تجھے پھر سے سر کوہ تمنا دیکھنے کا
ذرا سا بھی نہیں امکان ایسا دیکھنے کا
ابھی ذہن و نظر زنگار کے زیر اثر ہیں
کوئی پہلو نہیں ہے سوچنے کا ، دیکھنے کا
خزاں خواہوں نے اس میں سبزشیشے جڑ دیے ہیں
ہمیں خوش فہم ہی رکھتا ہے چشمہ ، دیکھنے کا
کچھ اس کے جسم کی وہ شعلگی بھی بجھ گئی تھی
کچھ اپنا شوق بھی ویسا نہیں تھا دیکھنے کا
بہ وقت آئنہ بینی پلک جھپکی تھی ، اختر!
تغافل میں گنوا بیٹھا ہوں لمحہ دیکھنے کا
اختر عثمان

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں