یہ بھی وقت گزر جائے گا
رات اگر غم کی آئی ہے
دن خوشیوں کا بھی آئے گا
یہ بھی وقت گزر جائے گا
غم سے مت گبھرانا ساتھی
ہمت ہار نہ جانا ساتھی
ملے گی منزل ، کٹے گی مشکل
ہر دکھیارا سکھ پائے گا
یہ بھی وقت گزر جائے گا
جان ہے کیا شے آن کے آگے
انساں کیا جو غم سے بھاگے
ہر دکھ سہ جا دل کی کہ جا
گیت یہ جگ تیرے گائے گا
یہ بھی وقت گزر جائے گا
آنکھ کھلی تو ہم تھے قفس میں
اب بھی ہے سب کچھ غیر کے بس میں
سوگ ہے گھر گھر گنبد بے در
اور الم کیا دکھلائے گا
یہ بھی وقت گزر جائے گا
کھل جائیں گے در زنداں کے
جاگ اٹھیں گے بھاگ انساں کے
دیدۂ پرنم پیار کا پرچم
چاروں جانب لہرائے گا
یہ بھی وقت گزر جائے گا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں