نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فطرت از قیصر شہزاد ساقیؔ||Fitrat kahani az Qaisar shahzad saqi

     

رات   از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کے لیے ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

عنوان:فطرت

وہ بادشاہ خوش بخت تھا اسے ایسے عوام میسر آئےجو اپنے حاکم پہ جان چھڑکتے تھےاور اس کا ہر حکم بجا لانے میں تاخیر نہیں کرتے تھے ۔محنت پسند قوم کی وجہ سے ہر طرف خوش حالی تھی  اور ہر کوئی اپنے حال میں خوش تھا۔بادشاہ کا معمول تھا کہ وہ ہر روز شہر کے بیچ و بیچ اپنے قافلے کے ساتھ گزرتا اوراپنی رعایا کا حال جانتایہ وقت سخاوت و عطا کی اضافی نوازشات اپنے ساتھ لاتا رعایا اپنے دکھ درد بیان کرتے جاتے اور بادشاہ کسی فرشتے کی طرح اپنی مسکراہٹ اور اعلا ظرفی سے ان کے زخم مندمل کرتا جاتا۔۔۔۔اس دن بھی ایک سوالی ۔۔۔۔وہ جب سامنے آئی تو بادشاہ ٹھٹھک کر رہ گیا ۔چیتھڑوں میں لپٹا سانولا حسن اس قدر پریشان ومضطرب کہ جہاں سے کوئی رخنہ ملتا جھانکنا شروع کر دیتا ۔اس کے خالی قدموں میں ایسی ترتیب اور لہک تھی کہ بادشاہ کے دل کے ساز بج اٹھے ۔۔۔اس نے اپنی پیشہ ور دکھ بھری  آواز میں صدا لگائی اے بادشاہوں  کے بادشاہ!غریبوں کے دست گیر میرے خالی دامن کو بھی بھر دو؟اور ساتھ ہی دریدہ دامن پھیلا دیا ۔۔۔

بادشاہ اس کے حسن میں محو ہو گیا جیسے آج اس کی اپنے آپ سے ملاقات ہوگئی ہو اور وہ یک بارگی مکمل ہو گیا ہو بالکل جیسے کسی داستان میں کوئی کٹادھڑ اپنا سر پا کے مکمل ہو جائے ۔بادشاہ اس ناری پہ پہلی ہی ملاقات میں ہزار جاں سے تصدق ہوااس کا بس چلتا تو خود ہی اس کے پھیلے دامن میں سما جاتا مگر دستور زمانہ کا پاس آڑے آ گیا ۔۔۔غرض اس بھکارن کو مال و دولت سے نواز کے بادشاہ نے اپنے سفر کو موقوف کیا اور محل کو لوٹ گیا۔اب دل میں چین نہ باہر سکون پورا دن بے قراری میں گزار کے سر شام ہی وزیر  خاص سے  رجوع کیا اور مشورہ طلب کیا۔۔۔وزیر خاص نے  جان کی امان طلب کرتےہوئے مستقبل کے خطرات کی پیشگی اطلاع دی ۔بادشاہ سلامت کو آسمان سے تشبیہ دی اور دنیا کے کیڑوں سے  رشتہ جوڑنے کو خلاف فطرت  بتایا۔پر بادشاہ سلامت تو خود اس کے لیے اس نچلی زمین کا باسی بن بیٹھا تھا اور ہر قیمت پہ اس کو اپنے حرم میں داخل کر لینا چاہتا تھا۔وزیر خاص نے کہا:یہ راہ بھلی نہیں لگتی مگر حکم عالی جاہ سر آنکھوں پر ،اگلی صبح کو راہوں کی خاک چھاننے والی ملکہ بن بیٹھی۔

بادشاہ جو عشق میں پاگل ہو چکا تھا اس کے رنگ ڈھنگ پھر سے واپس آنے لگے ۔۔۔ملکہ کے سامنے انواع و اقسام کے کھانے سونے اور چاندی کی طشتریوں میں سجائے جاتے مگر مجال ہے جو وہ وہاں سے لقمہ لے سکے کھاتی بھی تو ہضم نہ کر سکتی ۔غرض چند دنوں میں سوکھ کے کانٹا ہو گئی اس نے دستر خوان پر آنا بھی چھوڑ دیا ۔اب کچھ دن بعد بادشاہ نے مشاہدہ کیا کہ اس کی نئی نویلی ملکہ پہلے سے بہتر ہو رہی ہے وہ ہر روز کھانے سے پہلے غلام گردشوں میں کھو جاتی ۔۔۔۔۔ایک دن بادشاہ نے پتا نہیں کیا سوچ کر اس کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔بادشاہ نظارہ دیکھ کے حیران رہ گیا ،ملکہ مشعلوں کے لیے بنائے گئے طاقچوں کے پاس جاتی اور ہاتھ پھیلا کے ان میں رکھا گیا کھانا اٹھا لیتی اورپھر وہیں زمین پہ بیٹھ کے کھانا شروع کر دیا۔۔۔۔

پنجابی حکایت سے ماخوز)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...