جاوید نہال حشمی
ایک دل جلے کی دعا
گھر پہ آتی تھی جو بن ٹھن کے تمنا میری
جیسے جاں حسن کی مورت ہو خدایا میری
وہ نہیں ہو تو گھٹاٹوپ اندھیرا ہوجاۓ
ہر جگہ اس کے پہنچنے سے اجالا ہوجاۓ
جو بھی مانگا تھا دیا ، دیکھی نہیں تھی قیمت
اڑ گیا لے کے کوئی دے کے بڑی سی قیمت
زندگی ہوگئی مر جانے کی صورت یارب
عشق کے نام سے اب مجھ کو ہے نفرت یارب
ہو مرا کام جوانوں کو نصیحت کرنا
عشق و الفت کی ہمہ وقت فضیحت کرنا
میرے اللہ ! محبت سے بچانا سب کو
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں