ہاتھ کی روانی
یہ ہے آج ہی رات کی داستاں
کہ تھے میہماں میرے اک مہرباں
دکھاؤں میں حضرت کے کھانے کا ڈھنگ
لکھوں ان کے لقمے اڑانے کا رنگ
پلیٹوں میں ہلچل مچاتا ہوا
وہ چمچے سے چمچالڑاتا ہوا
پلاو میں سالن ملاتا ہوا
وہ جل تھل کا عالم رچاتا ہوا
وہ بوٹی پہ چڑھ کر لپٹتا ہوا
وہ روٹی سے بڑھ کر چمٹتا ہوا
فقط شوربےسے کھسکتا ہوا
مربے سے جا کر پچکتا ہوا
گیا دال پر دندناتا ہوا
وہ مرچوں سے دامن بچاتا ہوا
وہ چمچے سے چلو بناتا ہوا
وہ آلو کو الو بناتا ہوا
سویوں پہ سو جاں سے مرتا ہوا
ادھر لاڈ لڈو سے کرتا ہوا
پسند اک پسندے کو کرتا ہوا
تو چٹنی پہ چٹخارے بھرتا ہوا
سموسے میں خود کو سموتا ہوا
ادھر کھوئے کے ہوش کھوتا ہوا
جلیبی پہ یاں پیچ کھاتا ہوا
کٹورے کہیں کھنکھناتا ہوا
یہ برفی کا دل برف کرتا ہوا
یہ زردے کا منہ زرد کرتا ہوا
پلاو پہ پل پل کے آتا ہوا
وہ پھرنی پہ پھر پھر کے گاتا ہوا
نوالے سے کشتی بناتا ہوا
وہ حلوے کے گولے اڑاتا ہوا
وہ جبڑوں سے بوٹی مسلتا ہوا
اسے بن چبائے نگلتا ہوا
لبوں پہ زباں کو پھراتا ہوا
لپٹتے ہوئے پھیل جاتا ہوا
بگڑ کر وہ کف منہ پہ لاتا ہوا
وہ غازی ہے یوں کھانا کھاتا ہوا
غرض اس طرح ہیں مرے مہرباں
بس اب دیکھ لیں شاعر نکتہ داں

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں