منٹو
منٹو کے متعلق اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔ اس کے حق میں کم اور خلاف زیادہ ۔ یہ تحریریں اگر پیش نظر رکھی جائیں تو کوئی صاحب عقل منٹو کے متعلق کوئی صحیح رائے قائم نہیں کر سکتا۔ میں مضمون لکھنے بیٹھا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ منٹو کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرنا بڑا کٹھن کام ہے لیکن ایک لحاظ سے آسان بھی ہے ۔ اس لیے کہ منٹو سے مجھے قربت کا شرف حاصل رہا ہے اور سچ پوچھیے تو منٹو کا ہم زاد ہوں ۔
اب تک اس شخص کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ۔لیکن میں اتنا سمجھتا ہوں کہ جو کچھ ان مضامین میں پیش کیا گیا ہے حقیقت سے بالا تر ہے ۔ بعض لوگ اسے شیطان کہتے ہی بعض گنجا فرشتہ..... ذرا ٹھہریے میں دیکھ لوں کہیں وہ کم بخت سُن تو نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔
نہیں نہیں ٹھیک ہے ۔ مجھے یاد آ گیا کہ یہ وہ وقت ہے جب وہ پیا کرتا ہے ۔اس کو شام کے چھے بجے کے بعد کڑ واشربت پینے کی عادت ہے ۔ ہم اکٹھے ہی پیدا ہوۓ اور خیال ہے کہ اکٹھے ہی مریں گے لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سعادت حسن مر جائے اور منٹو نہ مرے ، اور ہمیشہ مجھے یہ اندیشہ بہت دکھ دیتا ہے۔ اس لیے میں نے اس کے ساتھ اپنی دوستی نبھانے میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھی ۔ اگر وہ زند در ہا اور میں مر گیا تو ایسا ہو گا کہ انڈے کا خول تو سلامت ہے اور اس کے اندر کی زردی اور سفیدی غائب ہوگئی ہے ۔
اب میں زیادہ تمہید میں جانانہیں چاہتا ۔ آپ سے صاف کہے دیتا ہوں کہ منٹوا یسا ون ٹو آ دمی میں نے اپنی زندگی میں بھی نہیں دیکھا جسے اگر جمع کیا جاۓ تو وہ تین بن جائے ۔ مثلث کے بارے میں اس کی معلومات کافی ہیں ۔لیکن میں جانتا ہوں کہ ابھی اس کی تثلیث نہیں ہوئی ۔ یہ اشارے ایسے ہیں جوصرف بافہم سامعین ہی سمجھ سکتے ہیں ۔
یوں تو منٹو کو میں اس کی پیدائش ہی سے جانتا ہوں ۔ ہم دونوں اکٹھے ایک ہی وقت گیارہ مئی ۱۹۱۲ء کو پیدا ہوئے لیکن اس نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ وہ خود کو کچھوا بنائے رکھے ۔ جو ایک دفعہ اپنا سر اور گردن اندر چھپالے تو آپ لاکھ ڈھونڈتے رہیں ،اس کا سراغ نہ ملے ۔ لیکن میں بھی آخر اس کا ہم زاد ہوں ، میں نے اس کی ہر جنبش کا مطالعہ کر ہی لیا ۔
لیجیے! اب میں آپ کو بتا تا ہوں کہ یہ خر ذات افسانہ نگار کیسے بنا؟ تنقید نگار بڑے لمبے چوڑے مضامین لکھتے ہیں ۔اپنی ہمہ دانی کا ثبوت دیتے ہیں ،شوپن ہار ، فرائڈ ، ہیگل، نٹ شے ، مارکس کے حوالے دیتے ہیں مگر حقیقت سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔
منٹو کی افسانہ نگاری دو متضا دعناصر کے تصادم کا نتیجہ ہے ۔ اس کے والد خدا نھیں بخشے ، بڑے سخت گیر تھے اور اس کی والدہ بے حد نرم دل ۔ ان دو پاٹوں کے اندر پس کر یہ دانہ گندم کس شکل میں باہر نکالا ہوگا ، اس کا انداز ہو آپ کر سکتے ہیں ۔
اب میں اس کی اسکول کی زندگی کی طرف آتا ہوں ۔ بہت ذہین لڑ کا تھا اور بے حد شریر ۔ اس زمانے میں اس کا قد زیادہ سے زیادہ ساڑھے تین فٹ ہو گا ۔ وہ اپنے باپ کا آخری بچہ تھا ۔ اس کو اپنے ماں باپ کی محبت تو میسر تھی لیکن اس کے تین بڑے بھائی جو عمر میں اس سے بہت بڑے تھے اور ولایت میں تعلیم پارہے تھے ان سے اس کو کبھی ملاقات کا موقع ہی نہیں ملا تھا ۔ اس لیے کہ وہ سوتیلے تھے ۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اس سے ملیں ۔اس سے بڑے بھائیوں ایسا سلوک کر یں ۔ لیکن یہ سلوک اسے اس وقت نصیب ہوا جب دنیاۓ ادب اسے بہت بڑا افسانہ نگار تسلیم کر چکی تھی ۔
اچھا اب اس کی افسانہ نگاری کے متعلق سینے ! وہ اول درجے کا فراڈ ہے ۔ پہلا افسا نہ اس نے بعنوان'' تماشا‘' لکھا ، جو جلیا نوالہ باغ کے خونیں حادثہ سے متعلق تھا۔ یہ اس نے اپنے نام سے نہ چھپوایا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پولیس کی دست برد سے بچ گیا ۔
اس کے بعد اس کے متلون مزاج میں ایک لہر پیدا ہوئی کہ وہ مزید تعلیم حاصل کرے ، یہاں اس کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ اس نے انٹرنس کا امتحان دو بار فیل ہو کر پاس کیا تھا ، وہ بھی تھرڈڈویژن میں ۔ اور آپ کو یہ سن کر بھی حیرت ہوگی کہ وہ اردو کے پرچے میں نا کام رہا۔ اب لوگ کہتے ہیں کہ وہ اُردو کا بہت بڑا ادیب ہے ، اور میں یہ سن کر ہنستا ہوں ۔اس لیے کہ اردو اب بھی اسے نہیں آتی ۔ وہ لفظوں کے پیچھے یوں بھاگتا ہے جیسے کوئی جالی شکاری تتلیوں کے پیچھے ۔ وہ اس کے ہاتھ نہیں آ تیں ، یہی وجہ ہے کہ اس کی تحریروں میں خوبصورت الفاظ کی کمی ہے ۔ وہ لٹھ مار ہے ۔ لیکن جتنے لٹھ اس کی گردن پر پڑے ہیں اس نے بڑی خوشی سے برداشت کیے ہیں ۔ اس کی لٹھ بازی عام محاورے کے مطابق جاٹوں کی لٹھ بازی نہیں ہے ۔ وہ بنوٹ اور پھکیت ہے ۔ وہ ایک ایسا انسان ہے جو صاف اور سیدھی سڑک پر نہیں چلتا ۔ بلکہ تنے ہوئے رسے پر چلتا ہے ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب گرا ، اب گرا.......... لیکن وہ کم بخت آج تک کبھی نہیں گرا .......... شایدگر جاۓ اوند ھے منہ .......... کہ پھر نہ اٹھے۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ مرتے وقت وہ لوگوں سے کہے گا
کہ میں اس لیے گراتھا کہ گراوٹ کی مایوسی ختم ہو جائے۔
میں اس سے پیشتر کہہ چکا ہوں کہ منٹو اول درجے کا فراڈ ہے ۔اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ وہ اکثر کہا کرتا ہے کہ وہ افسانہ نہیں سوچتا ،خودافسانہ اسے سوچتا ہے ۔ یہ بھی ایک فراڈ ہے ۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ جب اسے افسانہ لکھنا ہوتا ہے تو اس کی وہی حالت ہوتی ہے جب کسی مرغی کو انڈا دینا ہوتا ہے لیکن وہ انڈا کہیں چھپ کر نہیں دیتا۔ سب کے سامنے دیتا ہے ۔ اس کے دوست یار بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اس کی تین بچیاں شور مچا رہی ہوتی ہیں اور وہ اپنی مخصوص کرسی پر اکڑوں بیٹھا انڈے دیے جا تا ہے ۔ جو بعد میں چوں چوں کرتے افسانے بن جاتے ہیں ۔ اس کی بیوی اس سے بہت نالاں ہے وہ اس سے اکثر کہا کرتی ہے کہ تم افسانہ نگاری چھوڑد و..... کوئی دکان کھول لو ۔ لیکن منٹو کے دماغ میں جو دکان کھلی ہے اس میں منیاری کے سامان سے کہیں زیادہ سامان موجود ہے ، اس لیے وہ اکثر سوچا کرتا ہے اگر میں نے کبھی کوئی اسٹور کھول لیا تو ایسا نہ ہو کہ وہ کولڈ اسٹوریج یعنی سردخانہ بن جاۓ ، جہاں اس کے تمام خیالات اور افکار منجمد ہو جائیں ۔ میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ منٹو مجھ سے خفا ہو جاۓ گا ۔اس کی ہر چیز برداشت کی جاسکتی ہے لیکن خفگی نہیں کی جاسکتی ۔ خفگی کے عالم میں وہ بالکل شیطان بن جا تا ہے لیکن صرف چند منٹوں کے لیے ۔ اور وہ چند منٹ اللہ کی پناہ .. افسانہ لکھنے کے معاملہ میں وہ نخرے ضرور بگھارتا ہے لیکن میں جانتا ہوں اس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ
اس کا ہم زاد ہوں۔۔۔۔۔کہ وہ فراڈ کر رہا ہے.......... اس نے ایک دفعہ خود لکھا تھا کہ اس کی جیب میں بے شمار افسانے پڑے ہوتے ہیں ۔ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ جب اسے افسانہ لکھنا ہوگا تو وہ رات کو سوچے گا ۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا ۔ صبح پانچ بجے اٹھے گا اور اخباروں سے کسی افسانے کا رس چوسنے کا خیال کرے گا لیکن اسے نا کامی ہوگی ، پھر وہ غسل خانے میں جاۓ گا ، وہاں وہ اپنے شورید و سر کوٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے گا کہ وہ سو چنے کے قابل ہو سکے لیکن نا کام رہے گا ، پھر جھنجھلا کراپنی بیوی سے خواہ مخواو کا جھگڑا شروع کر دے گا۔ یہاں سے بھی ناکامی ہوگی تو پان لینے کے لیے چلا جاۓ گا ، پان اس کی ٹیبل پر پڑا ر ہے گا لیکن افسانے کا موضوع اس کی سمجھ میں پھر بھی نہیں آۓ گا۔ آخر وہ انتقامی طور پرقلم یا پنسل ہاتھ میں لے گا اور ۷۸۶ لکھ کر جو پہلا فقر واس کے ذہن میں آۓگا اس سے افسانے کا آغاز کر دے گا۔
بابو گوپی ناتھ ،ٹو بہ ٹیک سنگھ ،ہتک ،ممی ،موذیل ، یہ سب افسانے اس نے اس فراڈ طریقہ سے لکھے ہیں ۔ یہ عجیب بات ہے کہ لوگ اسے بڑا غیر مذہبی اور فخش انسان سمجھتے ہیں اور میرا بھی خیال ہے که وہ کسی حد تک اس درجہ میں آتا ہے ۔ اس لیے کہ اکثر اوقات وہ بڑے گندے موضوعات پر قلم اٹھا تا ہے اور ایسے الفاظ اپنی تحریر میں استعمال کرتا ہے جن پر اعتراض کی گنجائش بھی ہوسکتی ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ جب بھی اس نے کوئی مضمون لکھا ، پہلے صفحے کی پیشانی پر ۷۸۶ ضرور لکھا جس کا مطلب ہے، بسم اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ شخص جواکثر خدا سے منکر نظر آ تا ہےکاغذ پر مومن بن جاتا ہے، پر وہ کاغذی منٹو ہے جسے آپ کاغذی باداموں کی طرح صرف انگلیوں ہی میں توڑ سکتے ہیں۔
ور نہ وہ لوہے کے ہتھوڑے سے بھی ٹوٹنے والا آدمی نہیں ۔ اب میں منٹو کی شخصیت کی طرف آتا ہوں جو چند الفاظ میں بیان کیے دیتا ہوں ۔ وہ چور ہے ۔۔۔۔۔۔جھوٹا ہے ۔۔۔۔۔۔۔دغا باز ہے اور مجمع گیر ہے۔ اس نے اکثر بیوی کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی کئی سوروپے اڑاۓ ہیں ۔ ادھر آ ٹھ سولا کے دیے اور چور آ نکھ دیکھتا رہا کہ اس نے کہاں رکھے ہیں ؟ اور دوسرے دن ان میں سے ایک سبزہ غائب کر دیا ۔ اور اس بیچاری کو جب اپنے نقصان کی خبر ہوئی تو اس نے نوکروں کو ڈانٹا ڈ پٹنا
شروع کر دیا۔ یوں تو منٹو کے متعلق مشہور ہے کہ وہ راست گو ہے لیکن میں اس سے اتفاق کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ وہ اول درجے کا جھوٹا ہے۔ شروع شروع میں اس کا جھوٹ اس کے گھر چل جا تا تھا، اس لیے کہ اس میں منٹو کا ایک خاص پیچ ہوتا تھا لیکن بعد میں اس کی بیوی کو معلوم ہو گیا کہ اب تک مجھ سے خاص معاملہ کے مطابق جو کچھ کہا جا تا تھا .. ........ جھوٹ تھا۔منٹو جھوٹ بقدر کفایت بولتا ہے لیکن اس کے گھر والے ، مصیبت ہے کہ اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اس کی ہر بات جھوٹی ہے۔ اس تل کی طرح جو کسی عورت نے اپنے گال پر سر مے سے بنارکھا ہو ۔
وہ ان پڑھ ہے ، اس لحاظ سے کہ اس نے کبھی مارکس کا مطالعہ نہیں کیا۔ فرائڈ کی کوئی کتاب آج تک اس کی نظر سے نہیں گزری ۔ ہیگل کا وہ صرف نام ہی جانتا ہے ۔ ہیولک ایلس کو وہ صرف نام سے جانتا ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ لوگ ۔۔۔۔ میرا مطلب ہے تنقید نگار یہ کہتے ہیں کہ وہ ان تمام مفکروں سے متاثر ہے ۔ جہاں تک میں جانتا ہوں ،منٹو کسی دوسرے شخص کے خیال سے متاثر ہوتا ہی نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ سمجھانے والے سب چغد ہیں ۔ دنیا کوسمجھا نہیں چا ہیے ۔ اسکو خود سمجھنا چاہیے ۔ خود کو سمجھا سمجھا کر وہ ایک ایسی سمجھ بن گیا ہے جو عقل وفہم سے بالا تر ہے ۔ بعض اوقات ایسی اوٹ پٹانگ باتیں کرتا ہے کہ مجھے ہنستی آتی ہے ۔
میں آپ کو پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ منٹو، جس پر فحش نگاری کے سلسلے میں کئی مقدمے چل چکے ہیں ، بہت
طہارت پسند ہے لیکن میں یہ بھی کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ وہ ایک ایساپا انداز ہے جو خود کو جھاڑتا پھٹکتا رہتا ہے ۔
![]() |
| منٹو کی کہانیاں| منٹو خاکہ از اشفاق احمد ورک|Manto Afsanay |
مرتب :ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مجموعہ :خود ستائیاں [کتاب سرائے ]

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں