خواب آزادی مزاحیہ کلام از شوکت تھانوی|پاکستانی معاشرے کی مزاحیہ عکاسی||مزاحیہ شاعری|shoukat thanvi mazahiya kalam on pakistan freedom ||azadi ka matlab pakistanio k liay fuuny poetry
خواب آزادی
شوکت تھانوی
اپنی آزادی کا دیکھا خواب میں نے رات کو
یاد کرتا ہوں میں اپنے خواب کی ہر بات کو
میں نے دیکھا کہ میں ہر قید سے آزاد ہوں
یہ ہوا محسوس جیسے خود میں زندہ باد ہوں!
اب مجھے قانون کا ڈر کیا، میرا قانون ہے
خود ہی کوزه ، خود ہی کوزہ گر، وہی مضمون ہے
جتنی تھیں پابندیاں ، وہ خود میری پابند ہیں!
جو مائی باپ تھے حاکم وہ سب فرزند ہیں
ملک اپنا قوم اپنی اور سب اپنے غلام
آج کرنا ہے مجھے آزادیوں کا احترام
جس جگہ لکھا ہے مت تھوکو میں تھوکوں گا ضرور
اب سزاوار سزا ہو گا نہ کوئی بھی قصور
اک ٹریفک کے پولیس والے کی کب ہے یہ مجال
وہ مجھے روکے میں رک جاؤں یہ ہے خواب و خیال
میری سڑکیں ہیں تو میں جس طرح سے چاہوں چلوں
جس جگہ چاہے رکوں اور جس جگہ چا ہے مڑوں
سائیکل کی رات میں بتی جلاؤں کس کے لیے
ناز اس قانون کے آخر اٹھاؤں کس کے لیے
ریل اپنی ہے تو آخر کیوں ٹکٹ لیتا پھروں
کوئی تو سمجھائے مجھ کو یہ تکلیف کیوں کروں !
کیوں نہ رشوت لوں کہ جب حاکم ہوں میں سرکار ہوں
تھانوی ہر گز نہیں ہوں اب میں تھانیدار ہوں!
چور بازاری کروں یا شاہ بازاری کروں!
مجھ کوحق ہے جس طرح چاہوں میں اپنا گھر بھروں
گھی میں چربی کے ملانے کی ہے آزادی مجھے
اب ڈرا سکتی نہیں گا ہک کی بربادی مجھے!
میں ستمگر ہوں ، ستم پیشہ، ستم ایجاد ہوں!
مجھ کو یہ حق پہنچتے ہیں کہ میں آزاد ہوں
یک به بیک جب نیند سے چونکا تو دیکھا یہ حقیر
اپنی آزادی ہی کی پابندیوں کا ہے اسیر
مزید پڑھیں
![]() |
| خواب آزادی مزاحیہ کلام از شوکت تھانوی|پاکستانی معاشرے کی مزاحیہ عکاسی||مزاحیہ شاعری|shoukat thanvi mazahiya kalam on pakistan freedom ||azadi ka matlab pakistanio k liay fuuny poetry |

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں