شہر کے لیے
چالیس بیالیس برس پہلے جب میں بیس برس کا تھا
میں نے خواہش کی تھی
شہر کے ساتھ بوڑھا ہونے کی
یہ بہت سرل بہت آسان سی خواہش تھی
)یا شاید اس وقت آسان لگتی تھی )
اس میں کسی کا کوئی بیچ نہیں تھا۔
شہراور میں
اس قصے میں بس ہم دو ہی تھے ،
یا سمجھوتو تیسرا وہ پارسی بھائی تھا
سولا ہیٹ پہنے
ڈوبتے سورج کی طرف چہرہ کیے
منھ ہی منھ میں کچھ پڑھتا ہوا۔
نئی جٹی کے پرانے پل کے برابرگر ڈروں اور پائپوں کا ایک پل ہے
جس پر ریل کی پٹری بچھی ہے
لوہے کے اس پھیلاوے اورنٹی جٹی پل کے بیچ ایک دمدمہ سا ہے
جس پر جانے کوفٹ پاتھ کے ساتھ بنی نیچی دیوار لانگھنی پڑتی ہے ؛
اوور ٹائم ختم کر کے جب میں کیا ماڑی سے آرہا ہوتا
تو وہ مجھے اس دمد مے پر کھڑا ملتا تھا۔
سفید زین کا بند گلے کا کوٹ اور سفید پتلون پہنے
وہ کسی در مہر کا خادم یا دستور دکھائی پڑتا تھا
ہاتھ میں چھوٹی سی کتاب لیے
( یا اس کی دعاؤں کی کتاب ہوگی )
کانوں تک آ یا ہواخا کی رنگ کا سولا ہیٹ پہنے
سردی گرمی برسات ، سورج کی طرف چہرہ کیے
شہر کے اس پہلے پل پر کھڑادہ مجھے روز نظر آ تا تھا
اس کا سبھاؤ کسی اہم تقریب کے emcee
یا بہت با ادب چو بدار کا ہوتا تھا
اسے پہلی بار دیکھ کر ہی میں سمجھ گیا تھا کہ وہ شہر کا اگوا ہے
جوروز اس پل پر شہر کے لیے کچھ مانگنے آتا ہے
پھر مجھے پتا چل گیا کہ وہ کیا مانگنے آتا ہے
خود به خود پتا چل گیا کہ وہ شہر کو دینے کے لیے
سورج سے رات مانگنے آیا کرتا ہے۔
اسے دیکھتے ہی میں پہچان گیا تھا کہ وہ شہر کے ساتھ بوڑھا ہوا ہے
شہر کا اگوا ہے وہ
مغرب سے کچھ دیر پہلے وہ اپنی کتاب بند کرتا اسے کوٹ کی اوپر والی جیب میں رکھ لیتا
پھر کچھ پڑھتے ہوے ہاتھوں کے مودب اشارے سے عرض کرتا کہ نیر اعظم ،عالم پناہ!
گزارش یہ ہے کہ اس
بخت آور شہر کو اب اس کی رات بخش دی جائے
تس پہ جاتا ہواسورج اس بھاگوں بھرے شہر کی رات اس کے حوالے کر جاتا
وہ...شہر کا اگوا ،ہیٹ اتارے دمدمے سے فٹ پاتھ پر آ تا
اپنی بھاری ذمہ داری میں جھکا ہوا
اس دن کی رات لیے شہر میں داخل ہو جاتا ۔۔...
شہر پھر دھیما ہو جاتا
(چالیس بیالیس برس پہلے کا )
شہر پھر دھیما اور شانت ہو جاتا
ماخذ: کھڑکی بھر آسمان
انتخاب:قیصر شہزاد ساقی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں