نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مزاحیہ لطیفے اردو|ادبی لطیفے اردو| ادبی لطائف|lateefon ki dunya|Urdu Jokes||urdu latify|mazahiya lateefy|لطیفے ہی لطیفے

    

دوسری شادی ہوئی آسان

 

میری دوسری شادی ہوجائے گی، سوچا بھی نہ تھا۔ دوستوں کو اطلاع بھی نہ کر سکا۔ بس آناً فاناً نکاح ہوا اور رخصتی بھی ہو گئی۔

حیرت یہ ہے کہ بیگم نے خوشدلی سے اپنی سوتن کو بہن بنا لیا۔ بچے تو ماں کہہ کر لپٹ گئے۔ والدہ بھی شاد ہیں۔ میری نئی بیوی بے انتہا خوش اخلاق ثابت ہوئیں اور انہوں نےبھی سارے گھر کے افراد کو اپنا سمجھا۔

 

ہماری پہلی ملاقات پہلی بیگم کے ساتھ ہی ایک شاپنگ سینٹر کے کیفے ٹیریا میں ہوئی تھی۔ وہیں ہماری پہلی بیگم نے ان کو ہمارے لیے پسند کیا۔ کب بات شادی تک پہنچ گئی پتہ بھی نہ لگا۔

 

پہلی بیگم نے انتہائی ضد کر کے ہمیں ہنی مون پر بھیجنے کی تیاری کررکھی ہے اور مصر ہیں کہ آپ دونوں ہنی مون پر جائیں جیسے آپ مجھے لے کر گئے تھے۔ کہتی ہیں کہ اگر پیسے کم پڑے تو وہ دینے کو تیار ہیں کیونکہ ان کی پچھلے دنوں ہی تین لاکھ کی کمیٹی نکلی ہے۔

میں کافی دیر سے یہ سوچ رہا ہوں کہ آخر وہ کون سے گھر ہوتے ہیں جہاں دوسری شادی کی وجہ سے جھگڑے ہوتےہیں اور ایک جنگ کا سا ماحول ہوتا ہے۔ اپنے گھر کو دیکھتا ہوں تو جنت لگتا ہے۔

 

بیگم نے رات گیارہ بجے زبردستی ہم دونوں کو کمرے میں دھکیل کر دروازہ بند کر دیا۔ ساتھ ہی بچوں کو شور شرابے سے سختی سے منع کر دیا۔ آج صبح ناشتہ حجلہ عروسی میں پیش کیا اور اپنی ساتھی (سوتن لکھنے میں مجھےکوفت ہو رہی ہے) کو اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا کر کھلائے۔ ساتھ ہی ساتھ چھیڑنے کے انداز میں کن انکھیوں سے ہم دونوں کو دیکھتی رہیں۔ ایسی بیویاں قسمت والوں کو ملتی ہیں۔

 

کل رات ہم ہنی مون پر ترکی نکل جائیں گے۔ بیگم نے یقین دہانی کروائی ہے کہ میری غیر موجودگی میں وہ بچوں کی فیس، بجلی کابل، گھر کا راشن اور باقی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی۔

 

میرا مشورہ ہے کہ آپ سب بھی اپنے گھر میں یہ ماحول بنائیں۔ محبت سے رشتوں کو قائم رکھیں اور اپنی بیوی کو اعتماد میں لیں۔ دیکھیے کہ دوسری بیوی ایک دن بعد ہی کہہ رہی ہے کہ تیسری میں آپ کے لیے خود تلاش کروں گی۔

‏ناول ” بلی کے خواب میں چھچڑے “ سے اقتباس

 

عوامی مقامات پر موبائل کا استعمال

 

آفس سے تھکی ہاری خاتون چھٹّی کے بعد گھر جانے کے لئیے

🙉🙉🙈😂

بس میں سوار ہوئی، 

سیٹ پر بیٹھ کر آنکھیں موند کر تھوڑا سا ریلیکس کرنے

کی کوشش کرنے لگی۔۔

 

ابھی بس چلی ھی تھی کہ اگلی قطار میں بیٹھے ایک

صاحب نے اپنا موبائل نکالا اور اونچی آواز میں گفتگو

شروع کر دی۔

 

اُن کی گفتگو کچھ اس طرح سے تھی: ’’جان میں غفور بول

رہا ہوں، بس میں بیٹھ گیا ہوں اور گھر ھی آ رھا ھوں،

ہاں ہاں مجھے پتہ ہے کہ سات بج رھے ہیں پانچ نہیں، بس

زرا آفس میں کام زیادہ تھا اس لئے دیر ہو گئی‘‘۔

’’نہیں جان، میں شبنم کے ساتھ نہیں تھا، میں تو باس کے

ساتھ میٹنگ میں تھا‘‘۔

’’نہیں جان، صرف تم ہی میری زندگی میں ہو‘‘۔ 

’’ہاں قسم سے۔۔۔

 

اس اونچی آواز میں مسلسل گفتگو سے خاتون کا سارا

ریلیکس کرنے کا پروگرام غارت ھو چکا تھا اور وہ بہت ان

ایزی محسوس کر رھی تھی ۔کافی دیر بعد تک بھی جب یہ

سلسلہ جاری رھا تو خاتون کی ھمّت جواب دے گئی ، وہ

اٹھّی اور فون کے پاس جا کر زور سے بولی۔

 

’’غفور ڈارلنگ، فون بند کرو، بہت ہو چکا۔ اس پاگل عورت

کو کتنی صفائیاں دو گے؟ ‘‘

 

اب غفور صاحب ہسپتال سے واپس آ چکے ہیں لیکن پبلک

مقامات پر انہوں نے موبائل کا استعمال مکمل طور پر بند

کر دیا ہے۔🙉😂

 

کوئی ٹیم فارغ نہیں ہے 

 

بستر پر جاتے وقت 81 سالہ بڑی بی نے 83 سالہ میاں سے کہا:

"سنو.. ابھی میری نظر کھڑکی سے باہر گئی تو مجھے لگا کہ گیریج کی بتی جل رہی ہے۔ کیا تم اٹھ کے اسے بند کر آؤگے؟"

بڑے میاں بڑی مشکل سے بستر سے نکلے، دروازہ کھول کر باہر نکلے تو دیکھا کہ پانچ چھ نقب زن گیریج کے دروازے سے چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں۔ بڑے میاں نے وہیں سے پولیس اسٹیشن فون کیا۔

"دیکھو۔۔۔میرا پتہ لکھو۔ ہم صرف دو بوڑھے میاں بیوی گھر پر ہیں اور پانچ چھ چور میرے گیریج پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ جلدی کسی پولیس ٹیم کو بھیجو۔۔۔"

دوسری طرف سے ڈسپیچر کی آواز آئی:

"ہم نے آپ کا پتہ لکھ لیا ہے ۔ بے فکر رہیں۔ ابھی کوئی ٹیم فارغ نہیں۔ جیسے ہی کسی ٹیم سے رابطہ ہوتا ہے میں فوراً بھیجتا ہوں"

بڑے میاں خون کے گھونٹ پی کے رہ گئے۔ نقب زن ابھی تک گیریج کے تالوں سے الجھے ہوئے تھے۔ دو منٹ بعد انہوں نے پھر پولیس اسٹیشن فون کیا:

"سنو۔۔۔اب کسی کو بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ میں نے ان پانچوں کو گولی مار دی ہے۔۔۔"

 

پولیس اسٹیشن میں کھلبلی مچ گئی۔ پانچ منٹ کے اندر اندر پولیس ٹیم ایک ہیلی کاپٹر، ایک پیرا مڈیکس، تین ڈاکٹرز اور دو ایمبولنس کے ساتھ گلی میں نمودار ہوئی۔ جلد ہی ان مجرموں پر قابو پا لیا گیا۔ بعد ازاں ٹیم کا انچارج ٹہلتا ہوا بڑے میاں کے پاس آیا:

"آپ نے تو کہا تھا کہ آپ نے انہیں گولی مار دی ہے؟" 

"اور آپ لوگوں نے بھی تو کہا تھا کہ کوئی ٹیم فارغ نہیں ہے"🚶(کاپی شدہ)


مزید لطائف پڑھنے کے لیے یہاں دبائیں


مزاحیہ لطیفے اردو|ادبی لطیفے  اردو| ادبی لطائف|lateefon ki dunya|Urdu Jokes||urdu latify|mazahiya lateefy|لطیفے ہی لطیفے
مزاحیہ لطیفے اردو|ادبی لطیفے  اردو| ادبی لطائف|lateefon ki dunya|Urdu Jokes||urdu latify|mazahiya lateefy|لطیفے ہی لطیفے 




تمام لطائف کاپی شدہ ہیں سوشل میڈیا اور کتابوں سے ماخوذ



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری