مزاحیہ غزل||زعفرانی شاعری||مجید لاہوری کی بہترین مزاحیہ شاعری||مسٹر فراڈ خان||سیاست کے متعلق اشعار||کھدا نے دیا||بیان اسلام کا||مجھ کو داتا دلا||mazahiya shayari||Majeed Lahori||
زعفرانی شاعری
![]() |
| مزاحیہ غزل||زعفرانی شاعری||مجید لاہوری کی بہترین مزاحیہ شاعری||مسٹر فراڈ خان||سیاست کے متعلق اشعار||کھدا نے دیا||بیان اسلام کا||مجھ کو داتا دلا||mazahiya shayari||Majeed Lahori|| |
مزاحیہ غزل
مجید لاہوری
مرغیوں پر بھی میں کر سکتا ہوں اظہار خیال
اور'' سانڈوں ''پر بھی ہوں محفل میں سر گرم مقال
ہومیو پیتھک ہو یا دندان سازی کا کمال
باغبانی ہو کہ ہو رومی درازی کا کمال
بات پھولوں کی ہو یا قومی ترانے کا بیاں
چاٹ ہو بارہ مسالے کہ ہو اردو زباں
بو علی سینا کی حکمت بات افلاطون کی
''ایگریکلچر'' ہو یا شق ہو کوئی قانون کی
داغ کا دیوان ہو یا ہو وہ'' ایٹم بم'' کا راز
ماہی گیری ہو کہ ربط و ضبط محمود و ایاز
مسئلہ تاریخ کا ہو یا ہو مبحث علم کا
فلسفہ'' گلقند ''کا ہو یا ہو قصہ فلم کا
کشتہ فولاد ہو یا شربت دینار ہو
ہے ضروری سب پر میری رائے کا اظہار ہو
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
شوق ہے دل میں مگر قرآن کی تفسیر کا
جتنے بھی شعبے ہیں ان سب پر ہوں چھایا ہوا
ہوں '' منسٹر'' مستند ہے میرا فرمایا ہوا
مسٹر فراڈ خاں
اے زمین کی پستیو! تم آسماں کو ووٹ دو
خاک کے ذرو! اٹھو اور کہکشاں کو ووٹ دو
مہرباں کو ووٹ دو، نا مہرباں کو ووٹ دو
مختصر یہ ہے کہ دست زرفشاں کو ووٹ دو
''سیٹھ قاروں ''کا ہے پورا خاندان امیدوار
''سیٹھ قاروں جی ''کے پورے خاندان کو ووٹ دو
دوٹ جیسی شے نہیں " کیڑوں مکوڑوں'' کے لئے
سب سے جو اونچا ہو بس تم اس نشاں کو ووٹ دو
ووٹ کا حقدار وہ ہے جو غلط وعدے کرے
''فور ٹونٹی ''کو مسٹر فراڈ خاں کو ووٹ دو
تین میں سے ایک تو دو ووٹ "کالے چور ''کو
خواہ اس کے بعد تم سارے جہاں کو ووٹ دو
آج کل گلیوں میں لونڈے گارہے ہیں مجید
ڈال ڈڈاں ڈاں، ڈاں ڈڈاں ڈاں، ڈاں ڈ ڈاں ڈاں کو ووٹ دو
''کھدا نے دیا''
ہم کو دولت یہ سارا ''کھدا'' نے دیا
ہم کو'' اجت'' یہ سارا ''کھدا" نے دیا
ہم نے مٹی کو سونا بنا کر دیا
اس میں ''کھوب" پیسہ'' کھدا" نے دیا
'' بلیک"ہم نے کیا تو یہ ''موٹر'' یہ ''مل"
یہ زمین اور'' بنگلہ '' "کھدا" نے دیا
ہم نے پیسہ لگایا'' ڈبل ٹوٹ'' میں
دولت اس میں بھی اچھا'' کھدا" نے دیا
ہم کو دولت یہ سارا ''کھدا ''نے دیا
ہم کو'' اجت"یہ سارا " کھدا" نے دیا
وہ یہ بولا "صدارت" بڑی "چیج" ہے
اس نے بولا ''وجارت'' بڑی ''چیج" ہے
تم نے بولا "سفارت" بڑی "چیج" ہے
ہم نے بولا دولت" ہے سب سے بڑی
سب نے بولا کہ دولت بڑی'' چیج ''ہے
ہم کو دولت یہ سارا ''کھدا ''نے دیا
ہم کو ''اجت" یہ سارا ''کھدا ''نے دیا
بیان اسلام کا
ذکر یوں تو ہو رہا ہے صبح و شام اسلام کا
ہم میں کتنے ہیں کہ جو کرتے ہیں کام اسلام کا
جوش میں جو لے رہے ہیں آج کام اسلام کا
کام کردیں گے یہی اک دن تمام اسلام کا
عہدہ و منصب سے منزل دور ہے اسلام کا
کرسیوں سے ہے بہت آگے مقام اسلام کا
چور بازاری سے اک لحظہ جنہیں فرصت نہیں
وہ کریں گے خیر سے قائم نظام اسلام کا
میں یہ کہتا ہوں:'' الہی خیر ہو اسلام کی ''
چشم بد دور آپ جب لیتے ہیں نام اسلام کا
سر زمین پاک میں اسلام اب مظلوم ہے
تھا زمانے بھر پہ کل تک فیض اسلام کا
ہیں نگاہ و دل میں کتنے بتکدے پنہاں مجید
اور کہلاتا ہوں میں پھر بھی غلام اسلام کا
مجھ کو داتا دلا
مجھے کو داتا دلا! ہوگا تیرا بھلا! مجھ کو داتا دلا
اے'' پلاٹوں ''کے مالک تیری خیر ہو
اے'' الاٹوں'' کے مالک تیری خیر ہو
کوئی کوٹھی دلا، کوئی بنگلہ دلا
چھاپہ خانه دلا، کار خانه دلا
پمپ پٹرول کا یا سینما دلا
بس نہیں کوئی تو بس کا اڈه دلا
قوم کے نام پر مجھ کو داتا دلا ، ہوگا تیرا بھلا
بام گردوں پہ تیرا ستاره رہے
زندگی میری کیوں بے سہارا رہے
میرے کشکول میں لیڈری ڈال دے
کر'' ٹکٹ ''مرحمت "ممبری" ڈال دے
کوئی ''مل" یا جننگ فیکٹری ڈال دے
کوئی ہوٹل کوئی کمپنی ڈال دے
قوم کے نام پر مجھ کو داتا دلا، ہوگا تیرا بھلا
تجھ کو شاد اور آباد رکھے خدا
خوب چشمہ ہو جاری تری فیض کا
کوئی پرمٹ ملے، کوئی ٹھیکہ ملے
کوئی امپورٹ لائسنس'' اچھا ملے
جاہ کی بھیک، عہدے کا صدقہ ملے
کچھ تو'' مال غنیمت'' میں حصہ ملے
قوم کے نام پر مجھ کو داتا دلا، ہوگا تیرا بھلا

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں