مزاحیہ شاعری ازراجہ مہدی علی خان|Raja Mehdi Ali khan ki mazahiya shayari|Funny poetry|بہترین مزاحیہ شاعری||لڑکیوں کے رشتوں کے متعلق شاعری
راجہ مہدی علی خان
![]() |
| مزاحیہ شاعری ازراجہ مہدی علی خان|Raja Mehdi Ali khan ki mazahiya shayari|Funny poetry|بہترین مزاحیہ شاعری||لڑکیوں کے رشتوں کے متعلق شاعری |
ممی اس سے نہیں، تو بہ! کروں گی خاک قدر اس کی
مجھے لگتا ہے ڈر اس سے بہت لمبی ہے ناک اس کی
ہوئی شادی تو پہلا کام؟ میں ڈائی ورس مانگوں گی
میں اس کی ناک پہ کیا اوور کوٹ ٹانگوں گی
نہیں بابا،نہیں بابا ،
یہ اچکن پہنے بیٹھے ہیں غلط بولیں گے انگریزی
ہلا کو جیسی آنکھیں ہیں نگاہیں ان کی چنگیزی
میں کوئی ملک ہوں جو مجھ پر حملہ کرنے آئے ہو
میاں جاؤ، میں اک تلوار ہوں کیوں مرنے آئے ہو
نہیں جچتے نہیں جچتے،
وٹامن بی کی کچھ اس میں کمی معلوم ہوتی ہے
مرے اللہ نبض اس کی تھمی معلوم ہوتی ہے
میں بیٹ کرتی ہوں امی ہوگا یہ بیمار برسوں سے
بچارا مطمئن ہوگا کم از کم چار نرسوں سے
نہیں امی، نہیں امی،
بہت خط اس نے بھیجے ایک بھی بھیجا نہ لو لیٹر!
میں پچھلے ویک اس سے کر چکی ہوں ڈراپ یہ میٹر
میاں تم مشرقی اور مغربی ہے خاندان اپنا
میں باز آئی محبت سے اٹھا لو پاندان اپنا
نہیں جمتے ،نہیں جمتے ،
ممی غنڈہ ہے یہ اور نام ہے بی۔ اے شریف اس کا
شراب اور بدمعاشی میں نہیں کوئی حریف اس کا
ادھر یہ ڈال کر ڈورے مجھے اپنا بنالے گا
ہو تم بھی خوبصورت، یہ نظر تم پر بھی ڈالے گا
اری لڑکی ۔ اری لڑکی،
نگاہیں نیچی نیچی نام ہے ایم۔ اے لطیف اس کا
خدایا تو بہ توبہ جسم ہے کتنا نحیف اس کا
مری نظروں کا پہلا تیر بھی یہ سہ نہیں سکتا
یہ مرجائے گا بے چارہ یہ زندہ رہ نہیں سکتا
چلو آ گے ، چلو آگے،
یہ ایل ایل بی ہے پر اللہ بچائے ان وکیلوں سے
یہ ہراک بات منوا لے گا قانونی دلیلوں سے
مجھے ڈائی ورس یہ بائی فورس دے سکتا ہے حیلوں سے
مرا گھر لوٹ لے گا قرقیوں سے اور اپیلوں سے
نہیں دیکھو، پری پھینکو۔
ممی اب بس کرو بس بس غلط ہیں سب یہ تدبیریں
محبت میں نہ کام آئیں ہیں تصویریں نہ تقریریں
جو سچ پوچھو شراب عشق شپ کرتی رہی ہوں میں
وہی اچھا ہے جس سے کورٹ شپ کرتی رہی ہوں میں
بہت اچھا، بہت اچھا،
داغ کے تکیوں پر لکھے ہوئے اشعار
کبھی اٹھے، کبھی بیٹھے، کبھی اٹھ اٹھ کے ڈنٹر پیلے
تماشا دید کے قابل تھا تیرے بے قراروں کا
سمجھ کر ذرا اشاره تمہارا
اٹھا لائے تکیہ پیارا تمہارا
بہت وہ خوش تھا میری گلی میں دلوں کے لٹو گھما گھما کر
یہ جی میں آئی کہ اس پہ پھینکو ہزاروں تکیے اٹھا اٹھا کر
اس میں تھی تیری زلف کی خوشبو بسی ہوئی
ہم سونگھتے رہے ترا تکیہ تمام رات
دینے آئی تھی جو تکیے کے غلاف
دل برسوں اسی دھو بن کے پاس
سرہانے بیڑیاں میں رکھ کے سویا
اٹھا اور بیڑیاں پی پی کے رویا

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں