غزل
ہم بھی نہیں ہوں گے یہ جہاں بھی نہیں ہو گا
کچھ ایسے مٹیں گے کہ نشاں بھی نہیں ہو گا
یہ تذ کرۂ عمر رواں بھی نہیں ہو گا
یہ عاجزئ اہل طلب بھی نہیں ہو گی
یہ طنطنۂ کج کلہاں بھی نہیں ہو گا
جل جائیں گے ہم گرمی رفتار جہاں سے
یہ بات الگ ہے کہ جہاں بھی نہیں ہو گا
وہ دور بھی آۓ گا ، ابھی دیکھتے کیا ہو
کیا ذکر یقیں کا کہ گمان بھی نہیں ہو گا
کتے ہیں کہ دل یار کی محفل میں ہے موجود
اور ہم کو یقین ہے کہ وہاں بھی نہیں ہو گا
ڈاکٹر ضیاءالحسن

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں