ہم بونے ہیں
اور ہم خوش ہیں
خداوں کے ہر نئے تازیانے پہ
ہمیں یہ سہولت ہے کہ
ہماری تقدیر کو کئی بار لکھا جاتا ہے
ہمارے خدا ہم سے خراج مانگتے ہیں ہماری زبانوں کا
سوالوں کا
عزت کے شملوں کا
اور ہماری دستاروں کا
وہ خدا ہیں ہماری خودسری سے نالاں
چہرے سپاٹ اور ہر احساس سے عاری
اپنی رعونت میں گم
اپنی اپنی طبیعتوں کے موافق
ہمیں دھیمی اور تیز آنچوں پہ ہیں پکاتے
ہم ان کی بھٹیوں میں کندن بن کے خاموشی کا ہار گلے میں پہن کے
ہر سو پھیل جاتے ہیں
زندگی کا انکار کرتے ہیں
ہم میں سے کوئی انگارہ چٹخ کے بھٹی سے باہر گر جائے
تو خداوں کی قہر بار آنکھوں میں
جو مدتوں سے خشک ہمیں گھور رہی ہیں
خون کی نمی اتر آتی ہے
اور وہ ایڑی سے مسل دیا جاتا ہے
چٹاخ،چٹاخ
![]() |
| ہم بونے ہیں||قیصر شہزاد ساقی||Qaisar Shahzad Saqi||Nazm ham bony hain |

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں