عنوان:فطرت
وہ بادشاہ خوش بخت تھا اسے ایسے عوام میسر آئےجو اپنے حاکم پہ جان چھڑکتے تھےاور اس کا ہر حکم بجا لانے میں تاخیر نہیں کرتے تھے ۔محنت پسند قوم کی وجہ سے ہر طرف خوش حالی تھی اور ہر کوئی اپنے حال میں خوش تھا۔بادشاہ کا معمول تھا کہ وہ ہر روز شہر کے بیچ و بیچ اپنے قافلے کے ساتھ گزرتا اوراپنی رعایا کا حال جانتایہ وقت سخاوت و عطا کی اضافی نوازشات اپنے ساتھ لاتا رعایا اپنے دکھ درد بیان کرتے جاتے اور بادشاہ کسی فرشتے کی طرح اپنی مسکراہٹ اور اعلا ظرفی سے ان کے زخم مندمل کرتا جاتا۔۔۔۔اس دن بھی ایک سوالی ۔۔۔۔وہ جب سامنے آئی تو بادشاہ ٹھٹھک کر رہ گیا ۔چیتھڑوں میں لپٹا سانولا حسن اس قدر پریشان ومضطرب کہ جہاں سے کوئی رخنہ ملتا جھانکنا شروع کر دیتا ۔اس کے خالی قدموں میں ایسی ترتیب اور لہک تھی کہ بادشاہ کے دل کے ساز بج اٹھے ۔۔۔اس نے اپنی پیشہ ور دکھ بھری آواز میں صدا لگائی اے بادشاہوں کے بادشاہ!غریبوں کے دست گیر میرے خالی دامن کو بھی بھر دو؟اور ساتھ ہی دریدہ دامن پھیلا دیا ۔۔۔
بادشاہ اس کے حسن میں محو ہو گیا جیسے آج اس کی اپنے آپ سے ملاقات ہوگئی ہو اور وہ یک بارگی مکمل ہو گیا ہو بالکل جیسے کسی داستان میں کوئی کٹادھڑ اپنا سر پا کے مکمل ہو جائے ۔بادشاہ اس ناری پہ پہلی ہی ملاقات میں ہزار جاں سے تصدق ہوااس کا بس چلتا تو خود ہی اس کے پھیلے دامن میں سما جاتا مگر دستور زمانہ کا پاس آڑے آ گیا ۔۔۔غرض اس بھکارن کو مال و دولت سے نواز کے بادشاہ نے اپنے سفر کو موقوف کیا اور محل کو لوٹ گیا۔اب دل میں چین نہ باہر سکون پورا دن بے قراری میں گزار کے سر شام ہی وزیر خاص سے رجوع کیا اور مشورہ طلب کیا۔۔۔وزیر خاص نے جان کی امان طلب کرتےہوئے مستقبل کے خطرات کی پیشگی اطلاع دی ۔بادشاہ سلامت کو آسمان سے تشبیہ دی اور دنیا کے کیڑوں سے رشتہ جوڑنے کو خلاف فطرت بتایا۔پر بادشاہ سلامت تو خود اس کے لیے اس نچلی زمین کا باسی بن بیٹھا تھا اور ہر قیمت پہ اس کو اپنے حرم میں داخل کر لینا چاہتا تھا۔وزیر خاص نے کہا:یہ راہ بھلی نہیں لگتی مگر حکم عالی جاہ سر آنکھوں پر ،اگلی صبح کو راہوں کی خاک چھاننے والی ملکہ بن بیٹھی۔
بادشاہ جو عشق میں پاگل ہو چکا تھا اس کے رنگ ڈھنگ پھر سے واپس آنے لگے ۔۔۔ملکہ کے سامنے انواع و اقسام کے کھانے سونے اور چاندی کی طشتریوں میں سجائے جاتے مگر مجال ہے جو وہ وہاں سے لقمہ لے سکے کھاتی بھی تو ہضم نہ کر سکتی ۔غرض چند دنوں میں سوکھ کے کانٹا ہو گئی اس نے دستر خوان پر آنا بھی چھوڑ دیا ۔اب کچھ دن بعد بادشاہ نے مشاہدہ کیا کہ اس کی نئی نویلی ملکہ پہلے سے بہتر ہو رہی ہے وہ ہر روز کھانے سے پہلے غلام گردشوں میں کھو جاتی ۔۔۔۔۔ایک دن بادشاہ نے پتا نہیں کیا سوچ کر اس کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔بادشاہ نظارہ دیکھ کے حیران رہ گیا ،ملکہ مشعلوں کے لیے بنائے گئے طاقچوں کے پاس جاتی اور ہاتھ پھیلا کے ان میں رکھا گیا کھانا اٹھا لیتی اورپھر وہیں زمین پہ بیٹھ کے کھانا شروع کر دیا۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں