نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کھجور کے پیٹ میں بادام کا بچہ از اشفاق احمد ورک|Ashfaq Ahmad Virk

 

 کھجور کے پیٹ میں بادام کا بچہ

 

موسم آج پھر جبر آلود تھا۔ ہوا میں ہلکی ہلکی شیرینی نے مگر مچھوں کی ماں کے کلیجے میں آگ لگا دی تھی۔ ہمسائیوں کی بھاگی ہوئی مرغی نے دو مولویوں کے درمیان حلال ہونے کی قسم کھا لی تھی اور نکے موٹے باجرے نے گل احمد کی لان کو ہتک عزت کرنے پر مبارکباد کا نوٹس ارسال کر رکھا تھا۔ اس کھٹی میٹھی فضا میں جی ایف سی فین نے اداس جذبوں کی ایک بلیک اینڈ وائٹ شام کو تین چاند لگا رکھے تھے (چوتھا چاند لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے نہ لگ سکا]

 

میرے وجدان کی تیز آندھیوں نے ملکی خود انحصاری کی گود میں بیٹھ کے مارگلہ کی پہاڑیوں کا چکر پورا کر لیا ہے اور کجھور کے پیٹ میں پرورش پانے والے بادام کے ناجائز بچے نے اپنی چھٹی ساتویں بلکہ آٹھویں ترمیمی حس سے کام لیتے اور زمانے کی خاندانی بہبودی صورتحال کو بھانپتے ہوۓ اپنی ایڈہاک بنیادوں میں بجری سیمنٹ بھرنے کی خاطر ہر طرح کی مانع حمل ادویات پر کڑی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سبز آندھیوں میں اگنے والی نابالغ چڑیاں وقت کی دہلیز پہ دن دیہاڑے بال کھولےجاگ رہی ہیں۔ املتاس کا پیر ویڈیو گیمز کے کاندھے پر سوار ہو کر عرصہ شرارت کے آخری لقمے کا اظہار باطن کے پلیٹ فارم پہ ڈھونڈ رہا ہے۔ یونیورسٹی سے رہا ہونے والے اداکار نے اپنے وعظ میں محلے کی تمام گنڈیریوں کو نقاب اوڑھنے کا مشورہ دیا ہے اور زاغوں کی سرزمین پر عقاب سالخورہ نے اسمبلیوں کی دم پر ایک بار پھر پاؤں رکھ دیا۔

 

ماحول کی سنگینی نے حالات کے کولہوں کا ناپ لئے بغیر دختر درزی کے سینے پرونے کا معاملہ زمانے کے کھردرے ہاتھوں میں دے کر عالمی طاغوتی قوتوں کی پیٹھ ٹھونک کر ڈھانپنے اور کھولنے کا فریضہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ انجام دیا ہے۔

 

چناب کی لہروں کے جہلم کے کنوارے کناروں کے ساتھ برہنہ حالت میں لیٹے رہنے کو تحریک انسداد برہنگی کے تاحیات صدر مولانا شرمداد خاں عرف "نانگا پیر" نے اسلامی انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے مختلف بک سٹالوں پر پردہ دار کتابوں کے شانہ بشانہ حیا سوز ٹسٹ پیپروں اور بدمعاش خلاصوں کی سر عام نمائش کو بھی نہایت فحش اور غیر شرعی قرار دیتے ہوئے حکومت کو دکانداروں

 

کے خلاف یکطرفہ بلکہ دو طرفہ کاروائی کا بھی مشورہ دیا۔

اس مشورے کے بعد اعظم مارکیٹ کے تاجروں میں خوشی کی اک لہر اتنی تیزی سے دوڑی کہ اردو بازار پہنچنے سے پیشتر ہی رنگ محل کے ایک رکشے سے ٹکرا گئی۔ چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ مولانا اسے ہسپتال لے جانے سے پہلے غیر محرم رکشے کے خلاف مقدمہ درج کروانے پر بضد تھے مگر کچھ دور نا اندیش لوگ اسے زبردستی قریب کے میو ہسپتال میں اٹھا لے گئے جہاں اس کی پیشانی پر سات ٹانکے لگاۓ گئے۔ قریبی حلقوں کو اب بھی مریضہ کی صحت یابی سے زیادہ پیشانی اور ٹانکے کے اس قدر کھلم کھلا اختلاط پر مولانا کے ایک عدد 

کرارے فتوی کا انتظار ہے۔

کھجور کے پیٹ میں بادام کا بچہ از اشفاق احمد ورک|Ashfaq Ahmad Virk
 کھجور کے پیٹ میں بادام کا بچہ از اشفاق احمد ورک|Ashfaq Ahmad Virk 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری