![]() |
| ibrahim ali zeeshan poetry|Urdu best Ghazal|اردو شاعری غزل|ابراہیم علی ذیشان کی شاعری |
غزل
دل کسی کا نہ ہوا ایک خریدار کے بعد لوگ بازار لگا لیتے ہیں بازار کے بعد قتل کرکے بھی ہمیں دل نہیں بھرتا ان کا لات بھی مارتے ہیں جسم پہ تلوار کے بعد
خود کو بد بخت کہوں یا میں کہوں خوش قسمت میری بینائی گئی ہے تیرے دیدار کے بعد
دکھ تو یہ ہے کہ میں اس سے بھی بہت پیچھے ہوں جس نے رفتار بڑھائی میری رفتار کے بعد
غزل
میں مر گیا تھا جنھیں موت سے بچاتے ہوئے وہ ہنس رہے ہیں میرا مرثیہ سناتے ہوئے
مرے ہیں جب سے میرے لوگ آگ میں جل کر میں کانپتا ہوں چراغوں کے پاس جاتے ہوئے
کبھی کبھی میرے دل کی اداس راہوں سے تمھاری یاد گزرتی ہے مسکراتے ہوئے
یہاں کے لوگ اندھیرا پسند کرتے ہیں نہ جانے کیسا لگوں گا دیا جلاتے ہوئے
غزل
تو مجھے یاد کرے ایسا طریقہ نکلے میری یک طرفہ محبت کا نتیجہ نکلے
تیری آنکھوں میں دکھائی دے محبت میری بے نمازن تیرے بستے سے مصلیٰ نکلے
اتنی خاموشی سے نکلے ہیں تیرے شور سے ہم جیسے بازار کے مجمعے سے جنازہ نکلے
تیری راہوں میں بھٹکتے ہوئے موت آ جائے اورایسے میں مری جیب سے نقشہ نکلے
ایسے نکلی تھی مرے سامنے اس منہ پہ حیا جیسے رقاصہ کی الماری سے برقعہ نکلے
ورنہ ہم کب کے چٹانوں میں پھنسے مر جاتے پاؤں کاٹے تو تیرے دشت سے زندہ نکلے
آج آ ؤں گا تیرے پاس محبت لے کر مدتیں ہو گئیں عزت کا جنازہ نکلے
غزل
ہم کیوں زمیں کا بوجھ اٹھائیں اڑان میں مٹی کا کوئی کام نہیں آسمان میں
جاناں برا نہ ماننا میں نے تمھارا نام کچھ اور لکھ دیا ہے میری داستان میں
تھوڑا سا چارا دیکھ کے بستی کی بکریاں غزلیں سنا رہی ہیں قصائی کی شان میں ابراہیم علی ذیشان:مزید پڑھیں |

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں