نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آہ! عطا ءالحق قاسمیؔ||ڈاکٹر اشفاق احمد ورک|Ahh! Ataa ul Haq qasmi az Dr Ashfaq Ahmad Virk

 

 آہ! عطا ءالحق قاسمیؔ


ڈاکٹر اشفاق احمد ورک

منفر دسفر نامہ نگار ممتاز کالم نویس اور ٹھیک ٹھاک شاعر عطاءالحق قاسمی کی موت سے ادبی حلقوں میں جو خلا پیدا ہو گیا ہے وہ آسانی سے پر ہو جاۓ گا۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی لوگ مرتے آۓ ہیں اور ہماری آپ کی خواہشات کے برعکس دوسرے لوگ ان کی جگہ لیتے رہے ہیں ۔مرحوم بڑے ہنس مکھ اور زندہ دل واقع ہوۓ تھے۔ بات بات پر قہقہے لگاتے تھے اور پھر رات کو سوتے وقت ان قہقہوں کا جواز بھی تلاش کرتے تھے ۔ان کا تعلق ایک ممتاز علمی اور مذہبی گھرانے سے تھا۔ گھر میں انھیں ملحد اور بے دین سمجھا جاتا تھا ، جب کہ ملحد اور بے دین حلقوں میں ان کا شمار صلحاء میں ہوتا تھا۔ دراصل مرحوم کی شخصیت خاصی الجھی ہوئی تھی ۔ چنانچہ ان کے ایک دوست گلزار وفا چودھری کا کہنا تھا کہ اس شخص کا دل مؤمن ، دماغ چینی اور کرتو تیں امریکی ہیں ۔ جب کہ مرحوم اس سلسلے میں خاموشی اختیار کرتے تھے جس کا مطلب نیم رضا مندی سمجھا جا تا ہے ۔ مرحوم کی طبیعت میں اضطراب بھی بہت تھا ۔ ماحول کی یکسانیت سے اکتا جاتے تھے ۔روزانہ کسی ایک شخص کا چہرا نہیں دیکھ سکتے تھے ۔کسی کے پاس آدھ گھنٹہ سے زیادہ بیٹھنا ان کے بس میں نہیں تھا اور دوسروں کے بس میں بھی نہیں تھا ۔ صبح گھر سے دفتر جاتے وقت روزانہ کوئی نیا راستہ اختیار کرنے کوشش فرماتے چنانچہ رستے  کی اجنبیت کے باعث آئے  دن  کسی گڑھے  سے برآمد ہوتے ۔ ان کی تغیر پسندی کا یہ عالم تھا کہ ہر دو چار ماہ بعد ان کے  دستخط  تک تبدیل ہو  جاتے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے  کہ اتنے متلون مزاج ہونے  کے باوجو دمرحوم  کی ازدواجی زندگی بہت خوشگوار تھی۔ تا ہم یہ ان  کا بیان تھا جس کی  تصدیق یا  تردید نہیں ہوسکی ۔مرحوم بہت بے چین  رہتے تھے اور سکون  کے متلاشی تھے۔ چنانچہ شادی سے قبل وہ اس کی  تلاش میں  امریکہ اور  یورپ کے  سفر پر  روانہ ہوئےلیکن  دو سال بعد اپنا اور  دوسروں کا سکون غارت کر کے  واپس لوٹ آئے ۔ وطن عزیز سے انھیں بے پناہ محبت تھی اور اس معاملے  میں انتہا  کے جذباتی تھے  چنانچہ اپنی تمام  تر خاندانی اور طبعی  شرافت کے  باوجود'' پاکستانیت '' کے مسئلہ پر دھینگا  مشتی سے بھی گریز  نہیں فرماتے تھے ۔ انھیں بناوٹ ،منافقت اور نظریاتی دھوکہ بازی سے نفرت تھی اور ایسے لوگوں کو دیکھ کر ناک  پررومال  رکھ لیتے  چناں چہ انھیں اکثراسی  حالت میں پایا گیا ۔مرحوم کو  دوسروں بارے  میں کڑوی سے کڑوی سچی بات ان کے منھ پر بیان  کرنے کا بہت شوق تھا اور  یوں بڑے حق گو تھے۔ تا ہم  اپنے بارے میں  دوسروں  کو ہمیشہ حسن ظن سے کام لینے کی  تلقین کرتے ۔لیکن اس  کے باوجوداگر کوئی ان  کے بارےمیں  سچی بات کہہ دیتا  تو گھنٹوں آزردہ رہتے کہ  لوگوںمیں  کھرے  اور کھوٹے کی  پہچان نہیں رہی ۔مرحوم سکھوں کے مشہور  شہر امرتسر میں  پیدا ہوۓ اس  کا اندازہ ان کی  بعض عادات سے بھی  ہوتا تھا مثلا یہ کہ  کسی انتہائی ناخوشگوار واقعہ سے دو چار ہونے کے باوجودٹھنڈے ٹھنڈے  گھر واپس آ  جاتے تھے لیکن کئی  گھنٹے بعد اور بعض  صورتوں میں کئی دنوں بعد اچانک انھیں خیال آتا تھا کہ اس روز تو ان کی سخت تو ہین ہوئی تھی ۔ اور اس کے  ساتھ ہی وہ پیچ و  تاب کھا نا شروع کر دیتے تھے  ۔ان کی محبت و  نفرت بھی عجیب قسم  کی تھی ۔ کسی  دوست  کی غیر دوستانہ حرکت پر ان  کی نفرت انتہائی شدیدلیکن  عارضی نوعیت کی ہوتی  تھی ۔ جب کہ ان کی محبت دھیمی دھیمی لیکن دائمی تھی ۔ آخر عمر میں انھوں نے خلاف عادت اس فیلڈ میں  شدت  اور پائیداری کا بیک  وقت مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں وہ ہر وقت  درد ناک اشعار پر سوز  لے میں گاتے پائے گئے حتیٰ  کہ اس عالم میں  وفات پائی۔

مرحوم کی تمام  عمر ضابطوں اور  پابندیوں میں  گزری۔ معاشرے  کی پابندیاں، زبان کی  پابندیاں اور قلم کی   پابندیاں۔ انھوں نے ان  پابندیوں کے  خلاف کبھی  صدائے احتجاج  بلند نہیں کی ۔بلکہ ان کے عین مطابق اپنی  زندگی بسر کرتے رہے۔ حتی کہ اپنی  جان ،جان آفریں کے سپردکردی۔

 حق  مغفرت کرے عجب ''آزاد ''مرد تھا

آہ! عطا ءالحق قاسمیؔ||ڈاکٹر اشفاق احمد ورک||عطاءالحق قاسمی کا خاکہ||Ahh Ataa ul Haq qasmi az Dr Ashfaq Ahmad Virk

ماخوز:مجموعہ''خود ستائیاں'' پبلشرز بیت الحکمت لاہور

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری