نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

منٹو کی کہانیاں| منٹو خاکہ از اشفاق احمد ورک|Manto Afsanay

 منٹو

منٹو کے متعلق اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔ اس کے حق میں کم اور خلاف زیادہ ۔ یہ تحریریں اگر پیش نظر رکھی جائیں تو کوئی صاحب عقل منٹو کے متعلق کوئی صحیح رائے قائم نہیں کر سکتا۔ میں مضمون لکھنے بیٹھا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ منٹو کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرنا بڑا کٹھن کام ہے لیکن ایک لحاظ سے آسان بھی ہے ۔ اس لیے کہ منٹو سے مجھے قربت کا شرف حاصل رہا ہے اور سچ پوچھیے تو منٹو کا ہم زاد ہوں ۔

اب تک اس شخص کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ۔لیکن میں اتنا سمجھتا ہوں کہ جو کچھ ان مضامین میں پیش کیا گیا ہے حقیقت سے بالا تر ہے ۔ بعض لوگ اسے شیطان کہتے ہی بعض گنجا فرشتہ..... ذرا ٹھہریے میں دیکھ لوں کہیں وہ کم بخت سُن تو نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔

نہیں نہیں ٹھیک ہے ۔ مجھے یاد آ گیا کہ یہ وہ وقت ہے جب وہ پیا کرتا ہے ۔اس کو شام کے چھے بجے کے بعد کڑ واشربت پینے کی عادت ہے ۔ ہم اکٹھے ہی پیدا ہوۓ اور خیال ہے کہ اکٹھے ہی مریں گے لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سعادت حسن مر جائے اور منٹو نہ مرے ، اور ہمیشہ مجھے یہ اندیشہ بہت دکھ دیتا ہے۔ اس لیے میں نے اس کے ساتھ اپنی دوستی نبھانے میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھی ۔ اگر وہ زند در ہا اور میں مر گیا تو ایسا ہو گا کہ انڈے کا خول تو سلامت ہے اور اس کے اندر کی زردی اور سفیدی غائب ہوگئی ہے ۔

اب میں زیادہ تمہید میں جانانہیں چاہتا ۔ آپ سے صاف کہے دیتا ہوں کہ منٹوا یسا ون ٹو  آ دمی میں نے اپنی زندگی میں بھی نہیں دیکھا جسے اگر جمع کیا جاۓ تو وہ تین بن جائے ۔ مثلث کے بارے میں اس کی معلومات کافی ہیں ۔لیکن میں جانتا ہوں کہ ابھی اس کی تثلیث  نہیں ہوئی ۔ یہ اشارے ایسے ہیں جوصرف بافہم سامعین ہی سمجھ سکتے ہیں ۔

یوں تو منٹو کو میں اس کی پیدائش ہی سے جانتا ہوں ۔ ہم دونوں اکٹھے ایک ہی وقت گیارہ مئی ۱۹۱۲ء کو پیدا ہوئے لیکن اس نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ وہ  خود کو کچھوا بنائے رکھے ۔ جو ایک دفعہ اپنا سر اور گردن اندر چھپالے تو آپ لاکھ ڈھونڈتے رہیں ،اس کا سراغ نہ ملے ۔ لیکن میں بھی آخر اس کا ہم زاد ہوں ، میں نے اس کی ہر جنبش کا مطالعہ کر ہی لیا ۔

 

لیجیے! اب میں آپ کو بتا تا ہوں کہ یہ خر ذات افسانہ نگار کیسے بنا؟ تنقید نگار بڑے لمبے چوڑے مضامین لکھتے ہیں ۔اپنی ہمہ دانی کا ثبوت دیتے ہیں ،شوپن ہار ، فرائڈ ، ہیگل، نٹ شے ، مارکس کے حوالے دیتے ہیں مگر حقیقت سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔

منٹو کی افسانہ نگاری دو متضا دعناصر کے تصادم کا نتیجہ ہے ۔ اس کے والد خدا نھیں بخشے ، بڑے سخت گیر تھے اور اس کی والدہ بے حد نرم دل ۔ ان دو پاٹوں کے اندر پس کر یہ دانہ گندم کس شکل میں باہر نکالا ہوگا ، اس کا انداز ہو آپ کر سکتے ہیں ۔

اب میں اس کی اسکول کی زندگی کی طرف آتا ہوں ۔ بہت ذہین لڑ کا تھا اور بے حد شریر ۔ اس زمانے میں اس کا قد زیادہ سے زیادہ ساڑھے تین فٹ ہو گا ۔ وہ اپنے باپ کا آخری بچہ تھا ۔ اس کو اپنے ماں باپ کی محبت تو میسر تھی لیکن اس کے تین بڑے بھائی جو عمر میں اس سے بہت بڑے تھے اور ولایت میں تعلیم پارہے تھے ان سے اس کو کبھی ملاقات کا موقع ہی نہیں ملا تھا ۔ اس لیے کہ وہ سوتیلے تھے ۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اس سے ملیں ۔اس سے بڑے بھائیوں ایسا سلوک کر یں ۔ لیکن یہ سلوک اسے اس وقت نصیب ہوا جب دنیاۓ ادب اسے بہت بڑا افسانہ نگار تسلیم کر چکی تھی ۔

اچھا اب اس کی افسانہ نگاری کے متعلق سینے ! وہ اول درجے کا فراڈ ہے ۔ پہلا افسا نہ اس نے بعنوان'' تماشا‘' لکھا ، جو جلیا نوالہ باغ کے خونیں حادثہ سے متعلق تھا۔ یہ اس نے اپنے نام سے نہ چھپوایا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پولیس کی دست برد سے  بچ گیا ۔

اس کے بعد اس کے متلون مزاج میں ایک لہر پیدا ہوئی کہ وہ مزید تعلیم حاصل کرے ، یہاں اس کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ اس نے انٹرنس کا امتحان دو بار فیل ہو کر پاس کیا تھا ، وہ بھی تھرڈڈویژن میں ۔ اور آپ کو یہ سن کر بھی حیرت ہوگی کہ وہ اردو کے پرچے میں نا کام رہا۔ اب لوگ کہتے ہیں کہ وہ اُردو کا بہت بڑا ادیب ہے ، اور میں یہ سن کر ہنستا ہوں ۔اس لیے کہ اردو اب بھی اسے نہیں آتی ۔ وہ لفظوں کے پیچھے یوں بھاگتا ہے جیسے کوئی جالی شکاری تتلیوں کے پیچھے ۔ وہ اس کے ہاتھ نہیں آ تیں ، یہی وجہ ہے کہ اس کی تحریروں میں خوبصورت الفاظ کی کمی ہے ۔ وہ لٹھ مار ہے ۔ لیکن جتنے لٹھ اس کی گردن پر پڑے ہیں اس نے بڑی خوشی سے برداشت کیے ہیں ۔ اس کی لٹھ بازی عام محاورے کے مطابق جاٹوں کی لٹھ بازی نہیں ہے ۔ وہ بنوٹ اور پھکیت ہے ۔ وہ ایک ایسا انسان ہے جو صاف اور سیدھی سڑک پر نہیں چلتا ۔ بلکہ تنے ہوئے رسے پر چلتا ہے ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب گرا ، اب گرا.......... لیکن وہ کم بخت آج تک کبھی نہیں گرا .......... شایدگر جاۓ اوند ھے منہ .......... کہ پھر نہ اٹھے۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ مرتے وقت وہ لوگوں سے کہے گا

کہ میں اس لیے گراتھا کہ گراوٹ کی مایوسی ختم ہو جائے۔

میں اس سے پیشتر کہہ چکا ہوں کہ منٹو اول درجے کا فراڈ ہے ۔اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ وہ اکثر کہا کرتا ہے کہ وہ افسانہ نہیں سوچتا ،خودافسانہ اسے سوچتا ہے ۔ یہ بھی ایک فراڈ ہے ۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ جب اسے افسانہ لکھنا ہوتا ہے تو اس کی وہی حالت ہوتی ہے جب کسی مرغی کو انڈا دینا ہوتا ہے لیکن وہ انڈا کہیں چھپ کر نہیں دیتا۔ سب کے سامنے دیتا ہے ۔ اس کے دوست یار بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اس کی تین بچیاں شور مچا رہی ہوتی ہیں اور وہ اپنی مخصوص کرسی پر اکڑوں بیٹھا انڈے دیے جا تا ہے ۔ جو بعد میں چوں چوں کرتے افسانے بن جاتے ہیں ۔ اس کی بیوی اس سے بہت نالاں ہے وہ اس سے اکثر کہا کرتی ہے کہ تم افسانہ نگاری چھوڑد و..... کوئی دکان کھول لو ۔ لیکن منٹو کے دماغ میں جو دکان کھلی ہے اس میں منیاری کے سامان سے کہیں زیادہ سامان موجود ہے ، اس لیے وہ اکثر سوچا کرتا ہے اگر میں نے کبھی کوئی اسٹور کھول لیا تو ایسا نہ ہو کہ وہ کولڈ اسٹوریج یعنی سردخانہ بن جاۓ ، جہاں اس کے تمام خیالات اور افکار منجمد ہو جائیں ۔ میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ منٹو مجھ سے خفا ہو جاۓ گا ۔اس کی ہر چیز برداشت کی جاسکتی ہے لیکن خفگی نہیں کی جاسکتی ۔ خفگی کے عالم میں وہ بالکل شیطان بن جا تا ہے لیکن صرف چند منٹوں کے لیے ۔ اور وہ چند منٹ اللہ کی پناہ .. افسانہ لکھنے کے معاملہ میں وہ نخرے ضرور بگھارتا ہے لیکن میں جانتا ہوں اس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ

اس کا ہم زاد ہوں۔۔۔۔۔کہ وہ فراڈ کر رہا ہے.......... اس نے ایک دفعہ خود لکھا تھا کہ اس کی جیب میں بے شمار افسانے پڑے ہوتے ہیں ۔ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ جب اسے افسانہ لکھنا ہوگا تو وہ رات کو سوچے گا ۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا ۔ صبح پانچ بجے اٹھے گا اور اخباروں سے کسی افسانے کا رس چوسنے کا خیال کرے گا لیکن اسے نا کامی ہوگی ، پھر وہ غسل خانے میں جاۓ گا ، وہاں وہ اپنے شورید و سر کوٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے گا کہ وہ  سو چنے کے قابل ہو سکے لیکن نا کام رہے گا ، پھر جھنجھلا کراپنی بیوی سے خواہ مخواو کا جھگڑا شروع کر دے گا۔ یہاں سے بھی ناکامی ہوگی تو پان لینے کے لیے چلا جاۓ گا ، پان اس کی ٹیبل پر پڑا ر ہے گا لیکن افسانے کا موضوع اس کی سمجھ میں پھر بھی نہیں آۓ گا۔ آخر وہ انتقامی طور پرقلم یا پنسل ہاتھ میں لے گا اور ۷۸۶ لکھ کر جو پہلا فقر واس کے ذہن میں آۓگا اس سے افسانے کا آغاز کر دے گا۔

بابو گوپی ناتھ ،ٹو بہ ٹیک سنگھ ،ہتک ،ممی ،موذیل ، یہ سب افسانے اس نے اس فراڈ طریقہ سے لکھے ہیں ۔ یہ عجیب بات ہے کہ لوگ اسے بڑا غیر مذہبی اور فخش انسان سمجھتے ہیں اور میرا بھی خیال ہے که  وہ کسی حد تک اس درجہ میں آتا ہے ۔ اس لیے کہ اکثر اوقات وہ بڑے گندے موضوعات پر قلم اٹھا تا ہے اور ایسے الفاظ اپنی تحریر میں استعمال کرتا ہے جن پر اعتراض کی گنجائش بھی ہوسکتی ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ جب بھی اس نے کوئی مضمون لکھا ، پہلے صفحے کی پیشانی پر ۷۸۶ ضرور لکھا جس کا مطلب ہے، بسم اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ شخص  جواکثر خدا سے منکر نظر آ تا ہےکاغذ پر مومن بن جاتا ہے، پر وہ کاغذی منٹو ہے جسے آپ کاغذی باداموں کی طرح صرف انگلیوں ہی میں توڑ سکتے ہیں۔

ور نہ وہ لوہے کے ہتھوڑے سے بھی ٹوٹنے والا آدمی نہیں ۔ اب میں منٹو کی شخصیت کی طرف آتا ہوں جو چند الفاظ میں بیان کیے دیتا ہوں ۔ وہ چور ہے ۔۔۔۔۔۔جھوٹا ہے ۔۔۔۔۔۔۔دغا باز ہے اور مجمع گیر ہے۔ اس نے اکثر بیوی کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی کئی سوروپے اڑاۓ ہیں ۔ ادھر آ ٹھ سولا کے دیے اور چور آ نکھ دیکھتا رہا کہ اس نے کہاں رکھے ہیں ؟ اور دوسرے دن ان میں سے ایک سبزہ غائب کر دیا ۔ اور اس بیچاری کو جب اپنے نقصان کی خبر ہوئی تو اس نے نوکروں کو ڈانٹا ڈ پٹنا

شروع کر دیا۔ یوں تو منٹو کے متعلق مشہور ہے کہ وہ راست گو ہے لیکن میں اس سے اتفاق کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ وہ اول درجے کا جھوٹا ہے۔ شروع شروع میں اس کا جھوٹ اس کے گھر چل جا تا تھا، اس لیے کہ اس میں منٹو کا ایک خاص پیچ ہوتا تھا لیکن بعد میں اس کی بیوی کو معلوم ہو گیا کہ اب تک مجھ سے خاص معاملہ کے مطابق جو کچھ کہا جا تا تھا .. ........ جھوٹ تھا۔منٹو جھوٹ بقدر کفایت بولتا ہے لیکن اس کے گھر والے ، مصیبت ہے کہ اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اس کی ہر بات جھوٹی ہے۔ اس تل کی طرح جو کسی عورت نے اپنے گال پر سر مے سے بنارکھا ہو ۔

وہ ان پڑھ ہے ، اس لحاظ سے کہ اس نے کبھی مارکس کا مطالعہ نہیں کیا۔ فرائڈ کی کوئی کتاب آج تک اس کی نظر سے نہیں گزری ۔ ہیگل کا وہ صرف نام ہی جانتا ہے ۔ ہیولک ایلس کو وہ صرف نام سے جانتا ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ لوگ ۔۔۔۔ میرا مطلب ہے تنقید نگار یہ کہتے ہیں کہ وہ ان تمام مفکروں سے متاثر ہے ۔ جہاں تک میں جانتا ہوں ،منٹو  کسی دوسرے شخص کے خیال سے متاثر ہوتا ہی نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ سمجھانے والے سب چغد ہیں ۔ دنیا کوسمجھا نہیں چا ہیے ۔ اسکو خود سمجھنا چاہیے ۔ خود کو سمجھا سمجھا کر وہ ایک ایسی سمجھ بن گیا ہے جو عقل وفہم سے بالا تر ہے ۔ بعض اوقات ایسی اوٹ پٹانگ باتیں کرتا ہے کہ مجھے ہنستی آتی ہے ۔

 

میں آپ کو پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ منٹو، جس پر فحش نگاری کے سلسلے میں کئی مقدمے چل چکے ہیں ، بہت 

طہارت پسند ہے لیکن میں یہ بھی کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ وہ ایک ایساپا انداز ہے جو خود کو جھاڑتا پھٹکتا رہتا ہے ۔

منٹو||سعادت حسن منٹو کا خاکہ||ڈاکٹر اشفاق احمد||اردو کے مشہور خاکے||خود ستائیاں||Saadat Hassan Manto||Manto||Dr Ishfaq Ahmad Virk
منٹو کی کہانیاں| منٹو خاکہ از اشفاق احمد ورک|Manto Afsanay



مرتب :ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مجموعہ :خود ستائیاں [کتاب سرائے ]

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات از قیصر شہزاد ساقیؔ||mother Day||ماں کی وفات پر ایک نظم |Qaisar Shahzad Saqi

  عنوان:    رات ماں ! وہ کالی رات جس کے بعد سویرا نہ ہوا۔۔۔۔۔ جس کے نقش یادوں کے پارہ پارہ وجود سے آج تک نہ مٹ پائے اس رات تقدیر تاریکی کے پیراہن میں تیرے سرہانے کھڑی تھی میں خاموش تماشائی مصلحت کی عینک سے ان ہاتھوں کو جنھوں نے ہزاروں خواہشوں لاکھوں آرزؤں پر مٹی ڈالی تھی تیری اور بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا (بے بس،ڈرپوک دہن ساکت جیسے خواب میں موت کو سامنے دیکھ کے لب نہ ہلیں آواز کہیں سینے سے بھی نیچے دب جائےقدم اٹھنے سے انکار کر دیں اور بازو نیم مردہ ہو کے لڑھک جائیں ) میری ماں ! اس رات کتنا سکوت تھا جیسے ہم ٹھہری ڈوریوں پہ سہمے پتلے اور موت تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔   نوٹ:یہ نظم اس سے پہلے سہ ماہی "فن زاد"اور آن لائن رسالہ "سمت" میں شائع ہو چکی ہے 

نظم ’’ کہانی‘‘ از قیصر شہزاد ساقی ||Kahani nazm az Qaisar Shahzad Saqi

کہانی                                                                                                                                                                                                                                                         ...

دستور نظم حبیب جالب||dastoor habib jalib||habib jalib main nahi manta

فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ایک آئین نافذ کیا   جو فرد واحد کے اقتدار کو بچانے اور اس کی طاقت کے دوام کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔اس آئین کے جواب میں حبیب جالب ؔ جو شاعر عوام و جمہور تھے  اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے تھے  نظم ’’ دستور ‘‘ لکھی   یہ نظم اس دور میں اتنی مقبول ہوئی کہ کسی نے ایوب خان سے کہا ’’ تمھارا  آئین  نافذ نہیں  ہو سکا ایک کمرے میں رہنے والا  ایک غریب سا شاعر اس آئین سے جیت گیا ہے  ‘‘ یہ نظم آج بھی ظلم و جبر اور انسانی آوازوں کے دبانے پر یاد کی جاتی ہے یہ  جمہور کی آزادی اور مزاحمت کا استعارہ ہے ۔ نظم پڑھیں دستور حبیب جالب دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا Deep jis ka mehlaat hi mein jale Chand logon ki khushiyon ko le kar chale Woh jo saaye mein har maslihat ke pale Aise dastoor ko subah be-noor ko Main nahin m...

تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations

   لیکچر نمبر:۶ تصانیف اقبال کا تعارف||Iqbal's Poetry books||اقبال کی تمام کتابیں||اقبال کی  مشہور کتابیں||muhammad iqbal books||Iqbals books and Explanations ڈاکٹر محمد قمر اقبال کا حضرت اقبال کی تصنیفات پر مفصل اور تحقیقی لیکچر  علامہ اقبال کی مشہور تصانیف تصانیف اقبال کا تعارف ۲۴۔اکتوبر ۲۰۲۱ء بزم فکر  اقبال پاکستان کے صدر جناب  پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے ۲۴۔ اکتوبر کو اقبال کی تصنیفات کے بارے میں ایک مبسوط لیکچر فراہم کیا جس میں اقبال کی تصنیفات کو ان کے سال اشاعت کی ترتیب سے شرکاء  کے گوش گزار کیا گیا۔یہ لیکچر معلوماتی سطح کا تھا فکر اقبال کے طالب علموں کو اقبال کی  فکر کے سرچشموں سے کماحقہ  آگاہ ہونا چاہیے اوریہ لیکچر اس سلسلے میں بھر پور معاونت فراہم کرتا ہے اقبال کی شاعری کی کتب ،نثری کتب ،تراجم اوران کے بعد مرتبہ کتب جو ان کی وفات کے بعد اکٹھی کی گئیں سب اس لیکچر میں جمع کر دی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی حوالہ جاتی کتب بھی قارئین کو لکھوا دی گئی ہیں اپنے مشمولات کے لحاظ سے یہ لیکچر کافی اہم ہے جس میں اقبال کی کتابیات تیار ہو گئی ہے ۔ڈاک...

himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب

غزل ہمانشی بابرہ himanshi babra poetry|dukhi ghazal||ہمانشی بابرہ کی غزل انتخاب  لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں   ہم کو دنیا نے لکڑ ہارا سمجھ رکھا ہے ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں   تم تو پھر غیر ہو تم سے تو پھر شکایت کیسی میرے اپنے مجھے غیروں کی طرح دیکھتے ہیں تیرا دیدار قضا ہوتا نہیں ہے ہم سے ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل   میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا لوٹ  کے آیا نہیں چھوڑ  کے جانے والا   پیار کے ساتھ مجھے طعنے دیا کرتا ہے  تجھ میں بھی رنگ ہے کچھ کچھ زمانے والا   ایسے بچھڑا ہے کہ ملنے کی  دعا کرتا ہے ہر ملاقات پہ منہ پھیرکے  جانے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   غزل     ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسا تونے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے   اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے    بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے تمانچا    تو نے   ...

Mahnoor Rana Best Ghazal||Urdu Best Emotional Ghazal||اردو کی بہترین غزل ||ماہ نور رانا کی شاعری

   غزل       ماہ نور رانا آدمی اپنے ہی اندر جست بھر پاتا ہے کیا؟ اور اگر بھر لے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے کیا؟ Admi apny hi andar jast bhar pata hai kia? Aur agar bhar lay phr who lot kar aata hai kia? پیاس کے ماروں سے کوئی اوک بھرواتا ہے کیا؟ خیر ان باتوں سے تجھ کم فہم کا ناتا ہے کیا؟ Piyas k maroon se koi ook bharwata hai kia? Khair in baton se tujh kam fahm ka nata hai kia? واقعہ دہرا    رہی ہوتی ہے جب یہ داستاں اس سمے راقم    بھی اپنا آپ دہراتا ہےکیا ؟ Waqia duhra rahi hoti hai jb ye dastan Us samay raqim bhi apna ap duhrata hai kia? یہ جو میرے خون کی گلکاریاں ہیں خاک پر ان کا سہرا بھی میرے قاتل کے سر جاتا ہے کیا؟ Ye jo mery khon ki gulkarian hain khak par In ka sehra bhi mery qatil k sar hai kia??? فکر کا یہ جانور پالا ہوا ہے شوق سے کیا بتائیں اب تمھیں پیتا ہے کیا کھاتا ہے کیا؟ Fikr ka ye janwar pala hua hai shouq se Kia batayen ab tmhin peeta hai kia , khata hai kia? کھیلتے ہیں اس سگ افکار سے ہم رات دن گیند پھینک کر   ...

2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری

  اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر عادی فنا کا تھا    تو پجاری بقا کا تھا احمد ندیم قاسمی Utha ajab tazad se insan    ka khameer Adi fana ka tha to pujari baqa ka tha Ahmad Nadeem  Qasmi اداسیوں کا سبب کیا    کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں    تو ہوتی ہیں احمد فراز Udasion ka sabab kia kahin bajuz is ky Ye zindagi hai preshanian to hoti hain Ahmad Faraz خود کو ترتیب دیا از سرِ نو زندگی میں ترا انکار بہت کام آیا Khud ko tarteeb dia az sar-e-nau Zindagi main tira inkar bht kam aya مرنا تو اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں اس دور ِ ناگوار میں جینا کمال ہے حسنی Marna to is jahan main koi hadsa nhi Is dor-e-Nagawar main jeena  kamal hai 2 line urdu poetry copy paste|urdu poetry love|2 line urdu poetry copy paste love|شعر|اردو شاعری زندگی||دو لائن اردو شاعری