ستائیاں||مشتاق احمد یوسفی کی سوانح حیات مرتب ڈاکٹر اشفاق احمد ورک||مشتاق احمد یوسفی کی مزاح نگاری||Mushtaq Ahmad Yusufi||Dr Ashfaq Ahmad virk

سوانح نو عمری مرتبہ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک||مشتاق احمد یوسفی کے حالات زندگی||Mushtaq Ahmad Yusufi
خود ستائیاں||مشتاق احمد یوسفی کی سوانح حیات مرتب ڈاکٹر اشفاق احمد ورک||مشتاق احمد یوسفی کی مزاح نگاری||Mushtaq Ahmad Yusufi||Dr Ashfaq Ahmad virk

 

مشتاق احمد یوسفی اردو ادب کے عظیم مزاح نگار تھے۔ اس پوسٹ میں ہم ان کا خاکہ جو اشفاق احمد ورک نے کتاب "خود ستائیاں" میں مرتب کیا ہے اس  کے اقتباس اور ان کی ادبی خدمات کا جائزہ پیش کر رہے ہیں۔

خود ستائیاں||مشتاق احمد یوسفی کی سوانح حیات مرتب ڈاکٹر اشفاق احمد ورک||مشتاق احمد یوسفی کی مزاح نگاری||Mushtaq Ahmad Yusufi||Dr Ashfaq Ahmad virk


گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔

آخری قسط


بعضوں نے تو پگڑی پر بھی اٹھا دیے تھے ۔ خود ہم نے سونے کے بٹن بیچ کے۳۵۰ روپے پگڑی پر راتوں رات قبضہ لیا تھا  اس واقعہ کوسولہ سترہ سال ہونے کو آۓ ۔ گھر بھی مدتیں ہوئیں ہم نے تبدیل کر لیا ۔  اس کے ..... بعد ۱۹۷۰ء میں نوشہرہ جانے کا اتفاق ہوا۔  ایک ضروری کام کے سلسلے میں ہم نیشنل بینک آف انڈیا کے منیجر میکائی سے ملنے گئے ۔  اگر آپ  کو بھی انکشاف احوال واقعی پر اصرار ہے تو مجھے اعتراف کرنا پڑے گا کہ ۱۹۷۴ ء میں میرے یو نا ئیٹڈبینک لمیٹڈ کا پریسیڈنٹ ہونے کی واحد وجہ یہ ہے کہ جس انگریز جنرل منیجر نے ۱۹۵۰ء میں انٹرویو کر کے مجھے بینک میں ملازم رکھا وہ اس وقت نشے میں دھت تھا ۔ اس واقعہ سے سبق ملتا ہے کہ شراب نوشی کے نتائج کتنے دور رس ہوتے ہیں ۔  ہماری گالیوں میں جو ندرت بیان ، زور آوری ، جفرافیائی تصویرکشی اور جنسی آرزومندی کوٹ کوٹ کر بلکہ ثابت و سالم بھری ہے اس کا صحیح انداز ہ ہمیں ۱۹۷۵ء میں دبئی میں ہوا تھا۔  حاشا وکلا ! مرحوم بزرگوں کی خطا کی گرفت کر نا ہمارا کام نہیں ، فرشتوں کا فرض ہے لیکن صحبت بد کی وضاحت اور ریکارڈ درست رکھنے کی خاطر خدا کوحاضر و ناظر جان کر عرض کرتے ہیں کہ جتنی بھی گالیاں ہمیں یاد  تھیں وہ   سب ہم نے اپنے بزرگوں اور ماسٹروں ہی سے سیکھی تھیں ۔ میں دو دن لاہور رکا تھا۔ وہاں دیکھا کہ جس بازار میں کوئلوں سے منھ کالا کیا جاتا ہے، وہ ہیرا منڈی کہلاتی ہے ۔  میں نے لالوکھیت ، بہار کالونی ، چاکیواڑہ اور گولیمار کا چپہ چپہ  دیکھا ہے ۔ چودہ پندرہ لاکھ آ دمی (اخبار والے اب آدمی کو آدمی کہنے سے شرماتے ہیں ،افراد اور نفوس کہتے ہیں ۔ ) ضرور رہتے ہوں گے لیکن کہیں کتابوں اور عطریات کی دکان نہ دیکھی ۔ کاغذ تک کے پھول نظر نہ آئے ۔ کا نپور میں ... شرفا کے گھروں میں کہیں نہ کہیں موتیا کی بیل ضرور چڑھی ہوتی تھی۔۔۔۔ یہاں موتیا صرف آنکھوں میں اترتا ہے۔  اتوار کی صبح کو غلام احمد پرویز کا درس سننے جاتے ۔۔۔۔پر طبیعت ادھر نہیں آئی ۔ فلسفہ اور اشعار کی بھر مار سے وعظ و درس پر ہمیں اپنی ہی نثر کا گمان ہونے لگا۔  قضیہ اپنی جگہ اور تفنن اپنی جگہ ۔ اول الذکر ہمارا پیشہ ہے اور ثانی الذکر مشن ۔  اگر آپ مصنف کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں تو آپ کو بینک کے لیے نا اہل سمجھا جاۓ گا۔ کچھ عرصہ تک میں بہت راز داری سے لکھتارہا، میں مشتاق احمد کے نام سے لکھتا تھا اس لیے پہچانا نہیں گیا۔ انگلینڈ میں تو مصنفین کو ہیجڑے سمجھ کر معطل کر دیا جا تا ہے ، وہ صرف کامیاب شعرا کی عزت کرتے ہیں ، باقی سب ان کے نزدیک اعصابی مریض ہیں ۔ پاکستانی بزنس مین ، بیوروکریٹ اور بینکر کی ڈکشنری میں انٹلکچوئل سے زیادہ سڑی گالی کوئی نہیں اور ہم یہ بات ، ساری عمر یہی گالی کھا کے بے مزہ ہوۓ بغیر کہہ رہے ہیں ۔ شروع میں یہ عجیب سا لگا کہ ڈپٹی جنرل مینیجر سے لے کر چپراسی تک سب ہی ہماری ایم ۔ اے کی ڈگری کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ حالانکہ ہم نے بار ہا اطمینان دلایا کہ ہم نے فلسفہ میں ایم ۔ اے محض دفع الوقتی کے لیے کیا تھا۔ تعلیم ہرگز مقصود نہ تھی۔۔۔۔ ایل ایل بی تو پھر بھی لوگ ایک مکمل اور بین معذوری سمجھ کر معاف کر دیتے تھے لیکن فلسفہ کا ایم اے؟؟؟ جو کچھ پڑھا، وہ ہمارے کام نہ آیا۔  میں نے اسکول ہی سے لکھنا شروع کردیا تھا مگر وہ تحریریں میں نے دفن کر دیں تا کہ آنے والے نقادوں کو ان کا سراغ تک نہ ملے ۔  پہلی کتاب'' چراغ تلے''  پر نظر ثالث جناب شاہد احمد دہلوی مرحوم نے کی تھی ( نظر ثانی گھر کے سنسر نے کی تھی چنانچہ کتاب بھی سوکھ کے آدھی رہ گئی ) دوسری کتاب ''خاکم بدہن'' پر جناب شان الحق حقی نے نظر ثانی فرمائی ۔ شاہد احمد دہلوی کی طرح وہ بھی واں کے نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں ۔ خیال آیا کہ تیسری کتاب کا ذائقہ بدلنے کی خاطر اس دفعہ کیوں نہ کسی لکھنوی اہل زبان سے اصلاح کے بہانے چھیڑ چھاڑ کا آغاز کیا جائے ( یوں تو میں بھی ٹھیٹ اہل زبان ہوں ، بشرطیکہ زبان سے مراد مارواڑی زبان ہو ) چنانچہ محب گرامی جناب محمدعبدالجمیل صاحب سے رجوع کیا ۔۔۔۔۔۔ جمیل صاحب نے میری زبان کے ساتھ لگے ہاتھوں جوانی کا بھی جائزہ لے ڈالا اور انھیں بالترتیب داغدار اور بے داغ پا کر اپنی مایوسی  کا اظہار کیا۔ فرمایا کہ ترتیب اگرالٹی ہوتی تو کیا بات تھی ۔  زرگذشت کی اشاعت کے بعد ارادہ تھا کہ کوچہ سود خواراں میں اپنی خواری کی داستان آخری باب میں جہاں ختم ہوئی ہے، وہیں سے دوسری جلد کا آغاز کروں گا لیکن درمیان میں لندن ، ایک اور بینک ، ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف اور'' آب گم'' آ پڑے ۔ کچھ اندیشہ ہائے دور دراز بھی ستانے لگے  مثلا  یہی کہ میرے ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز یہ نہ سمجھیں کہ بینکنگ کیرئیر تو محض کیموفلاژ اور بہا نہ تھا۔ دراصل کم جنوری ۱۹۵۰ یعنی ملازمت کے روز اول ہی سے میری نیت میں فتورتھا۔محض مزاح نگاری اور خودنوشت کے لیے سوانح اکٹھے کرنے کی غرض سے فقیر اس حرام پیشے سے وابستہ ہوا ( و ہ بھی کیا زمانہ تھا جب حرام پیسے کی صرف ایک شکل ہوا کرتی  تھی ... سود! ) دوسری حوصلہ شکن الجھن جو ''زرگذشت'' حصہ دوم کی تصنیف میں مانع ہوئی ، یہ تھی کہ یہ اردوفکشن کا سنہری دور ہے ۔ آج کل اردو میں بہترین فکشن لکھی جارہی ہے .... خودنوشت اور سفر ناموں کی شکل میں ! افسانے اور ناول ان کی گردکونہیں پہنچتے ۔  اٹھائیس سال کراچی میں رہنے کے بعد میں نے جنوری ۱۹۷۹ء میں لندن جانے کے لیے رخت سفر باندھا... اب میں ایک بین الاقوامی مالیاتی  ادارے کے زیر سر پرستی گیارہ سال لندن میں گزارنے کے بعد وطن  واپسی کی تیاری کر رہا ہوں ۔ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو ذاتی ،ادبی ، پیشہ وارانہ ، سیاسی اور قومی اعتبار سے اس عشرہ رائگاں میں زیاں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ، سب کچھ کھوکر بھی کچھ نہ پایا۔ البتہ ملکوں ملکوں گھومنے اور وطن سے دور رہنے کا ایک بین فائد ہ  یہ دیکھا کہ وطن اور اہل وطن سے محبت نہ صرف بڑھ جاتی ہے بلکہ بے طلب اور غیر مشروط بھی ہو جاتی ہے ۔

سفر کردم بہر شہری دویدم

به لطف و حسن تو کس را ندیدم

نقصان یہ کہ ہر خبر اور ہر افواہ جو ادھر سے آتی ہے دل دہلانے اور خون جلانے والی ہوتی ہے ۔ پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ   نکلتی ہیں ۔یہ عمل دس گیارہ سال جاری رہے تو حساس آدمی کی کیفیت سیسمو گراف کی سی ہو جاتی ہے جس کا کام ہی زلزلوں کے جھٹکے ریکارڈ کرنا اور ہمہ وقت گزرتے رہنا ہے....مرزا عبدالودود بیگ تو ( جوابتدا میں ہر حکومت کی زور وشور سے حمایت اور آخر میں اتنی ہی شدومد سےمخالفت کرتے ہیں )ایک زمانے میں اپنے کان پکڑتے ہوئے یہاں تک  کہتے تھے کہ اللہ معاف کرے میں تو جب اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم کہتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے رجیم سے یہی REGIME مراد ! نعوذ باللہ ثم نعوذ بااللہ ..... جیسے اور دورگزر جاتے ہیں ، یہ دور بھی گزرگیا۔ متذکر ہ  صدر دس تحریریں جو اپنی ساخت ، ترکیب اور دانسته و آراستہ بے ترتیبی کے اعتبار سے مونتاژ اور پھیلاؤ کے لحاظ سے ناول کے زیادہ قریب ہیں ،اسی  دور ضیاع کا تلخابہ ہیں ۔ ان میں سے صرف پانچ  اس کتاب میں شامل ہیں وطن اور احباب سے گیارہ سال دوری اور مہجوری کا جو اثر طبیعت پر مرتب ہوتا ہے ، اس کی پر چھائیاں آپ کو جہاں تہاں ان تحریروں میں نظر آئیں گی۔ یوں لندن بہت دلچسپ جگہ ہے اور اس کے علاوہ بظاہر اور کوئی خرابی نظر نہیں آتی کہ غلط جگہ واقع ہے۔ موسم ایسا جیسے کسی کے دل میں بغض بھرا ہو۔۔۔۔۔ روشن پہلو یہ کہ شائستگی ، رواداری اور بردباری میں انگریزوں کا جواب نہیں ۔ مذہب ،سیاست اور سیکس پر کسی اور کیسی بھی محفل میں گفتگو کرنا خلاف تہذیب اور انتہائی معیوب سمجھتے ہیں .... لندن میں اس راندہ درگاہ پر کیا گزری اور کیسے کیسے باب ہاۓ خر دافروز وا ہوۓ ، یہ ایک الگ داستان ہے جس میں کچھ ایسے پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں جو صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں ۔ اسے انشاءاللہ جلد ایک علیحدہ کتاب کی شکل میں پیش کروں گا ۔  بحمد اللہ میں اپنی طبعی اور ادبی عمر کی جس منزل میں ہوں وہاں انسان تحسین اور تنقیص دونوں سے اس درجہ مستغنی ہو جا تا ہے کہ نا کردہ خطاؤں تک کا اعتراف کر نے میں حجاب محسوس نہیں کرتا ۔ چنانچہ اب مجھے'' کسے کہ خندان نه شد از قبیله مانیست'' پر اصرار کے باجود یہ اقرار کر نے میں حجاب محسوس نہیں ہوتی کہ میں طبعا ، اصولا اور عا دتا یاس پسند اور بہت جلد شکست مان لینے والا آدمی ہوں ۔ قنوطیت غالبا مزاح نگاروں کا مقدر ہے.۔۔۔۔۔ بہر حال قبل از وقت مایوس ہو جانے میں ایک فائدہ یہ دیکھا کہ نا کامی اور صد مے کا ڈنگ اور ڈر پہلے ہی نکل جاتا ہے ۔۔۔ مگر ایک کہاوت یہ بھی سنی کہ بند ر پیڑ کی پھننگ پر سے زمین پر گر پڑے تب بھی بندر ہی رہتا ہے ۔ قدیم زمانے میں چین میں دستور تھا کہ جس کا مذاق اڑانا مقصود ہوتا ، اس کی ناک پر سفیدی پوت دیتے تھے، پھر وہ د یکھا کتنی بھی گھمبیر بات کہتا کلا ؤن ہی لگتا تھا ۔ کم و بیش یہی حشر مزاح نگار کا بھی ہوتا ہے ۔ وہ اپنی فولس کیپ اتار کر پھینک بھی دے تو لوگ اسے جھاڑ پونچھ کر دوبارہ پہنادیتے ہیں ۔  ہماری ساری عمر حساب کتاب میں گزری ۔  ہم اپنے چھوٹے منھ سے بڑی بات نہیں کہہ سکتے ، نہ چھوٹی لہذا یہ نہیں بتاسکتے کہ ہم کامیاب ہیں یا نا کام ۔ لیکن اتنا پتا بتاۓدیتے ہیں کہ اگر ہمارے اسکریو  اور ڈھبریاں لگی ہوتیں تو ہمارے تمام دوست ، احباب اور بہی خواہ سارے کام دھندے چھوڑ چھاڑ اپنے اپنے پیچ کش اور پانے (SPANNERS) لے کر ہم پر پل پڑتے ۔ ایک اپنے چوکور پانے سے ہماری گول ڈھبری کھولنے کی کوشش کرتا ، دوسرا تیل دینے کے سوراخ میں  ہتھوڑے سے اسکر یوٹھونک دیتا، تیسرا شبانہ روز کی محنت سے ہمارے تمام اسکر یو ''ٹائٹ''کرتا ، آخر میں سب مل کر ہمارے سارے اسکریو  اور ڈھبر یاں کھول کر پھینک دیتے۔ محض یہ دیکھنے کے لیے کہ ہم ان کے بغیر بھی فقط دوستوں کی قوت ارادی سے چل پھر اور چر  چگ سکتے ہیں یانہیں؟ ہماری اور ان کی ساری عمر اسی کھٹر بیچ میں تمام ہو جاتی ۔

ختم شد

مزید اردو شاعری ملاحظہ فرمائیں


خود ستائیاں||مشتاق احمد یوسفی کی سوانح حیات مرتب ڈاکٹر اشفاق احمد ورک||مشتاق احمد یوسفی کی مزاح نگاری||Mushtaq Ahmad Yusufi||Dr Ashfaq Ahmad virk

Dr Ashfaq Ahmad virk

مجموعہ:خود ستائیاں ؛ پبلشر کتاب سرائے سے ماخوز


آج کے مطالعے کے لیے ایک ورق مزید پڑھیں

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...