عرض مولف
سردار محمد چودھری
لاس اینجلس امریکہ میں پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے وسط اپریل ۱۹۹۵ء میں وزیر اعظم پاکستان نے فرمایا:''ہم یہاں بھیک مانگنے نہیں آئے''۔۔۔
مگر حقیقت اس کے خلاف تھی ۔سال بھر پہلے سے اس امریکہ یاترا کا چرچا زوروں پر تھا ۔تمام سرکاری ذرائع ابلاغ چیخ چیخ کر کہ رہے تھےکہ وزیر اعظم کی پرکشش اور من موہنی شخصیت امریکہ اورکلنٹن کو مکمل طور پر فتح کر لے گی ۔تمام معاشی اور فوجی امداد بحال ہو جائے گی اور پاکستان نہال ہو جائے گا ۔ثقافتی طائفے الگ بھیجے جا چکے تھےاور کروڑوں ڈالر اس ممکنہ بھیک کی آرزو میں خرچ ہو چکے تھے۔پوری قوم کشکول بھرے جانے کی نوید سننے کے لیے ہمہ تن گوش تھی اور خبر لگتی ہے۔
''ہم یہاں بھیک مانگنے نہیں آئے''میرے شعور کا ایک کونا پکار اٹھا انگور کھٹے ہیں ۔فقیروں کی امیدیں بر نہیں آ رہیں ۔۔۔۔۔اور پھر میرا تحت الشعور پکار اٹھا بلکہ بے قابو ہو کر چیخ اٹھا:''کیا یہ دن دیکھنے کے لیے ہم لوگوں نے پاکستان بنایا تھا؟''۔
''کیا پاکستان سیاسی محتاجی اور معاشی ابتری کے لیے تخلیق ہوا تھا؟''
''نہیں نہیں قطعا نہیں ''میری پوری روح و جان نے یک جان ہو کر کہا۔اس کی اساس اور تھی۔اس کی سج دھج اور تھی ۔یہ تو ایک مرقع حسن و جمال اور مسلمانانِ ہند کی راہ نجات و فلاح تھی۔
اقبال نے تو شروع صدی ہی سے مسلمانوں کی معاشی اورسیاسی نجات کی اسے راہ بتایا تھا۔پھر اس نے دین اسلام کی روح میں ڈوب کر ہمیں خودی ،خود داری اور خود شناسی کا سبق پڑھایا تھا ۔اقبال نے گہرے تاریخی شعور سے کام لے کر ہمیں بھٹکے راستے سے سیدھی راہ پر ڈالا تھا کہ یہی ہماری عظیم میراث ہے جسے ہمارے اسلاف نے بڑی قربانی اور قوت ایمانی سے حاصل کیا تھا۔کہ آپ حضورکے عظیم انقلابی پیغام کی روشنی میں محمد بن قاسم مظلوموں اور بے کسوں کی مدد کے لیے آیا تھا۔محمود غزنی سے آیا تھا،افغان اور مغل وہ روشن تہذیب جو مدینہ،دمشق اور بغداد سے وسط ایشیا کی علمی و روحانی کٹھالیوں میں نکھری تھی اپنے جلو میں لے کر آئے تھے۔یونانی اور چینی فلسفہ کو اسلامی کیمیا سے جلا بخش کر لائے تھے اور ان سب سے آگے آگے وہ صاحبان کشف و کمال نور ہدایت کی شمع لے کر آئے تھے جنھیں ہم حضرت داتا گنج بخش،حضرت معین الدین چشتی ،حضرت بہاؤالدین ذکریا ،باباگنج شکر ،حضرت بختیار کاکی ،حضرت نظام الدین اولیا،حضرت مجدد الف ثانی اور دیگر عالی قدر القابات سے آج تک یاد کرتے ہیں ۔یہ اور بات کہ بعد میں آنے والے جانشینوں نے اپنی کمال نالائقی اور بد عملی سے ان عظیم شخصیات کی کاوشوں پر پانی پھیر دیا اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ ایک دور دراز سات سمندر پار تہذیب نے اسی عظیم تہذیب کے انحطاطی دور میں اسے آ دبوچا ۔سراج الدولہ نے بہت کوشش کی ۔سلطان ٹیپو بھی شیر کی طرح گرجا مگر جو جسم اندر سے کھوکھلا ہو جائے اسے گرنے سے کون بچا سکتا ہے۔
انگریز آ گیا ۔ہندو اس سے مل گیا اور مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ایک عظیم قوم ڈھیر ہو گئی۔ایک عظیم تہذیب تباہ ہو گئی۔اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ :''وہ لوگوں کے دن بدلتے رہتے ہیں ''۔اللہ کے فضل و کرم سے ہمیں سید احمد خان ،علامہ اقبال اور حضرت قائد اعظم ایسے جلیل القدر راہنما مل گئے اور انھوں نے عیار دشمن کی تمام چالیں ہی الٹ دیں ۔ہزار چالاکی اور منافقت کے باوجود وہ شکست کھا گئے اور ان زعماء کی محنت سے ہم ایک پسی اور بکھری ہوئی بھیڑ سے ایک دفعہ پھر ایک توانا اور خود دار قوم بن گئے ۔۱۹۴۰ء میں راہ و منزل متعین ہوئی اور ۱۴۔اگست ۱۹۴۷ء کو ہم ایک مقتدر اور باوقار مملکت بن کر روئے زمین پر ابھرے۔اغیار زیر تھے۔ہم ایک آزاد و غیور قوم تھے۔پاکستان ہماری پہچان تھی۔یہی ہماری شان تھی ۔منزل ملنے پر ہم مسافت کی تمام کدورتیں اور تکلیفیں بھول گئے تھے ۔پاکستان ہمارے بزرگوں کی مساعی کا اعلا انعام تھا ۔کسی دنیاوی طاقت کا احسان نہ تھا ۔مگر کچھ دیر کے بعد ہمارے کچھ لوگ بھول گئے۔وہ اپنا اپنا فرض ادا کر کے اپنی متاع عزیز کو مضبوط کرنے کی بجائے اس کے ٹکڑے نوچنے لگ گئے ۔انھوں نے یہ نہ سوچا کہ جسے وہ منزل سمجھ بیٹحے ہیں وہ تو ایک موقع تھا۔منزل تو ہماری متحرک تھی ۔ہمیں تو ابھی اور بہت سی منزلیں طے کرنا تھیں ۔
کیا ہماری منزل صرف زمین تھی ؟نہیں ،بالکل نہیں ۔یہ تو اس کا صرف پلیٹ فارم تھا ۔گاڑی تو ابھی چلنا تھی۔جسم تھا جس کے اندر روح کو متحرک ہونا تھا۔روح کے بغیر جسم کیا کہلاتا ہے ؟
وہ چیز جسے گدھیں نوچتی ہیں ۔آہ میرے مولا !مگر میرے وطن کے ساتھ یہی کچھ ہوا ۔قائد اعظم اللہ کو پیارے ہو گئے اور قائد ملت شہید۔دشمن قوتوں نے شہ ملتے ہی سر اٹھا لیا۔خواجہ ناظم الدین کی سیاسی بصیرت بغداد پیکٹ میں شامل ہونے کی انھیں اجازت نہیں دیتی تھی ۔آئزن ہاور دوسری جنگ عظیم کے سپریم کمانڈر اس وقت امریکہ کے صدر تھے۔ان کی فوجی نگاہ روس اور چین کے خلاف گھیرا تنگ کرنے پر انہیں اکسا رہی تھی ۔فوجی ذہن کو فوجی سمجھتا ہےاس نے تمام دنیا کی فوجی کمانڈ کو اپنا ہم خیال بنانا شروع کر دیا ۔پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان بھی اسی ساحر سامری کے اسیر ہو گئے ۔پھر انھوں نے اور ملک غلام محمد نے مل کر خواجہ صاحب کو چلتا کیا ۔امریکہ میں متعین ہمارے سفیر محمد علی بوگرہ کو وزیر اعظم پاکستان بنا ڈالا۔وردی میں ملبوس کمانڈر انچیف وزیر دفاع بن گیا۔پاکستان کو امریکی امداد ملی ۔فوجی امداد ملی ۔کوتاہ اندیشوں نے شادیانے بجائےاور کہا پاکستان بچ گیا۔
اور پھر امداد ادھار بنتی گئی ۔پاکستان مقروض و محتاج ہوتا گیا ۔ہر دور نے اس میں اضافہ کیا۔سنہری زنجیریں غلامی کی سخت بیڑیاں بنتی گئیں اور ایک اسرافی و بد اخلاق معیشت و معاشرت نے پاکستان کو آ جکڑا ۔
ذلت و رسوائی ہماری منزل ہو گئی ۔چند گدھیں کھاتیں اور خوش ہوتیں اور ٹھکرائے جانے پر چیخ بھی دیتیں ۔''ہم یہاں بھیک مانگنے نہیں آئے''
۱۹۵۴ء کے بعد یہ مادر وطن ۔۔۔۔ہمارے اسلاف کی امانت ،تحریک پاکستان اور اس سے پہلے ابھرنے والی تمام انقلابی تحریکوں کی آخری امانت خائنوں کے ہتھے چڑھ گئی ۔انقلاب ضد انقلاب قوتوں کے ہاتھوں یرغمال بن گیا تھا۔اسی لیے تو ان قوتوں کی نمائندہ بھیک مانگ رہی تھی ہمارا المیہ یہ رہا ہے کہ ہم نے یہ دیکھا ہی نہ کہ وہ تمام قوتیں جنھوں نے تحریک و تخلیق پاکستان کی ایڑی چوٹی سے مخالفت کی تھی ہم ان کے ہی ہتھے چڑھ گئے۔
اور جب تھوڑی دیر کے لیے جاتے تو اپنے ہی تراشیدہ جعلی جمہوریت کے بتوں کو حکمران بنا دیتے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں