اپنے بچوں کے نام
میں ضرور آؤں گا اک عہد حسیں کی صورت
دکھ میں ڈوبے ہوئے دن رات گزر جائیں گے
کوئی تحقیر کی نظروں سے نہ دیکھے گا ہمیں
پیار کے رنگ ہر اک سمت بکھر جائیں گے
پیار اگائے گی نگاہوں کو سکوں بخشے گی
یہ زمین خلد بریں کی صورت
میں ضرور آؤں گا اک عہد حسیں کی صورت
ایسے الفاظ نہ اوراق لغت میں ہوں گے
جن سے انسان کی توہین کا پہلو نکلے
ایسے افکار بھی زندہ نہ رہیں گے جن سے
چند لوگوں کی تسکین کا پہلو نکلے
خوں نہ رؤئے گا کبھی درد کی تنہائی میں
دل کسی خاک نشیں کی صورت
میں ضرور آؤں گا اک عہد حسیں کی صورت
کسی لہجے سے نہ مجروح سماعت ہو گی
جہل کے ناز نہ اٹھانے پڑیں گے ہم کو
یاس انگیز اندھیرا نہ کبھی چھائے گا
آس کے دیپ بجھانے نہ پڑیں گے ہم کو
غم کے ماروں کی ہر اک شام چمک اٹھے گی
صبح فرخندہ جبیں کی صورت
میں ضرور آؤں گا اک عہد حسیں کی صورت
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں