آہ! عطا ءالحق قاسمیؔ
منفر دسفر نامہ نگار ممتاز کالم نویس اور ٹھیک ٹھاک شاعر عطاءالحق قاسمی کی موت سے ادبی حلقوں میں جو خلا پیدا ہو گیا ہے وہ آسانی سے پر ہو جاۓ گا۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی لوگ مرتے آۓ ہیں اور ہماری آپ کی خواہشات کے برعکس دوسرے لوگ ان کی جگہ لیتے رہے ہیں ۔مرحوم بڑے ہنس مکھ اور زندہ دل واقع ہوۓ تھے۔ بات بات پر قہقہے لگاتے تھے اور پھر رات کو سوتے وقت ان قہقہوں کا جواز بھی تلاش کرتے تھے ۔ان کا تعلق ایک ممتاز علمی اور مذہبی گھرانے سے تھا۔ گھر میں انھیں ملحد اور بے دین سمجھا جاتا تھا ، جب کہ ملحد اور بے دین حلقوں میں ان کا شمار صلحاء میں ہوتا تھا۔ دراصل مرحوم کی شخصیت خاصی الجھی ہوئی تھی ۔ چنانچہ ان کے ایک دوست گلزار وفا چودھری کا کہنا تھا کہ اس شخص کا دل مؤمن ، دماغ چینی اور کرتو تیں امریکی ہیں ۔ جب کہ مرحوم اس سلسلے میں خاموشی اختیار کرتے تھے جس کا مطلب نیم رضا مندی سمجھا جا تا ہے ۔ مرحوم کی طبیعت میں اضطراب بھی بہت تھا ۔ ماحول کی یکسانیت سے اکتا جاتے تھے ۔روزانہ کسی ایک شخص کا چہرا نہیں دیکھ سکتے تھے ۔کسی کے پاس آدھ گھنٹہ سے زیادہ بیٹھنا ان کے بس میں نہیں تھا اور دوسروں کے بس میں بھی نہیں تھا ۔ صبح گھر سے دفتر جاتے وقت روزانہ کوئی نیا راستہ اختیار کرنے کوشش فرماتے چنانچہ رستے کی اجنبیت کے باعث آئے دن کسی گڑھے سے برآمد ہوتے ۔ ان کی تغیر پسندی کا یہ عالم تھا کہ ہر دو چار ماہ بعد ان کے دستخط تک تبدیل ہو جاتے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنے متلون مزاج ہونے کے باوجو دمرحوم کی ازدواجی زندگی بہت خوشگوار تھی۔ تا ہم یہ ان کا بیان تھا جس کی تصدیق یا تردید نہیں ہوسکی ۔مرحوم بہت بے چین رہتے تھے اور سکون کے متلاشی تھے۔ چنانچہ شادی سے قبل وہ اس کی تلاش میں امریکہ اور یورپ کے سفر پر روانہ ہوئےلیکن دو سال بعد اپنا اور دوسروں کا سکون غارت کر کے واپس لوٹ آئے ۔ وطن عزیز سے انھیں بے پناہ محبت تھی اور اس معاملے میں انتہا کے جذباتی تھے چنانچہ اپنی تمام تر خاندانی اور طبعی شرافت کے باوجود'' پاکستانیت '' کے مسئلہ پر دھینگا مشتی سے بھی گریز نہیں فرماتے تھے ۔ انھیں بناوٹ ،منافقت اور نظریاتی دھوکہ بازی سے نفرت تھی اور ایسے لوگوں کو دیکھ کر ناک پررومال رکھ لیتے چناں چہ انھیں اکثراسی حالت میں پایا گیا ۔مرحوم کو دوسروں بارے میں کڑوی سے کڑوی سچی بات ان کے منھ پر بیان کرنے کا بہت شوق تھا اور یوں بڑے حق گو تھے۔ تا ہم اپنے بارے میں دوسروں کو ہمیشہ حسن ظن سے کام لینے کی تلقین کرتے ۔لیکن اس کے باوجوداگر کوئی ان کے بارےمیں سچی بات کہہ دیتا تو گھنٹوں آزردہ رہتے کہ لوگوںمیں کھرے اور کھوٹے کی پہچان نہیں رہی ۔مرحوم سکھوں کے مشہور شہر امرتسر میں پیدا ہوۓ اس کا اندازہ ان کی بعض عادات سے بھی ہوتا تھا مثلا یہ کہ کسی انتہائی ناخوشگوار واقعہ سے دو چار ہونے کے باوجودٹھنڈے ٹھنڈے گھر واپس آ جاتے تھے لیکن کئی گھنٹے بعد اور بعض صورتوں میں کئی دنوں بعد اچانک انھیں خیال آتا تھا کہ اس روز تو ان کی سخت تو ہین ہوئی تھی ۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ پیچ و تاب کھا نا شروع کر دیتے تھے ۔ان کی محبت و نفرت بھی عجیب قسم کی تھی ۔ کسی دوست کی غیر دوستانہ حرکت پر ان کی نفرت انتہائی شدیدلیکن عارضی نوعیت کی ہوتی تھی ۔ جب کہ ان کی محبت دھیمی دھیمی لیکن دائمی تھی ۔ آخر عمر میں انھوں نے خلاف عادت اس فیلڈ میں شدت اور پائیداری کا بیک وقت مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں وہ ہر وقت درد ناک اشعار پر سوز لے میں گاتے پائے گئے حتیٰ کہ اس عالم میں وفات پائی۔
مرحوم کی تمام عمر ضابطوں اور پابندیوں میں گزری۔ معاشرے کی پابندیاں، زبان کی پابندیاں اور قلم کی پابندیاں۔ انھوں نے ان پابندیوں کے خلاف کبھی صدائے احتجاج بلند نہیں کی ۔بلکہ ان کے عین مطابق اپنی زندگی بسر کرتے رہے۔ حتی کہ اپنی جان ،جان آفریں کے سپردکردی۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں