ہے للاللا
استاد عاشق علی خاں مر گیا اور بکرے کی آواز والا ایم ایف رحیم زندہ ہے ۔ اور آنکھ مارنے والی تسوفنی اور حلقے کی ترتری بجانے والا آرسہول ڈکا سٹا اور متورم چہرے والا ہومو سیکسچوئل پروڈیوسر اور چالیس ہزار نیم مردہ بیوروکریٹس زندہ ہیں ۔
اور وہ سب جو زندہ ہیں وہ اس لیے زندہ ہیں کہ آواز کو ( جوخداوند کا جمال اور اس کا جلال ہے اور موجودات کا حتمی توازن ہے اور نری سچائی ہے ) اپنے خصیوں میں تلاش کرتے ہیں اور استاد عاشق علی خاں اس لیے مر گیا کہ وہ آواز کو اپنے وجدان میں تراشتا تھا۔ استاد عاشق علی خاں کی Sensitivity چلنے والی چیز نہیں تھی ، اسی لیے ۔ وہ مر گیا۔ وہ آواز کو خدا سمجھتا تھا اور بیالیس ہزار راگ راگنیوں اور سروں شرتیوں کے حوالے سے اور سیہون کے شہر خیال اور روشن آرا بیگم اور بڑے غلام علی خاں کے حوالے سے اور بندو خاں کے حوالے سے آواز کی ارسٹوکریٹ تلیاں پیدا کرنا چاہتا تھا... سوا سے تومرنا ہی تھا۔
اب جب کہ استاد عاشق علی خاں مر گیا ہے تو جو ڈریل بنک کی رصدگاہ نے سورج میں ایک اور اسپاٹ کی خبر دی ہے اور ایم ایف رحیم نے ایک کان سے دوسرے کان تک اپنا د ہا نہ کھول دیا ہے اور چالیس کیمروں نے اپنے زوم لینس اس کے دہانے میں اتار دیے ہیں کہ ان چالیس کیمروں کے پیچھے چالیس کر دمیئم پلیٹیڈ بومز ہیں جن کے سروں پر فولادی چھینکوں میں حساس مائیکروفونز قلمی آموں کی طرح جھول رہے ہیں ۔ یہ چالیس کیمرے ایم ایف رحیم کی سوجی ہوئی سرخ زبان کے انتقام پر موت کے آرگزم میں اچھلتے ہوے کلی ٹو رس کو فوکس کرتے ہیں ؛ جو دہشت اور decay کا مرکز ہ ہے، اور چالیس بومز اس chaos کو جذب کرتے ہیں جو nonentity کی بڑی آنت کے نچلے سرے سے شروع ہوکر مائکروفونز کی فولادی جالیوں پر ختم ہوتا ہے ۔
قصہ یہ ہے کہ ایم ایف رحیم کی پتلون اشہوت کے سنفو رائزڈ دھاگوں سے سلی ہے ۔ اسی لیے تمام VTR رول کر رہے ہیں اور اسی لیے استاد عاشق علی خان کی ارسٹوکریٹ تتلیاں ، اسٹوڈیو ''بی '' کی چھت سے چپکی ہوئی ہانپ رہی ہیں اور اسی لیے اسٹوڈیو ''بی'' کے ربڑ لگے فرش پر ایک کر ومیئم پلیٹیڈ کرین نصب ہے۔
دور کہیں گھنٹی بجتی ہے اور کر ومیئم پلیٹیڈ کرین کسی دہشت ناک آلہ تناسل کی طرح اپنیjib اٹھاتی ہے ۔ کرین کیjib پر ٹرانسلوسنٹ ساڑی پہنے آنکھ مارنے والی تسوفنی کھڑی ہے۔ پھر کہیں گھنٹی بجتی ہے ۔ آنکھ مارنے والی تسوفنی پہلے اپنا پیڑو جھٹکتی ہے، پھر اپنی ٹرانسلوسنٹ ساڑی جھٹکتی ہے اور اپنا ان شیون دہا نہ کھول کر ساری ارسٹوکریٹ تتلیاں ہڑپ کر جاتی ہے ۔
مرحبا! متورم چہرے والا ہو موسییکسچوئل پروڈیوسر، بیالیس ہزار راگ راگنیوں اورسروں ،شرتیوں کواپنی توند سے دھکیلتا ہوا اسٹوڈیو'’اے‘' کے دہرے دروازوں میں لے جاتا ہے اور سناٹے کے اس برزخ میں اپنی فلائی کا ز پر کھول کر ان پر پیشاب کرتا ہے ۔ اس آواز کی نوٹیشن F Miner ہے۔
مصنوعی چمڑے کا جھالر دار پنڈلی بوٹ پہنے ایک چپڑ قناتی لونڈا F .Minor میں سسکاری دینے لگتا ہے:
ایس یو این سن ۔ایس یو این سن ۔ ایس یو این سن ۔
اس کی پتلون بھی شہوت کے سنفو رائزڈ دھاگوں سے سلی ہے ۔ وہ گرماۓ ہوے جھینگر کی طرح اسٹوڈیو'’بی'' کے ربڑ لگے فرش پر ا چھلتا ہے اور کہتا ہے :
ایس یو این سن ۔
ان سب کو سورج میں جگہ بنانی ہے۔ یہ سورج کا برص آباد کرنے والے لوگ ہیں ۔ یہ لافانی ہیں ہر بار جب جوڈریل بنک کی رصد گاہ سورج میں کسی نئے اسپاٹ کی خبر دیتی ہے، میں سمجھ جاتا ہوں کہ استاد عاشق علی خاں مر گیا اور ایم ایف رحیم اور سسکاری دینے والے جھینگر لونڈے نے اپنے لیے سورج میں جگہ بنالی اور آنکھ مارنے والی تسوفنی اور آرسہول ڈکاسٹا اور ہومو سکسچوئل پروڈیوسر اور چالیس ہزار نیم مردہ بیورو کریٹس کو ایک اور مہلت مل گئی۔
مگر نہیں ... مجھے پوری بات کہہ دینی چاہیے۔ مجھے کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرنی ۔ میں تو اس کا قائل ہوں کہ سیز رکاحق سیز رکو ملے ۔
بات یہ ہے کہ انھوں نے ، جو زندہ ہیں اور سورج میں لافانی ہیں ، انھوں نے استاد عاشق علی کو زندہ رہنے کی ایک مہلت دی تھی اور راگ ایمن کلیان میں ایک jingleکمپوز کرنے کو کہا تھا ۔یہ jingle ان کے نئے ایف ایل کی توصیف میں تھا۔ اس میں 27 بار نشیلی رسیلی کٹیلی لکچیلی اور پھسلیلی کے الفاظ آتے تھے اور یہ بتایا گیا تھا کہ نیا ایف ایل electronically tested ہے طاقت سے بھر پور اور دنیا بھر میں مشہور ہے اور اس کے استعمال کے بڑے اجر ہیں ۔اور یہ سب باتیں راگ ایمن کلیان میں کہی جانی تھیں جو خداوند کی حمد کا راگ ہے اور ڈھائی ہزار برس کے انسانی وجدان میں آواز کا معجز ہ ہے ۔
اور یہ ساری باتیں حقے جیسی ترتری کے lubricated نوٹس پر کہی جانی تھیں اور ان باتوں کے لیے بالالتزام کانگو، بونگواور'' آ جاؤ افریقا‘'والے ڈھول فراہم کیے گئے تھے اور ایک الیکٹرک ستاربھی تھا اور اسپینش اور بیس گٹاریں اور چیلو اور مرا کا اور اسکر پیپر تھے اور مرلی دھر کی فلیوٹ تھی اور سارنگیاں اور سرود تھے ۔ اور وائلن اور ونیا اور مرد نگ تھے اور ایک تجویز یہ تھی کہ انٹرلیوڈ میں دم توڑتے ہوےاستاد عاشق علی خان کی آ کار بھی ڈال دی جائے ۔
تاہم یہ محض ایک تجویز تھی اور اس سے اتفاق کر نا نہ کرنا استاد عاشق خاں پر موقوف تھا۔
تو انھوں نے ، جو سورج میں لافانی تھے استاد شق علی خاں کو زندگی کی مہلت دینے آئےتھے ۔ انھوں جب یہ ساری باتیں کہ ڈالیں تو استاد شق علی خاں نے ہاتھ باندھ کران سے چلے جانے کو کہا اور ناشکرگزاری میں خون کی الٹیاں کیں ۔سو وہ جوز زندگی دینے آئے تھے۔ وہ چلے گئے مگر انھوں نے استاد عاشق علی خاں کو معاف نہیں کیا۔ انھوں نے اس کی ڈیوڑھی میں نہ ختم ہونے والے اندھیرے کا غبار چھوڑ دیا اور پان کی پیک بچھا دی اور پیشاب کی بو ٹانک دی اور لکڑی کے چکر دار زینے پر ٹراموں کے گھنٹے لٹکا دیے اور عورتوں کی دلالی کرنے والے لڑکوں کے آوازے سجا دیے اور آڑھتیوں کی ہا ہا کار لکھ دی اور ایک ایک سیڑھی پر چالیس چالیس ٹریفک کانسٹیبل کھڑے کر دیے، جو عقوبت کے ٹریفک جام میں پیتل کی discordant سیٹیوں سے آوازوں کے برسٹ مارتے تھے۔
اور بکرے کی آواز والے ایم ایف رحیم نے یوں کیا: کہ وہ چڑیا گھر سے ہارمونیکا بجانے والا ہاتھی پکڑ لایا، اور ہارمونیکا بجانے والے ہاتھی پر کھڑے ہو کر لوہے کے سریے سے ٹین کے کنستر پیٹنے لگا۔ پھر اس نے استاد عاشق علی خاں کی کھٹر کی کے مقابل ، ہاتھی کے مستک پر کھڑے کھڑےگوز صادر کیا اور کوئلے سے مکان کی دیوار پر ''ہے للا للا “ لکھ دیا۔
تو یہ تھی وہ کہانی جو میں نے خود ہی گھڑ لی ہے ۔
اس لیے کہ میں نے استاد عاشق علی خاں کو مرتے ہوے نہیں دیکھا اور ایم ایف رحیم کو ٹین بجاتے نہیں سنا اور آنکھ مارنے والی تسوفنی کا اسٹرپ ٹیز نہیں دیکھا اور آرسہول ڈکاسٹا کوترتری پراستمنا بالید کرتے نہیں سنا اور متورم چہرے والے ہومو سیکسچوئل کا F-Minor نہیں دیکھا اور جھینگر لونڈے کو جھالر بوٹ پہن کر سورج میں چہل قدمی کرتے نہیں دیکھا۔
میں سماعت اور بصارت کے ایک دہشت ناک تناظر میں بہرہ اور اندھا پیدا ہوا ہوں .
مجموعہ:کھڑکی بھر آسمان
القا پبلیکیشنز لاہور

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں