نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

دور جدید کا داستان گو، احمد جاوید! از حمید قیصر /Hameed Qaisar

 

 دور جدید کا داستان گو، احمد جاوید!     

                                                                                                                            

 

Ahmad javed

       احمد جاویدسے میری پہلی ملاقات 1984ء میں راولپنڈی آرٹس کونسل، صدر میں منعقدہ حلقہء ارباب ذوق کے ایک اجلاس میں ہوئی تھی۔ غالبا اس اجلاس کی صدارت بھی وہی کررہے تھے۔ اگرچہ مجھے اپنے آبائی قصبہ کالاباغ سے جڑواں شہر راولپنڈی و اسلام آباد آئے ہوئے کم و بیش دس سال ہوچکے تھے مگر تب تک میری یہاں کے کسی شاعر ادیب سے راہ و رسم نہ ہوسکی تھی۔اجلاس کے دوران احمد جاوید کی نپی تلی گفتگو نے بہت متاثر کیا تھا۔ ایسا کیوں نہ ہوتا کہ وہ اسلام آباد کے ایک ڈگری کالج میں اردو کے استاد تھے۔ان دنوں انکا اردو لکھنا اور پڑھانا دونوں عروج پر تھے۔مجھے احمد جاوید سے اردو پڑھنے کا موقع تو نہیں ملا مگر وہ میرے دوستوں افسانہ نگار سید محمد علی اور شاعرناصر عقیل کے اردو کے پروفیسر رہے تھے۔ ان دونوں نے اپنے استاد کی جس خوبصورت زبان و بیان کی تعریف کی تھی، بعد ازاں اسکی تصدیق ڈاکٹر اعجاز حنیف مرحوم بھی کرتے تھے، جو سالہاسال سے پروفیسراحمد جاوید کے کولیگ رہے تھے۔ یہ غالبا 1995ء کی بات ہے جب احمد جاوید نے ڈاکٹر اعجاز حنیف کی تنظیم”فکری تحریک“ میں علامتوں سے بھرپور کہانی ”بھیڑیئے“تنقید کیلئے پیش کی تھی۔ جس میں انہوں نے بھیڑیوں کی بعض بنیادی خصلتوں کو انسانی خصلتوں سے مماثل قرار دیا تھا۔اور بڑی خوبی کے ساتھ انسان کی فطری خصلتوں کو بھیڑیوں کی وحشی جبلتوں کے ساتھ ساتھ لے کر چلے تھے۔ میرے نزدیک یہ احمد جاوید کا ایک شاہکار افسانہ ہے، جس میں ان کا افسانہ ہمیں بام عروج پر نظر آتا ہے۔ احمد جاوید کو کہانی کہنے کا ڈھنگ آتا تھا۔ انکا مزے لے لے کر کہانی بیان کرنا،پڑھنے، سننے والوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لئے رکھتا تھا۔ اور ان پرایک سحر سا طاری کیئے رکھتا تھا۔میں اگر احمد جاوید کو دور حاضر کا داستان گو کہوں تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ کہانی کہنے کا انکا دھیما انداز بہت دلپذیر تھا۔ اگر وہ رات بھر کہانی سناتے رہیں توانکی کہانی کی دلچسپی، سننے والے کو اپنے ساتھ باندھے رکھے گی۔احمد جاویدایک صاحب اسلوب افسانہ نگار تھے۔انکے افسانے کا منفرد اسلوب پڑھنے والوں کوکسی محبوب کی مانند اپنے ساتھ چپکائے رکھتا ہے۔تاوقتیکہ کہ کہانی خود ہی ختم نہ ہوجائے۔ انکی کہانی کی پرتیں کسی مخملیں تھان کی مانند کھلتی چلی جاتی ہیں۔احمد جاوید کی کہانیاں اور افسانے پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا، جیسے یہ کہانی نہیں لکھتے بلکہ کہانی اپنے آپ کو ان سے لکھواتی تھی۔ انکا کہنا ہے کہ جب تک ان پر کیفیت طاری نہ ہو، وہ نہیں لکھتے تھے۔ذرا ملاحظہ ہو، ایک سوال کے جواب میں احمد جاوید نے کہا تھا؛

 

        ”اس میں شبہ نہیں کہ میرے ہر مجموعے میں ایک ہی مزاج یا موضوع کی کہانیاں ہیں۔اس طرح ہر مجموعہ دوسرے سے مختلف ہے۔ قصہ یہ ہے کہ میری پہلی کہانی تو 1966میں شائع ہوئی مگر اس وقت سے آج تک کے طویل عرصے میں،میں نے بہت کم لکھا۔ اکثر تو یوں بھی ہوا ہے کہ دو مجموعوں کے درمیان پانچ سات سال کا عرصہ گزر گیا اور میں نے کوئی افسانہ نہیں لکھا۔ میرے لکھنے کا سلسلہ یہ رہا ہے کہ جب کوئی رو آتی ہے، تو پھر اگلے دو تین برس ایک ہی مزاج یا موضوع پر کہانیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ جنہیں ایک مجموعے میں اکٹھا کر دیتا ہوں۔میرا پہلا مجموعہ”غیرعلامتی کہانی“ 1983 میں شائع ہوا۔ اس کتاب میں 1977 کے بعد کے افسانے ہیں۔ یہ زمانہ ہمارے ہاں بدترین آمریت کا دور تھا۔ اسی لئے اس کتاب پر حبس، گھٹن، خوف، مایوسی اورانکے متعلقات کے اثرات صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہی صورت حال اپنے الگ پس منظر کے ساتھ، ہر مجموعے کی ہے۔ میں نے ہر ایک مجموعے کے دیباچے میں اس فرق کی وضاحت کر رکھی ہے۔ یقینا آپ اسے نیا اور قدرے اجنبی تجربہ کہہ سکتے ہیں مگر میرے ہاں بس ایسا ہی ہے۔“                                   

        ضیاء الحق کے مارشل لاء کے زمانے 1981ء میں اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام،پہلی اہل قلم کانفرنس میں،صدر ضیاء الحق نے اپنی تقریر میں جناب اختر حسین جعفری،جناب احمدفرازاور جناب افتخارعارف کی نظموں کے الگ الگ مصرعوں کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا تھا۔جبکہ نثر میں احمد جاوید کی ایک علامتی کہانی”آثار“ کے بعض جملوں کو نقل کرکے صدر ضیاء الحق نے اہل قلم کے خیالات و نظریات پر اپنی گفتگو کی تمہید باندھی تھی۔ اپنی اس تاریخی تقریر میں صدرضیاء نے اہل قلم کو اپنے خیالات ونظریات پر نظر ثانی کا بھی مشورہ دیا تھا مگر سلام ہے ان حق سچ لکھنے والے اہل قلم کو جنہوں نے اس مارشل لائی دور میں بھی اپنی خو نہ چھوڑی اور لکھتے رہے۔ ریاستی اور معاشرتی جبر کے باوجود مسلسل لکھتے رہے۔  احمد جاوید نے بھی مارشل لاء کے دوران حبس زدہ ماحول میں بڑی چابکدستی سے علامتوں کے ذریعے اپنی حق بات دوسروں تک پہنچائی۔ میرے نزدیک ایک ادیب و دانشور کا یہی کردار اور مرتبہ و مقام ہے کہ وہ کڑوے سے کڑواسچ ہر دور میں بڑی آسانی و روانی سے کہہ سکتے تھے۔

        احمد جاوید باکمال افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ موسیقی سے بھی گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔ انہیں خاص طور پر روائتی سازوں سے گہرا شغف تھا۔ ایک آدھ آلہء موسیقی بجانے پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ انکی زندگی کے اس انتہائی لطیف گوشے سے مجھے زیادہ واقفیت نہیں۔احمد جاوید کے افسانوں اور کہانیوں میں پائی جانے والی کفایت لفظی سے مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ان کے اندر کوئی شاعر چھپا بیٹھا تھا۔ جو بے پرواہ افسانہ نگار کے لکھے افسانوں اور کہانیوں سے، فالتو لفظ کسی کبوتر کی طرح چگ لیتا تھا۔ میں ایک عرصے سے،ا نکی کہانیوں کے اسی تحیر میں تھا کہ مجھ پر انکے نظمیں لکھنے کا انکشاف ہوا۔ مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ احمد جاوید جیسے خوش خیال و خوش گمان لکھنے والے کو زندگی سے بھرپور نظمیں بھی ضرورلکھنی چاہئیں تھیں۔ آج کے دور پرآشوب میں زندگی نے انسان کے ساتھ عجب کھیل کھیلا ہے۔گھر میں فارغ بیٹھے انسان کے پاس بھی وقت نہیں ہے۔ دوسروں کیلئے تو کیا، خود اپنے لئے بھی نہیں ہے۔دور جدید نے انسان کو انسان سے دور اوربرقی آلات سے نزدیک تر کردیا ہے۔حتی کہ خود انسان بھی ایک مشین بنکر رہ گیا ہے۔سب اپنے اپنے محبس اور اپنے اپنے دائروں میں بند ہوکر رہ گئے ہیں۔ان حالات میں لکھنے والوں اور سوچنے سمجھنے والوں نے بھی ایک دوسرے سے ملنا ملانا ترک کردیا ہے۔ایسے میں،یار لوگوں نے ادھر ادھر کا نظارہ کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر اپنی کھڑکیاں کھول لی ہیں۔فیس بک پر ہر آنے جانے والے کے ساتھ ہیلو ہائے۔۔ تانک جھانک اور چھیڑ چھاڑکرتے نظر آتے ہیں۔انہی اجنبی دوستوں کے ہجوم میں کبھی کبھی احمدجاوید بھی دانش بھرا کوئی سوال لئے سامنے آجاتے، تواس پر اظہار خیال کرکے بہت اچھا لگتا تھا کہ انسانی رابطے کا یہ ذریعہ بھی بہت غنیمت تھا!

     احمد جاویدجب آخری مرتبہ اپنے بیٹے دانش  جاوید  کے پاس آسٹریلیا گئے تو بہت خوش نظر آئے۔ بہت مزے مزے کی جگہوں پر انہوں نے اپنی تصاویر شیئر کی تھیں۔دراصل افسانہ نگار کسی قدر آوارہ منش ہوتا ہے۔ اپنے ماحول کی تبدیلی اس پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس سے اسکی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے اپنا ناول”جینی“ انہی دنوں میں مکمل کیا تھا۔ جو 2017 ء میں انکی واپسی پر شائع ہوا۔یہی وجہ ہے کہ احمد جاوید کا وہ دورہ قدرے طویل ہو گیا تھا۔

     احمد جاوید ایک خاموش طبع مگر من موجی تخلیق کار تھے۔ سگریٹ نوشی ان کا محبوب مشغلہ تھا۔وہ چین سموکر تھے۔ جب دیکھو سگریٹ پی رہے ہیں۔ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتے ہوئے نظر آتے تھے۔وہ اپنے آپ میں گم ایک بے پرواہ لکھاری تھے۔ ان کا خمیر کیمبل پور کی مردم خیز مٹی سے اٹھا تھا۔ انسان دوستی اور ترقی پسندی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔یہ ان کا استغنی تھا کہ اس قدر تخلیقی کام کرنے کے باوجود شاعروں اور ادیبوں سرکاری ادارہ، اکادمی ادبیات پاکستان اپنے لئے کبھی نہیں جاتے تھے۔مجھے اپنے ذرائع سے معلوم ہوا کہ احمد جاوید کی زندگی کے آخری ایام کے آس پاس اکادمی کے تحت ایوارڈ کی فہرست میں احمدجاوید کا نام تھا۔ جسے حتمی ہونے سے پہلے کسی بدبخت نے کسی خفیہ اشارے پر ان کا نام نکال کر کسی چہیتے کا نام ڈال دیا گیا۔ مجھے اس کا ساری زندگی دکھ رہے گا۔ میں سمجھتا ہوں اگر احمد جاوید کو ایوارڈ دے دیا جاتا تو ممکن ہے وہ چند روز اور خوشی سے جی لیتے۔ ایک ادیب کیلئے حقیقی ستائش سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے؟ وفات سے ایک روز قبل ہمارے ایک ممتاز ادیب اور شاعر ڈاکٹر انور زاہدی نے فون کیا اور کہا کہ”یار احمد جاوید بیمار ہیں ذرا معلوم تو کرو اب انکی طبیعت کیسی ہے، اگر ممکن ہو تو ہم انہیں ملنے جائیں؟“ میں نے احمد جاوید کو فون کیا تو کہنے لگے”یار سمجھ نہیں آرہی طبیعت عجیب سی ہورہی ہے۔ہسپتال میں ٹیسٹ جاری ہیں، دیکھیں کیا نکلتا ہے؟“ نکلنا کیا تھا؟ اگلے روزان کی رحلت کی اطلاع آگئی۔ وہ میرے پسندیدہ افسانہ نگار تھے۔ میں انہیں کبھی نہیں بھلا پاؤں گا۔ دعاگو ہوں اللہ احمد جاوید کے درجات بلند فرمائے، آمین!

___________________                           

                                                         

 

Hameed Qaisar

                                                                                   حمید قیصر، اسلام آباد

سماجی کارکن ،انتہائی سلجھے ہوئے صحافی اور خوب صورت شخصیت کے مالک جناب حمید قیصر سے 

یہاں ملیے



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری