نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

لطیفوں کی پٹاری||لطیفے ہی لطیفے||تھوڑا مسکرا لیں|| مزاحیہ لطیفے اردو|ادبی لطیفے اردو| ادبی لطائف|lateefon ki dunya|Urdu Jokes||urdu latify|mazahiya lateefy

 

لطیفوں کی پٹاری||لطیفے ہی لطیفے||تھوڑا مسکرا لیں|| مزاحیہ لطیفے اردو|ادبی لطیفے اردو| ادبی لطائف|lateefon ki dunya|Urdu Jokes||urdu latify|mazahiya lateefy|
لطیفوں کی پٹاری||لطیفے ہی لطیفے||تھوڑا مسکرا لیں|| مزاحیہ لطیفے اردو|ادبی لطیفے اردو| ادبی لطائف|lateefon ki dunya|Urdu Jokes||urdu latify|mazahiya lateefy

 



 پیر جی اور گدھا لطیفہ

 ایک بے روزگار شخص حالات سے تنگ تھا۔ایک درگاہ پر چلا گیا اور درگاہ کی صاف صفائی کرنے لگا،

وہیں لنگر سے کھانا کھا لیتا اور ایک کونے میں سو جاتا تھا،درگاہ کا متولی روز اس کو دیکھتا، اس کی محنت اور لگن دیکھ کر اس نے اسکو مرید بنا لیا،

کچھ عرصہ گزرا تو اس مرید نے ترقی کی اور یوں وہ متولی کا خاص الخاص مرید بن گیا

کچھ عرصہ بعد مرید نے پیر صاحب سے کہا کہ کافی عرصہ ہوا گھر سے نکلا ہوا ہوں، ماں باپ کی خبر نہیں، اگر اجازت ہو تو گھر والوں سے مل آؤں،

پیر صاحب نے نہ صرف اجازت دے دی بلکہ اپنا گدھا سواری کیلئے بھی دے دیا۔

مرید گدھے پر سوار ہو کر روانہ ہوا گرمی کا موسم تھا. گدھا گرمی سے گرا اور مر گیا۔

مرید کو بہت دکھ ہوا۔ ایک پیر صاحب کے گدھے کے مرنے کا، دوسرا بقیہ سفر طے نہ ہونے کا

اس نے گدھے کو ایک گڑھا کھود کر دفن کیا تھکن سے چور ہوا تو وہیں سو گیا۔

آنکھ کھلنے پر کیا دیکھتا ہے، کہ اس گدھے کی قبر کے ساتھ کچھ رقم پڑی ہوئی ہے اس نے سوچا یہ تو آمدن شروع ہو گئی، یہیں پڑا رہتا ہوں،دوسری جانب جب مرید کافی عرصہ واپس نہ آیا، تو پیر صاحب بمع اپنے دیگر مریدوں کے اپنے خاص الخاص مرید کی تلاش میں نکل پڑےسفر کے دوران ایک نئے مزار پر نظر پڑی تو سوچا، سلام کرنا چاہیئے اور کچھ دیر آرام بھی،مزار پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ متولی اسی کا مرید خاص ہے،مرید نے پیر صاحب کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور خوب آؤ بھگت کی۔

رات کو جب دونوں تنہائی میں بیٹھے تو پیر صاحب نے پوچھا.؟

یہ بتاؤ اس مزار میں کون سی ہستی دفن ہیں؟؟

مرید بولا:

حضرت ہستی وستی کوئی نہیں۔ آپ کا گدھا دفن ہے.اس پر پیر صاحب نے ایک قہقہہ لگایا اور بولے..

یہ نسل ہی بڑی برکت والی ہے۔ جہاں میں براجمان ہوں وہاں اس کی ماں دفن ہے.


 

لطیفہ

ایک مرتبہ خلیفہ مامون نے مجلس میں ایک قصیدہ پیش کیا اور معروف شاعر ابونواس سے اس کی راے جاننا چاہی۔ ابونواس کہنے لگا: بلاغت اس کو چھو کر بھی نہیں گزری!

خلیفہ نے حکم دیا کہ اسے ایک مہینے تک گدھوں کے اصطبل میں قید رکھا جائے۔

ابونواس ایک ماہ کی قید کاٹ کر رہا ہوا تو پھر مجلس میں حاضری دی۔ اب کے مامون نے ایک اور قصیدہ سنایا؛ ابھی آدھا قصیدہ ہی ہوا تھا کہ ابونواس اٹھ کر جانے لگا؛ مامون نے پوچھا: کہاں چل دیے؟ کہا: اصطبل--! 😁😅

لطیفہ

آدمی: ڈاکٹر صاحب میری خواہش ہے کہ میں لمبی زندگی جیوں

ڈاکٹر: تم شادی کر لو

آدمی: ڈاکٹر صاحب شادی کے بعد زندگی لمبی ہو جائے گی

 😆😂😂😅😅😁😁

ڈاکٹر: نہیں تمہاری یہ خواہش ختم ہو جائے گی

 

ہمارا تعلیمی نظام۔۔!

 

پوزیشن ہولڈرز ڈاکٹرز اور انجئنئرز بن جاتے ہیں

پیچھے رہ جانے والے کامرس پڑھ کر کاروبار کرتے ہیں اور ان ڈاکٹرز اور انجئنئرز کو ملازم رکھتے ہیں 

ان سے پیچھے رہ جانے والے آرٹس پڑھتے ہیں اور سی ایس ایس کرتے ہیں اور اوپر والے دونوں کو اپنے سامنے کھڑا رکھتے ہیں 

ان سب سے پیچھے رہ کر فیل ہونے والے اسمبلی میں آ جاتے ہیں اور اوپر والے تینوں کو سیدھا کرکے رکھتے ہیں. 🤔 😉🤗😜

 اور اس دوڑ میں جو سب سے پیچھے رہ جاتے ہیں وہ جوتشیوں،نجومیوں،سادھؤوں وغیرہ کا روپ دھار لیتے ہیں اور اوپر والے تمام ان کے محتاج بن جاتے ہیں۔

 

لطیفہ

شوہر بیوی کی کال بند کرتے ہوئے ۔۔ بیگم میں اس وقت سخت مصروف ہوں فارغ ہو کر خود کال کروں گا، ۔۔۔

شوہر نے فون بند کیا، ہی تھا کہ اس کی ہمسائی کی کال آ گئی ۔۔۔

آپ مصروف تو نہیں ہیں ۔۔

آدمی ۔۔ نہیں نہیں ۔۔۔ آپ حکم کیجیے ۔۔

جی وہ آپ کی بیگم آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں ۔۔۔

بیگم ۔۔۔۔۔ شام ذرا جلدی گھر آ جائیے گا اور آتے ہوئے آئیو ڈیکس یا ونٹوجینو ضرور لے آئیے گا،

😑🙄

    تبصرے

    اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

    نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

    کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

    رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

      عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

    Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

       غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...