نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ہے للا للا از اسد محمد خان|اسد محمد خان کے مشہور افسانے|Asad Muhammad Khan

 ہے للاللا

 

استاد عاشق علی خاں مر گیا اور بکرے کی آواز والا ایم ایف رحیم زندہ ہے ۔ اور آنکھ مارنے والی تسوفنی اور حلقے کی ترتری بجانے والا آرسہول ڈکا سٹا اور متورم چہرے والا ہومو سیکسچوئل پروڈیوسر اور چالیس ہزار نیم مردہ بیوروکریٹس زندہ ہیں ۔

اور وہ سب جو زندہ ہیں وہ اس لیے زندہ ہیں کہ آواز کو ( جوخداوند کا جمال اور اس کا جلال ہے اور موجودات کا حتمی توازن ہے اور نری سچائی ہے ) اپنے خصیوں میں تلاش کرتے ہیں اور استاد عاشق علی خاں اس لیے مر گیا کہ وہ آواز کو اپنے وجدان میں تراشتا تھا۔ استاد عاشق علی خاں کی Sensitivity چلنے والی چیز نہیں تھی ، اسی لیے ۔ وہ مر گیا۔ وہ آواز کو خدا سمجھتا تھا اور بیالیس ہزار راگ راگنیوں اور سروں  شرتیوں کے حوالے سے اور سیہون کے شہر خیال اور روشن آرا بیگم اور بڑے غلام علی خاں کے حوالے سے اور بندو خاں کے حوالے سے آواز کی ارسٹوکریٹ تلیاں پیدا کرنا چاہتا تھا... سوا سے تومرنا ہی  تھا۔

اب جب کہ استاد عاشق علی خاں مر گیا ہے تو جو ڈریل بنک کی رصدگاہ نے سورج میں ایک اور اسپاٹ کی خبر دی ہے اور ایم ایف رحیم نے ایک کان سے دوسرے کان تک اپنا  د ہا نہ کھول دیا ہے اور چالیس کیمروں نے اپنے زوم لینس اس کے دہانے میں اتار دیے ہیں کہ ان چالیس کیمروں کے پیچھے چالیس کر دمیئم پلیٹیڈ بومز ہیں جن کے سروں پر فولادی چھینکوں میں حساس مائیکروفونز قلمی آموں کی طرح جھول رہے ہیں ۔ یہ چالیس کیمرے ایم ایف رحیم کی سوجی ہوئی سرخ زبان کے انتقام پر موت کے آرگزم میں اچھلتے ہوے کلی ٹو رس کو فوکس کرتے ہیں ؛ جو دہشت اور decay کا مرکز ہ ہے، اور چالیس بومز اس chaos کو جذب کرتے ہیں جو nonentity کی بڑی آنت کے نچلے سرے سے شروع ہوکر مائکروفونز کی فولادی جالیوں پر ختم ہوتا ہے ۔

 قصہ یہ ہے کہ ایم ایف رحیم کی پتلون اشہوت کے سنفو رائزڈ دھاگوں سے سلی ہے ۔ اسی لیے تمام VTR رول کر رہے ہیں اور اسی لیے استاد عاشق علی خان کی ارسٹوکریٹ تتلیاں ، اسٹوڈیو ''بی '' کی چھت سے چپکی ہوئی ہانپ رہی ہیں اور اسی لیے اسٹوڈیو ''بی'' کے ربڑ لگے فرش پر ایک کر ومیئم پلیٹیڈ کرین نصب ہے۔

دور کہیں گھنٹی بجتی ہے اور کر ومیئم پلیٹیڈ کرین کسی دہشت ناک آلہ تناسل کی طرح اپنیjib اٹھاتی ہے ۔ کرین کیjib  پر ٹرانسلوسنٹ ساڑی پہنے آنکھ مارنے والی تسوفنی کھڑی ہے۔ پھر کہیں گھنٹی بجتی ہے ۔ آنکھ مارنے والی تسوفنی پہلے اپنا پیڑو  جھٹکتی ہے، پھر اپنی ٹرانسلوسنٹ ساڑی جھٹکتی ہے اور اپنا ان شیون دہا نہ کھول کر ساری ارسٹوکریٹ تتلیاں ہڑپ کر جاتی ہے ۔

مرحبا! متورم چہرے والا ہو موسییکسچوئل پروڈیوسر، بیالیس ہزار راگ راگنیوں اورسروں ،شرتیوں کواپنی توند سے دھکیلتا ہوا اسٹوڈیو'’اے‘' کے دہرے دروازوں میں لے جاتا ہے اور سناٹے  کے اس برزخ میں اپنی فلائی کا ز پر کھول کر ان پر پیشاب کرتا ہے ۔ اس آواز کی نوٹیشن F Miner ہے۔

 مصنوعی چمڑے کا جھالر دار پنڈلی بوٹ پہنے ایک چپڑ قناتی لونڈا F .Minor میں سسکاری دینے لگتا ہے:

ایس یو این سن ۔ایس یو این سن ۔ ایس یو این سن ۔

 اس کی پتلون بھی شہوت کے سنفو رائزڈ دھاگوں سے سلی ہے ۔ وہ گرماۓ ہوے جھینگر کی طرح اسٹوڈیو'’بی'' کے ربڑ  لگے فرش پر ا چھلتا ہے اور کہتا ہے :

ایس یو این سن ۔

 ان سب کو سورج میں جگہ بنانی ہے۔ یہ سورج کا برص آباد کرنے والے لوگ ہیں ۔ یہ لافانی ہیں  ہر بار جب جوڈریل  بنک کی رصد گاہ سورج میں کسی نئے اسپاٹ کی خبر دیتی ہے، میں سمجھ جاتا ہوں کہ استاد عاشق علی خاں  مر گیا اور ایم ایف رحیم اور سسکاری دینے والے جھینگر لونڈے  نے اپنے  لیے سورج میں جگہ بنالی اور آنکھ مارنے والی تسوفنی اور آرسہول  ڈکاسٹا اور ہومو سکسچوئل پروڈیوسر  اور چالیس ہزار نیم مردہ بیورو کریٹس کو  ایک اور مہلت مل گئی۔

مگر  نہیں ...  مجھے پوری بات کہہ دینی چاہیے۔ مجھے کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرنی ۔ میں تو اس کا  قائل ہوں کہ سیز رکاحق سیز رکو ملے ۔

بات یہ ہے کہ انھوں نے  ، جو زندہ ہیں اور سورج میں لافانی ہیں  ، انھوں نے استاد  عاشق علی کو زندہ رہنے کی ایک مہلت دی تھی اور راگ ایمن کلیان میں  ایک jingleکمپوز کرنے کو کہا  تھا ۔یہ jingle ان کے نئے ایف ایل کی توصیف میں تھا۔ اس  میں 27 بار نشیلی رسیلی کٹیلی لکچیلی  اور پھسلیلی کے الفاظ آتے تھے اور یہ بتایا گیا تھا کہ نیا ایف ایل electronically tested ہے طاقت سے  بھر پور اور دنیا بھر میں مشہور ہے اور اس کے استعمال کے بڑے اجر ہیں  ۔اور یہ سب  باتیں  راگ ایمن کلیان میں کہی جانی تھیں جو خداوند کی حمد کا راگ ہے اور ڈھائی ہزار برس کے انسانی وجدان میں آواز کا معجز ہ ہے ۔

 اور یہ  ساری باتیں حقے جیسی ترتری کے lubricated   نوٹس پر کہی جانی  تھیں اور ان باتوں کے لیے بالالتزام کانگو، بونگواور'' آ جاؤ افریقا‘'والے ڈھول فراہم کیے گئے تھے اور ایک الیکٹرک ستاربھی تھا اور اسپینش اور بیس  گٹاریں اور چیلو  اور مرا کا اور اسکر پیپر تھے اور  مرلی دھر کی فلیوٹ تھی اور سارنگیاں اور سرود تھے ۔ اور وائلن اور ونیا اور مرد نگ تھے اور ایک تجویز یہ تھی کہ انٹرلیوڈ میں دم توڑتے ہوےاستاد عاشق علی خان کی آ کار بھی  ڈال  دی جائے ۔

تاہم یہ محض  ایک تجویز  تھی اور اس سے اتفاق کر نا نہ  کرنا استاد عاشق خاں پر  موقوف تھا۔

 تو انھوں نے ، جو  سورج میں لافانی تھے استاد شق علی خاں کو  زندگی کی  مہلت دینے  آئےتھے ۔ انھوں جب یہ  ساری باتیں  کہ ڈالیں تو استاد شق علی خاں نے  ہاتھ باندھ کران  سے چلے جانے کو کہا  اور ناشکرگزاری میں خون  کی الٹیاں کیں ۔سو وہ جوز زندگی دینے آئے تھے۔ وہ چلے گئے مگر انھوں نے استاد عاشق علی خاں کو معاف نہیں کیا۔ انھوں نے اس کی ڈیوڑھی میں نہ ختم ہونے والے اندھیرے کا غبار چھوڑ دیا اور پان کی پیک بچھا دی اور پیشاب کی بو ٹانک دی اور لکڑی کے چکر دار زینے پر ٹراموں کے گھنٹے لٹکا دیے اور عورتوں کی دلالی کرنے والے لڑکوں کے آوازے سجا  دیے اور آڑھتیوں کی ہا ہا  کار لکھ دی اور ایک ایک سیڑھی پر چالیس چالیس ٹریفک کانسٹیبل کھڑے کر دیے، جو عقوبت کے ٹریفک جام میں پیتل کی discordant سیٹیوں سے آوازوں کے برسٹ مارتے تھے۔

اور بکرے کی آواز والے ایم ایف رحیم نے یوں کیا: کہ وہ چڑیا گھر سے ہارمونیکا بجانے والا ہاتھی پکڑ لایا، اور ہارمونیکا بجانے والے ہاتھی پر کھڑے ہو کر لوہے کے سریے سے ٹین کے کنستر پیٹنے لگا۔ پھر اس نے استاد عاشق علی خاں کی کھٹر کی کے مقابل ، ہاتھی کے مستک پر کھڑے کھڑےگوز صادر کیا اور کوئلے سے مکان کی دیوار پر ''ہے للا للا “ لکھ دیا۔

تو یہ تھی وہ کہانی جو میں نے خود ہی گھڑ لی ہے ۔

 

اس لیے کہ میں نے استاد عاشق علی خاں کو مرتے ہوے نہیں دیکھا اور ایم ایف رحیم کو ٹین بجاتے نہیں سنا اور آنکھ مارنے والی تسوفنی کا اسٹرپ ٹیز نہیں دیکھا اور آرسہول ڈکاسٹا کوترتری پراستمنا بالید کرتے نہیں سنا اور متورم چہرے والے ہومو سیکسچوئل کا F-Minor نہیں دیکھا اور جھینگر لونڈے کو جھالر بوٹ پہن کر سورج میں چہل قدمی کرتے نہیں دیکھا۔

 میں سماعت اور بصارت کے ایک دہشت ناک تناظر میں بہرہ اور اندھا پیدا ہوا ہوں .

ہے للا للا از اسد محمد خان|اسد محمد خان کے مشہور افسانے|Asad Muhammad Khan


مجموعہ:کھڑکی بھر آسمان

القا پبلیکیشنز لاہور

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری